Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Tameer-e-Insaniyat
Tameer-e-Insaniyat

Dono halaton me sabr

Urdu · 3 min

دونوں حالتوں میں صبر۔ حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "أجبت من قضاء الله عز وجل للمؤمن إن أصابه خير حمد ربه وشكر، وإن أصابته مصيبة حمد ربه وصبر؛ المؤمن يؤجر في كل شيء." مسند احمد، حدیث نمبر 1486۔ یعنی مومن کے معاملے میں اللہ کا فیصلہ کیسا عجیب ہے: اگر اس کو بھلائی پہنچتی ہے تو وہ حمد کرتا ہے اور شکر کرتا ہے، اور اگر اس کو کوئی مصیبت پڑتی ہے تو وہ حمد کرتا ہے اور صبر کرتا ہے۔ اس طرح مومن کو ہر چیز میں اجر ملتا رہتا ہے۔

مومن سے مراد وہ انسان ہے جس کا شعور پوری طرح بیدار ہو چکا ہو، جس کی سوچ اس حد تک ترقی کر چکی ہو کہ وہ ہر پیش آنے والی صورتحال پر مثبت جواب، یعنی positive response، دے سکے۔ وہ قریبی حالات سے اوپر اٹھ کر حقائق کو دیکھنے والا بن چکا ہو۔ یہی وہ انسان ہے جس کا ذکر اوپر کی حدیث میں کیا گیا ہے۔ ایسے انسان کا حال یہ ہوتا ہے کہ اس کو کوئی پسندیدہ چیز حاصل ہوتی ہے تو وہ اس غلط فہمی میں نہیں پڑتا کہ اس کی اپنی کوشش کا نتیجہ ہے، بلکہ وہ سمجھتا ہے کہ یہ خدا کے قائم کردہ نظام کی بنا پر ممکن ہوا ہے۔

یہ چیز اس کو حقیقت پسند بناتی ہے اور اس کو نظامِ خداوندی کا اعتراف کرنے پر مجبور کرتی ہے۔ اسی طرح اگر اس کو کوئی ناخوشگوار تجربہ پیش آئے، تب بھی اس کا ترقی یافتہ شعور اس بات کی ضمانت بن جاتا ہے کہ اس کا ذہنی سکون نہ ٹوٹے۔ وہ فریاد یا شکایات کے بجائے صبر و تحمل کے ساتھ اس کا سامنا کرے۔ موجودہ زمانے میں یہ مزاج آدمی کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ہے۔

اس کی بنا پر یہ ممکن ہوتا ہے کہ حالات کے اتار چڑھاؤ کے باوجود وہ ہمیشہ اعتدال پر قائم رہے۔ وہ ہر "نہیں" میں اپنے لیے ایک "ہے" کا راز دریافت کر لے۔ اس کی زندگی کبھی تعطل سے دوچار نہ ہو۔ اس کی امیدوں کا چراغ کبھی بجھنے نہ پائے۔

وہ اس کو ہمیشہ روشنی اور حرارت دیتا رہے۔ کتاب "دینِ انسانیت"، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 43۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.