Maulana Wahiduddin Khan
5 min left
0:00

← Tameer-e-Insaniyat
Tameer-e-Insaniyat

Sachchaii ka yaqeen

Urdu · 5 min

سچائی کا یقین موجودہ دنیا میں آدمی کی سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ وہ اس یقین پر قائم ہو کہ اس نے سچائی کو پا لیا ہے۔ وہ جس راستے پر چل رہا ہے، اس کے حق ہونے پر اسے کوئی شبہ نہ ہو۔ اس قسم کا یقین آدمی کی لازمی ضرورت ہے۔ یہی یقین آدمی کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ لوگوں کے درمیان معتدل طور پر رہے۔

اس کو ذہنی سکون حاصل ہو۔ وہ رات کو اطمینان کی نیند سوئے اور دن کو اعتدال کے ساتھ اپنے فرائض انجام دے۔ اسلام آدمی کو یقین کی یہی نعمت عطا کرتا ہے۔ ایک پہاڑ یا ایک جانور کی یہ ضرورت نہیں کہ وہ دنیا میں اپنے وجود کا جواز تلاش کرے۔

مگر انسان فطری طور پر یہ چاہتا ہے کہ وہ یہ جانے کہ وہ کیا ہے اور وہ کس مقصد کے تحت دنیا میں پیدا کیا گیا ہے۔ اس کو ایک لفظ میں زندگی کا نظریہ، یعنی آئیڈیالوجی، کہا جا سکتا ہے۔ فلسفہ اس نظریِ حیات کی تلاش کا علم ہے، مگر 5000 سال سے بھی زیادہ مدت کی تلاش کے باوجود ابھی تک فلسفہ اپنی تلاش کا جواب نہ پا سکا۔ فلسفہ اپنے آخری مرحلے میں پہنچ کر انسان کو صرف تشکیک اور بے یقینیت دینے میں کامیاب ہوا ہے۔

فلسفے کے بعد سائنس کا درجہ آتا ہے، مگر سائنس نے پیشگی طور پر یہ مان لیا ہے کہ وہ حقیقت کا صرف جزئی علم دے سکتی ہے۔ کلی حقیقت تک پہنچنا سائنس کے لیے ممکن ہی نہیں۔ گویا سائنس نے خود ہی یہ اعلان کر دیا ہے کہ وہ مقابلے کے میدان میں اترنے کی سرے سے اہل نہیں۔ اب آخری چیز جس سے اس معاملے میں رجوع کیا جائے، وہ مذہب ہے۔

یہاں بھی منظر زیادہ مختلف نہیں۔ بظاہر دنیا میں ایک درجن بڑے مذاہب پائے جاتے ہیں، مگر اسلام کے سوا تمام مذاہب کی حالت بلا استثنا یہ ہے کہ ان کو نہ علمی تائید حاصل ہے اور نہ تاریخی اعتباریت۔ ان مذاہب کی مقدس کتابیں تحریف کی بنا پر صحیح باتوں کے ساتھ غلط باتوں کا مجموعہ بن گئی ہیں۔ اسی طرح ان کے تاریخی حالات اتنے کم معلوم ہیں کہ خالص علمی اور عقلی اعتبار سے ان کی سچائی پر یقین نہیں کیا جا سکتا۔

اس طرح یہ تمام مذاہب بھی عملی طور پر اس پوزیشن میں نہیں ہیں کہ وہ انسان کو وہ سچائی دے سکیں جس پر وہ کامل یقین کے ساتھ قائم ہو جائے۔ افکار کے اس جنگل میں صرف اسلام ایک ایسا مذہب ہے جو نہ صرف کامل سچائی کا حامل ہے بلکہ واقعاتی اعتبار سے وہ ایک ایسا مذہب ہے جس کی تاریخی اعتباریت میں کوئی شبہ نہیں۔ اسلام انسان کے لیے ایک نادر تحفہ ہے۔ اسلام ایک ایسا دین ہے جو غیر مجتبیٰ سچائی کا حامل ہے، جو کلی صداقت کا سرمایہ اپنے ساتھ لیے ہوئے ہے، جو اپنی تاریخی نوعیت کے اعتبار سے اس قابل ہے کہ انسان اس یقین کے ساتھ اس کو اختیار کر سکے کہ اس نے اس سچائی کو پا لیا ہے جس کی تلاش اس کی فطرت میں پیشگی طور پر موجود ہے۔

اسلام ایک ایسا متلاشی روح کا حقیقی جواب ہے۔ وہ انسان کی شخصیت کی تکمیل ہے۔ وہ انسان کو وہ غیر متزلزل یقین دیتا ہے جس کے سہارے وہ دنیا میں زندہ رہ سکے۔ اسلام آدمی کی قبل از موت زندگی کو بھی بامعنی بناتا ہے اور اس کی بعد از موت زندگی کو بھی۔

کتاب "دینِ انسانیت" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 40۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.