← Tameer-e-InsaniyatTameer-e-Insaniyat
Laiha-e-Amal
Urdu · 10 min
لائحہ عمل حالات کا مطالعہ بتاتا ہے کہ ہندوستان میں وہ اسٹیج مکمل طور پر تیار ہو چکا ہے جس کو استعمال کر کے مسلمان اپنا تاریخی رول ادا کر سکیں۔ تاہم، کوئی بڑا تاریخی رول صرف اس وقت ادا کرنا ممکن ہوتا ہے جبکہ اس کی تمام ضروری شرائط پوری کی گئی ہوں۔ شرائط کی تکمیل کے بغیر اسباب کی اس دنیا میں کوئی کام نہیں ہو سکتا۔ نمبر 1: میرے نزدیک اس معاملے میں سب سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ مسلمان اس پورے معاملے کو خالص انسانی نقطۂ نظر سے دیکھیں۔
وہ جو کچھ کریں، عمومی خیرخواہی کے جذبے کے تحت کریں، اپنی گروہی برتری کا قیام یا اپنے حقوق کا حصول جیسے ذاتی مقاصد کو لے کر اگر کوئی جدوجہد شروع کی گئی تو پیشگی طور پر سمجھ لینا چاہیے کہ کسی بھی مثبت یا قابلِ لحاظ نتیجے تک نہیں پہنچ سکتی۔ اس دنیا میں کسی انسان کی سب سے بڑی طاقت دوسروں کے حق میں خیرخواہی ہے۔ اسی طرح کسی انسان کی سب سے بڑی کمزوری اس کی خودغرضی ہے۔ مسلمانوں کے اندر یہ اخلاقی اور روحانی اسپرٹ پیدا کرنا مجوزہ مشن کا سب سے پہلا نکتہ ہوگا۔
نمبر 2: موجودہ حالات میں دوسرا ضروری کام یہ ہے کہ بڑے پیمانے پر ہندو-مسلم ڈائیلاگ شروع کیا جائے، کھلے ذہن کے تحت تمام فکری اور نظریاتی پہلوؤں پر گفتگو ہو۔ یہ کام مناظرے کے انداز میں نہیں ہونا چاہیے، بلکہ خالص سائنٹیفک انداز میں ہونا چاہیے، یعنی وہی انداز جو آج بھی مذہب کے سوا دوسرے علمی موضوعات میں جاری ہے۔ نمبر 3: اسی کے ساتھ ضروری ہے کہ مسلمان صحت مند مقابلے کے میدان میں پوری طرح داخل ہو جائیں۔ شکایت اور احتجاج، اور مانگ اور مطالبات کے طریقے کو مکمل طور پر ترک کر دیں۔
وہ رعایت حاصل کر کے جینے کے بجائے، قابلیت کا ثبوت دے کر ملک میں اپنی جگہ بنائیں۔ تعلیم، تجارت، انڈسٹری، تمام سماجی اداروں، اور پروفیشنل شعبوں میں امتیازی لیاقت پیدا کر کے آگے بڑھیں۔ نمبر 4: قرآن کی مذکورہ آیت میں اقلیتی گروہ کے لیے جس غلبے کی پیشنگوئی کی گئی ہے، اس کی لازمی شرط آیت کے مطابق صبر ہے۔ قرآن کا یہ بیان حتمی طور پر یہ ثابت کرتا ہے کہ فطرت کے مذکورہ قانون کو اپنے حق میں واقعہ بنانے کے لیے لازمی شرط یہ ہے کہ لوگوں کے اندر صبر و تحمل کا مادہ ہو۔
