← Tameer-e-InsaniyatTameer-e-Insaniyat
Khuda kainaat ka nur
Urdu · 5 min
خدا کائنات کا نور۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ آسمانوں اور زمین کا نور ہے، سورہ نمبر 23 آیت 35۔ یعنی اس پوری کائنات میں جہاں بھی کوئی روشنی ہے، وہ خدا کی ذات سے ہے۔ خدا اگر روشنی نہ دے تو کہیں اور سے کسی کو بھی روشنی ملنے والی نہیں۔
سورج اگر نہ ہو تو زمین پر ہر طرف اندھیرا چھا جائے۔ اسی طرح اگر ستارے نہ ہوں تو ساری کائنات گہری تاریکی میں ڈوب جائے۔ خدا نے ساری کائنات میں بے شمار تعداد میں انتہائی روشن قسم کے متحرک اجسام پھیلا دیے ہیں، جو کائنات کے ہر حصے کو مسلسل طور پر روشنی کا تحفہ دے رہے ہیں۔ اگر یہ کائناتی انتظام نہ ہو تو دنیا اپنی ساری وسعتوں کے باوجود تاریکی کا ایک بھیانک غار بن جائے گی۔
یہ مادی روشنی کا معاملہ ہے۔ یہی معاملہ فکری اور روحانی روشنی کا ہے۔ اس دنیا میں بسنے والے ہر انسان کو ضرورت ہے کہ اس کے ذہن کو وہ رہنمائی ملے جس کی روشنی میں وہ صحیح طور پر سوچے، اور اس کو وہ روحانی خوراک ملے جو اس کے سینے میں حکمتِ حیات کا باغ اگا دے۔ اس فکری اور روحانی روشنی کا سرچشمہ بھی صرف اور صرف خداوند ذوالجلال ہے۔
یہ روحانی روشنی بھی ایک خدا کے سوا کہیں اور سے انسان کو ملنے والی نہیں۔ آدمی جب خدا سے واحد پر سچا یقین کرتا ہے تو نفسیاتی سطح پر خدا سے اس کا رشتہ قائم ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد روحانی تاروں پر اس کی پوری ہستی جگمگا اٹھتی ہے۔ وہ اپنی یادوں میں خدا کو پانے لگتا ہے۔
وہ اپنے آنسوؤں میں خدا کی جھلک دیکھنے لگتا ہے۔ اس کی سوچ اور جذبات میں خدا اس طرح بس جاتا ہے جیسے وہ خدا کے پڑوس میں پہنچ گیا ہو، جیسے کہ وہ خدا کے رحمت بھرے سائے میں زندگی گزارنے لگا ہو۔ قرآن میں شرک کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ شرک سب سے بڑا ظلم ہے۔ سورہ نمبر 31 آیت 13۔
ظلم کا مطلب ہے کسی چیز کو غیر جگہ پر رکھ دینا، یعنی وَضْعُ الشَّيْءِ فِي غَيْرِ مَوْضِعِهِ۔ یعنی شرک: خدا کے ساتھ کسی اور کو شریک کرنا۔ اس کائنات میں سراسر اجنبی ہے۔ اس دنیا میں شرک کا عقیدہ رکھنے یا مشرکانہ فعل کرنے کے لیے کائنات میں کوئی جگہ نہیں۔
اس دنیا کا خالق ایک ہی خدا ہے، وہی اس کا مالک ہے، وہی اس کو سنبھالنے والا ہے، اسی کے پاس ہر قسم کے اختیارات ہیں۔ ایسی حالت میں جو شخص خدا کے سوا کسی اور کو خدا مانے، یا کسی اور کو خدا کی خدائی میں شریک کرے، اس نے ایک خود ساختہ مفروضے کو واقعی حقیقت کا درجہ دیا۔ اس نے ایک ایسی چیز کو موجود فرض کیا جس کا اس دنیا میں سرے سے کوئی وجود ہی نہیں۔ مشرکانہ طرز فکر تمام برائیوں میں سب سے بڑی برائی ہے۔
جس آدمی کا ذہن مشرکانہ طرز پر سوچے، جس آدمی کے دل میں مشرکانہ خیالات پرورش پائیں، وہ ایک بے حقیقت چیز کو اختیار کرتا ہے۔ کائنات اپنے پورے وجود کے ساتھ اس کی تردید کرتی ہے۔ شرک کا عقیدہ یا نظریہ آدمی کو فکری غذا دینے والا نہیں۔ وہ اس کو اس روحانی روشنی سے منور کرنے والا نہیں جس کے بغیر آدمی کا پورا وجود ہی اس دنیا میں بے معنی ہو جاتا ہے۔
کتاب "تعمیرِ انسانیت"، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 27۔