← Tameer-e-InsaniyatTameer-e-Insaniyat
Ezaaz ke bajaye Zimmedari
Urdu · 4 min
اعزاز کے بجائے ذمہ داری۔ ابوبکر ابن ابو قحافہ اسلام کے پہلے خلیفہ ہیں، ان کا زمانۂ خلافت 632 سے 634 تک ہے۔ پیغمبرِ اسلام کی وفات کے بعد جب ان کو خلیفہ منتخب کیا گیا تو اس کو انہوں نے عہدہ نہیں سمجھا، بلکہ اس کو ایک ذمہ داری سمجھا۔ وہ خوش ہونے کے بجائے فکرمند ہو گئے۔
بیعت کے بعد جب وہ لوگوں کو خطاب کرنے کے لیے منبر پر کھڑے ہوئے تو احساسِ ذمہ داری کے تحت ان کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے۔ انہوں نے کہا: "أيها الناس، قد وليت عليكم ولست بخيركم، فإن أحسنت فأعينوني، وإن أسأت فقوّموني. الصدق أمانة، والكذب خيانة، والضعيف فيكم قويٌّ عندي حتى آخذ له حقه، والقوي ضعيف عندي حتى آخذ منه الحق إن شاء الله تعالى." (الكامل في التاريخ لابن الأثير، صفحة 1922) یعنی: "اے لوگو! میں تمہارے اوپر حاکم بنایا گیا ہوں، حالانکہ میں تم سے بہتر نہیں ہوں۔
اگر میں اچھا کروں تو تم میری مدد کرو، اور اگر میں برا کروں تو تم مجھ کو سیدھا کرو، سیدھا کر دو۔ سچائی امانت ہے، اور جھوٹ خیانت ہے۔ اور تمہارا کمزور میرے نزدیک طاقتور ہے، جب تک میں اس کا حق اس کو نہ دلا دوں۔ اور تمہارا طاقتور میرے نزدیک کمزور ہے، جب تک میں اس سے حق وصول نہ کر لوں، اگر اللہ نے چاہا۔
" ابن سعد نے عطائی ابن صائب سے نقل کیا ہے کہ جب ابوبکر کی بیعت ہوئی تو اگلے دن لوگوں نے دیکھا کہ وہ حسبِ معمول اپنے کندھے پر کپڑا رکھے ہوئے بازار جا رہے ہیں۔ عمر فاروق نے پوچھا کہ کہاں جا رہے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ بازار جا رہا ہوں۔ عمر فاروق نے کہا کہ کیا آپ کو معلوم نہیں کہ اب آپ مسلمانوں کے حاکم ہیں؟
انہوں نے کہا: "میں اپنے اہل و عیال کو کہاں سے کھلاؤں؟ " عمر فاروق نے کہا کہ ابو عبیدہ کے یہاں چلیے، وہ آپ کا کفاف مقرر کر دیں گے۔ چنانچہ دونوں ابو عبیدہ کے یہاں گئے۔ انہوں نے ایک عام آدمی کے معیار کے مطابق ابوبکر صدیق کا روزی نامقرر کر دیا۔
اس میں دو جوڑا کپڑا بھی شامل تھا، ایک جوڑا گرمی کے لیے اور ایک جوڑا سردی کے موسم کے لیے۔ جب آپ کی وفات کا وقت آیا تو آپ کے گھر میں نہ درہم تھا اور نہ دینار، صرف ایک زمین تھی۔ آپ نے وصیت کی کہ یہ زمین بیچ دی جائے، اور اس کی قیمت سے وہ سب کچھ بیت المال میں واپس کر دیا جائے جو میں نے خلیفہ کی حیثیت سے لیا ہے۔ حکومتی عہدے کو اعزاز سمجھنے کے بجائے ذمہ داری سمجھنے کی یہی مثال دوسرے خلفاء نے بھی قائم کی۔
یہ مثال تمام حکمرانوں کو بتاتی ہے کہ وہ کس طرح حکومت کو عزت و شہرت کی چیز نہ سمجھیں۔ بلکہ ذمہ داریوں کو ادا کرنے کا ایک نازک منصب سمجھیں۔ یہ مثال تمام حکمرانوں کو بتاتی ہے کہ وہ کسی طرح حکومت کو عزت و شہرت کی چیز نہ سمجھیں، بلکہ ذمہ داریوں کو ادا کرنے کا ایک نازک منصب سمجھیں۔ یہی واحد چیز ہے جو کسی حکومت کو اس کے ماتحت عوام کے لیے خیر اور بھلائی کا ذریعہ بناتی ہے۔
(کتاب: تعمیرِ انسانیت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 226)۔