اس سے مراد یہ ہے کہ پیش آمدہ صورتحال میں فوری ردِعمل کا طریقہ اختیار نہ کیا جائے، بلکہ سوچا سمجھا طریقہ اختیار کیا جائے۔ سوچا سمجھا طریقہ اختیار کرنے کے لیے ہمیشہ وقت درکار ہوتا ہے تاکہ آدمی ٹھنڈے ذہن کے ساتھ معاملے کو سمجھے، اور تحقیق اور مشورے کے مراحل سے گزر کر کوئی گہری رائے قائم کرے۔ اس طرح صبر آدمی کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ بے سوچے سمجھے اقدام سے بچے اور منصوبہ بند عمل کا طریقہ اختیار کرے۔ جو لوگ مسلمانوں کو مثبت رول ادا کرتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں، ان پر فرض کے درجے میں ضروری ہے کہ وہ مسلمانوں کے اندر صابرانہ مزاج پیدا کریں۔
وہ ان کو جذباتیت کے بجائے حقیقت پسندی کی تعلیم دیں۔ نمبر 5: کوئی بھی کام کرنے کے لیے اس کے مطابق بنیاد یعنی بیس درکار ہوتی ہے۔ مسلمانوں کو اس ملک میں جو رول ادا کرنا ہے، اس کے لیے بھی یہی ضروری تیاری درکار ہے، اور وہ بنیاد تعلیم اور کردار ہے۔ جو لوگ یہ درد رکھتے ہیں کہ مسلمان اس ملک میں اپنا مطلوب تعمیری کردار ادا کریں، انہیں مہم کے انداز میں یہ کوشش شروع کر دینا چاہیے کہ مسلمان صد فیصد تعلیم یافتہ بن جائیں۔
اس تعلیمی نشانے کو پورا کیے بغیر آگے کا کام نہیں ہو سکتا۔ اسی کے ساتھ انہیں دوسری مہم یہ جاری کرنا ہے کہ مسلمان اعلیٰ کردار کے حامل بنیں، مسجد اور مدرسے سے لے کر اخبارات اور رسائل تک ہر ذریعے کو اس مقصد کے لیے پوری طرح استعمال کیا جانا چاہیے۔ تعلیم آدمی کو باشعور بناتی ہے، اور اخلاق و کردار کے ذریعے آدمی اس کا اہل بنتا ہے کہ وہ قابلِ اعتماد طور پر دنیا کی سرگرمیوں میں حصہ لے سکے۔ نمبر 6: آزادی کے بعد ملک میں جو سماج بنا، وہ نفرت اور تشدد کا سماج تھا۔
اس منفی فضا میں ملک کی تعمیر کا کام نہیں ہو سکتا تھا۔ اس لیے مہاتما گاندھی نے آزادی 1947 کے وقت کہا تھا کہ ہندوؤں اور مسلمانوں کو مل کر امن اور ہم آہنگی کے ساتھ رہنا ہوگا، ورنہ میں اسی کوشش میں اپنی جان دے دوں گا۔ Hindus and Muslims should learn to live together in peace and amity, otherwise I will die in the attempt. بدقسمتی سے ابھی تک نفرت اور کشیدگی کی یہ فضا ختم نہ ہو سکی۔
یہ فضا ہندوؤں اور مسلمانوں کے لیے، اور پورے ملک کے لیے سخت مہلک ہے۔ اس کی موجودگی میں ملک کے اندر کسی تعمیری منصوبے کی تکمیل ممکن نہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہر ممکن کوشش کر کے اس کو ختم کیا جائے۔ ملک میں قومی یکجہتی اور برادرانہ محبت کا ماحول پیدا کیا جائے۔
اس کے بعد ہی یہاں کوئی حقیقی ترقیاتی کام کیا جا سکتا ہے۔ نمبر 7: ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان اس وقت جو تلخی پائی جاتی ہے، اس کا بڑا سبب وہ غلط فہمیاں ہیں جو مذہب کی نسبت سے پیدا ہوتی ہیں۔ ان غلط فہمیوں کو دور کرنا لازمی طور پر ضروری ہے۔ اس مقصد کے لیے ضروری ہے کہ وسیع پیمانے پر اسلام کے صحیح تعارف کی مہم جاری کی جائے، مختلف زبانوں میں اسلام کے مختلف موضوعات پر مثبت انداز کی کتابیں لکھ کر انہیں بڑے پیمانے پر غیر مسلموں کے درمیان پھیلایا جائے۔
