توحید انسانیت کی منزل ہے۔ توحید کا مطلب ایک خدا کو ماننا ہے، اور اپنے سارے دل اور اپنے سارے دماغ کے ساتھ اس سے وابستہ ہو جانا ہے۔ یہی خدا انسانیت کی منزل ہے۔ اس دنیا میں وہی انسان کامیاب ہے جو ایک خدا کو اپنا سب کچھ بنا لے۔
ہر انسان ایک نامکمل وجود ہے۔ خدا کے ساتھ وابستہ ہو کر وہ اپنے آپ کو مکمل کرتا ہے۔ خدا انسانیت کے تمام تقاضوں کی واحد تکمیل ہے۔ ہر انسان ایک روحانی تلاش میں ہے۔
ہر انسان اپنے لیے سکون و اعتماد کا ایک مرکز چاہتا ہے۔ یہ مرکز صرف ایک خدا ہے۔ خدا انسان کی روحانی تلاش کا واحد جواب ہے۔ جس انسان نے خدا کو پا لیا، اس نے گویا وہ سب کچھ پا لیا جس کو وہ اپنے فطری تقاضے کے تحت پانا چاہتا تھا۔
موجودہ دنیا میں زندگی گزارنے کے لیے انسان کو ایک دستورِ حیات درکار ہے، جو اس کو بتائے کہ لوگوں کے درمیان اس کو کس طرح رہنا ہے اور کس طرح نہیں رہنا ہے۔ جو اس کو زندگی کی گائیڈ بک عطا کرے۔ انسان کی اس طلب کا ماخذ بھی خدا ہے۔ خدا ہی انسان کو وہ قابلِ اعتماد رہنمائی دیتا ہے جس کی مدد سے وہ روشنی اور اندھیرے میں یکساں طور پر درست سفر کر سکے۔
خدا انسان کا خالق اور مالک ہے۔ وہی اس کا حقدار ہے کہ وہ انسان کو بتائے کہ زندگی کیا ہے اور موت کیا ہے۔ انسانیت کا قافلہ کہاں سے شروع ہوا اور وہ کہاں جا رہا ہے۔ وہ صحیح راستہ کیا ہے جس پر چل کر وہ بھٹکے بغیر منزل پر پہنچ سکے۔
ہر انسان کی سب سے پہلی اور سب سے اہم ضرورت یہ ہے کہ وہ اس خدا کو پائے۔ وہ اپنے آپ کو خدا سے وابستہ کرے۔ وہ اس سے محبت کا تعلق قائم کرے۔ وہ اپنی پوری زندگی کا رخ خدا کی طرف موڑ دے۔
خدا رُخی زندگی، یعنی گاڈ اورینٹڈ لائف، ہی اس دنیا کی واحد درست زندگی ہے۔ جو ایسی زندگی کو اپنائے وہی کامیاب ہے، اور جو ایسا نہ کر سکے وہی محروم اور ناکاماب۔ کتاب "تعمیر انسانیت" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 24۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.