← Tameer-e-InsaniyatTameer-e-Insaniyat
Deen-e-Kainaat
Urdu · 8 min
دینِ کائنات میں نے انگریزی رسالہ جاری کیا تو اس کے پہلے شمارہ، فروری 1984 کے صفحے اول پر یہ الفاظ شائع کیے: "انسان اور کائنات دونوں کا مذہب صرف ایک ہے، اور وہ ہے خدا کی اطاعت۔ " "Submission to God is the only religion for both man and the universe. " یہ عین قرآن کی بات ہے۔ اس کو قرآن میں اس طرح بیان کیا گیا ہے: "کیا یہ لوگ اللہ کے دین کے سوا کوئی اور دین چاہتے ہیں، حالانکہ اسی کے حکم میں ہے جو کوئی آسمان میں ہے اور جو کوئی زمین میں ہے، خوشی سے یا ناخوشی سے، اور سب اسی کی طرف لوٹائے جائیں گے؟
" سورہ نمبر 3، آیت 83۔ خدا کا دین صرف ایک ہے، اور وہ یہ ہے کہ تمام مخلوقات صرف ایک خدا کی کامل اطاعت کریں۔ وہ ہر معاملے میں وہی کریں جو خدا کی مرضی ہے۔ وہ ہر معاملے میں اپنی مرضی کو خدا کی مرضی کے تابع کر دیں۔
یہ دینِ اطاعت، یا دینِ تابعداری، انسان کے سوا بقیہ کائنات میں اس طرح نافذ ہے کہ کائنات کا ہر جز خدا کے حکم کے تحت بندھا ہوا ہے۔ کائنات کا کوئی جز ایک لمحے کے لیے بھی اس حکمِ الٰہی سے انحراف نہیں کر سکتا۔ اسی کو سائنس کی زبان میں قانونِ فطرت، یعنی Law of Nature، کہا جاتا ہے۔ حکمِ الٰہی کی یہی اطاعت انسان سے بھی مطلوب ہے، اس فرق کے ساتھ کہ بقیہ کائنات مجبورانہ طور پر حکمِ خداوندی کی اطاعت کر رہی ہے، اور انسان کو اسی حکم کی اطاعت اختیارانہ طور پر کرنا ہے۔
یعنی بقیہ کائنات کو اپنے عمل کے معاملے میں انتخاب، یعنی choice، کا حق نہیں۔ جبکہ انسان کو اس دنیا میں انتخاب کی آزادی حاصل ہے۔ وہ چاہے تو اطاعت کا طریقہ اختیار کر کے خدا کے ابدی انعام کا مستحق بنے، یا خدا کے حکم سے انحراف کر کے ابدی طور پر اس کا برا انجام بھگتے۔ خدا کے اس دین کا اعلان ہر دور میں اور تمام نبیوں کے ذریعے کیا گیا ہے۔
انجیل میں یہی بات حضرت مسیح کی زبان سے ان الفاظ میں آئی ہے: "پس تم اس طرح دعا کیا کرو کہ اے ہمارے باپ! تو جو آسمان پر ہے، تیرا نام پاک مانا جائے، تیری بادشاہت آئے، تیری مرضی جیسی آسمان پر پوری ہوتی ہے، زمین پر بھی پوری ہو۔ " متی، باب نمبر 6۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آسمانوں میں، بالفاظِ دیگر، انسان کے سوا بقیہ کائنات جس طرح کسی انحراف کے بغیر خدا کے حکم پر چل رہی ہے، اسی طرح انسان بھی پوری طرح خدا کی مرضی پر چلنے لگے۔
حضرت مسیح کے قول میں بادشاہت، یعنی Kingdom، کا لفظ کسی سیاسی معنی میں نہیں ہے۔ وہ صرف ایک اسلوبِ کلام ہے۔ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ ہر انسانی فرد اپنی زندگی میں خدا کے احکام پر چلنے لگے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کچھ افراد اپنے آپ کو خدا کا نمائندہ بتا کر یہ کہیں کہ لوگوں کے اوپر ہم اپنا اقتدار قائم کریں گے، تاکہ ان کے درمیان خدا کے حکم کو بزور نافذ کر سکیں۔
اسی سے معلوم ہوتا ہے کہ مومن کون ہے اور کافر کون۔ مومن وہ ہے جو خدا پر کامل یقین رکھتے ہوئے اپنی زندگی کو خدا کے حوالے کر دے۔ حدیث کے الفاظ میں: "وہ اس گھوڑے کی طرح ہو جائے جو ایک محدود لمبائی والی رسی کے ساتھ کھونٹے سے بندھا ہوا ہے۔ " وہ کھونٹے کے چاروں طرف گھومتا ہے، مگر وہ رسی کی حد سے آگے نہیں جا سکتا۔
مسند احمد، حدیث نمبر 11335۔ اس کے مقابلے میں کافر وہ ہے جو اپنے آپ کو خدا کی رسی میں نہ باندھے۔ وہ اپنی زندگی کو خدا کی مرضی کے تابع نہ بنائے، بلکہ وہ اپنی عقل اور اپنی خواہش کے پیچھے چلتا رہے۔ مومن یا کافر دونوں میں سے کسی کا بھی تعلق کسی نسل یا قوم سے نہیں ہے، بلکہ دونوں ہی کا تعلق انفرادی عمل سے ہے۔
یہ دراصل ذاتی عمل ہے جو کسی کو خدا کی نظر میں مومن بناتا ہے۔ اور دوبارہ یہ ذاتی عمل ہی ہے جو کسی کو خدا کی نظر میں کافر کا درجہ دے دیتا ہے۔ اسی سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ایک شخص جو آج بظاہر مومن ہے، وہ اپنی غیر مومنانہ فکر اور اپنی غیر مومنانہ روش سے خدا کی نظر میں کافر بن جاتا ہے۔ اسی طرح ایک شخص جو آج بظاہر کافر ہے، وہ اگر ایمان اور ایمان والی زندگی کو اختیار کر لے تو خدا کی نظر میں وہ مومن کا درجہ حاصل کر لے گا۔
اس معاملے میں دو قومی نظریہ درست نہیں۔ یعنی ایسا نہیں ہے کہ مومن اور کافر دو نسلی گروہ ہیں۔ ایک گروہ کے لیے قومی جنت ہے اور دوسرے گروہ کے لیے قومی جہنم۔ صحیح بات یہ ہے کہ ایمان اور کفر، یا جنت اور جہنم کا معاملہ، تمام تر افراد کے ذاتی عقیدے و عمل سے تعلق رکھتا ہے، نہ کہ نسل اور قوم کی اجتماعی نسبت سے۔
حقیقت یہ ہے کہ خدا کا ایک ہی دین ہے جو اس کی تمام مخلوقات سے یکساں طور پر مطلوب ہے۔ انسان کے سوا بقیہ کائنات میں وہ لازمی ڈسپلن کی صورت میں قائم ہے، اور انسان کی زندگی میں وہ اختیاری ڈسپلن کی صورت میں قائم ہوتا ہے۔ بقیہ کائنات کی دنیا میں اس کا نام قانونِ فطرت ہے، اور انسان کی دنیا میں اس کا نام قانونِ شریعت۔ کتاب دینِ انسانیت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 17۔