نمبر 8: کوئی قوم صحیح رول صرف اس وقت ادا کر سکتی ہے جبکہ اس کو صحیح قیادت حاصل ہو جائے۔ مگر صحیح قیادت کا تعلق خود قیادت سے زیادہ قبولیتِ قیادت کی صلاحیت سے ہے۔ قوم کے اندر یہ مزاج ہونا چاہیے کہ وہ تعمیری قیادت اور استحصالی قیادت کے فرق کو سمجھ سکے۔ وہ حقیقت پسندانہ کلام اور جذباتی کلام کو پہچانے۔
جس قوم میں یہ استعداد نہ ہو، وہ ہمیشہ استحصالی قیادت کا شکار ہو کر رہ جاتی ہے۔ مسلم عوام میں یہ مزاج پیدا کرنا بھی بہت ضروری ہے۔ اس کے بغیر کسی گہرے منصوبے کے لیے مسلمانوں کو متحرک نہیں کیا جا سکتا۔ نمبر 9: سیاست کے میدان میں مسلمانوں کا رول اب تک منفی رائے دہندگی یعنی نیگیٹو ووٹنگ کا رہا ہے، یعنی کسی بنا پر جس سے انہیں ناراضگی ہو جائے، اس کے خلاف ووٹ دے کر اپنے دل کی بھڑاس نکالنا۔
اس قسم کی منفی سیاست نہ مسلمانوں کے لیے مفید ہے اور نہ ملک کے لیے۔ جمہوریت دراصل طاقت میں اشتراک یعنی پاور شیئرنگ کی سیاست کا نام ہے۔ ہندوستان میں مسلمان مرکزی پارلیمنٹ کی تقریباً 100 سیٹوں پر فیصلہ کن بن سکتے ہیں۔ اس اعتبار سے اگر وہ اپنے ووٹ کو درست طور پر استعمال کریں تو ملک کے سیاسی نظام میں وہ فیصلہ کن تعمیری رول ادا کر سکتے ہیں۔
مگر ابھی تک یہ ممکن نہ ہو سکا۔ ضرورت ہے کہ ان کے اندر صحیح سیاسی شعور پیدا کیا جائے تاکہ وہ جذباتی سیاست کے بجائے تعمیری سیاست کا طریقہ اختیار کر سکیں، اور یہاں کے سیاسی مواقع کو مفید طور پر استعمال کرنے کے قابل ہو جائیں۔ نمبر 10: مسلمانوں کو اس ملک میں مثبت سیاست کا طریقہ اختیار کرنا چاہیے۔ حالات کے اعتبار سے اس کی ایک ابتدائی تدبیر یہ ہو سکتی ہے کہ وہ مسلم-کرسچن محاذ بنانے کی کوشش کریں۔
اس محاذ کا مقصد اپنے حقوق کا حصول نہیں ہوگا، بلکہ یہ ہوگا کہ وہ ملک کی عمومی تعمیر میں اپنا مثبت رول زیادہ مضبوط اور مستحکم طور پر ادا کر سکیں۔ اگر حقیقی معنوں میں یہ مسلم-کرسچن محاذ بن جائے تو اس کے بعد یقینی طور پر دلت بھی اس میں شامل ہو جائیں گے، حتیٰ کہ ملک کے دوسرے کئی طبقے بھی۔ یہ کام اگر خالص تعمیری انداز میں کیا جائے تو یہ بھی ممکن ہے کہ کسی وقت یہ محاذ ملک میں صالح سیاسی قیادت کا خلا بھی پر کرنے کے قابل ہو جائے۔ کتاب "تعمیر انسانیت" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 260۔