Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Tameer-e-Insaniyat
Tameer-e-Insaniyat

Secular Ulum ki Bunyad Azadana research par qayem karna

Urdu · 4 min

سیکولر علوم کی بنیاد آزادانہ ریسرچ پر قائم کرنا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم مکے میں پیدا ہوئے، جہاں کھجور کے درخت نہیں ہوتے تھے۔ نبوت کے 13ویں سال آپ وہاں سے ہجرت کر کے مدینہ آ گئے۔ مدینے میں کثرت سے کھجور کے درخت پائے جاتے تھے۔

ایک روز، جب کہ آپ شہر کے باہر چل رہے تھے، آپ نے دیکھا کہ کچھ لوگ کھجور کے درختوں پر چڑھے ہوئے ہیں۔ وہ لوگ اس وقت وہ کام کر رہے تھے جس کو عربی میں "تعبیر" یا "تلقیح" کہا جاتا ہے، یعنی مصنوعی زرخیزی، پولینیشن۔ ان لوگوں نے آپ کے پوچھنے پر بتایا کہ ہم ایسا اور ایسا کر رہے ہیں۔ آپ نے "ظن" کی بنیاد پر ایک بات کہی، جس کا مطلب انہوں نے یہ سمجھا کہ آپ اس عمل سے منع فرما رہے ہیں۔

چنانچہ ان لوگوں نے تلقیح یعنی زرخیزی کے اس عمل کو چھوڑ دیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس سال کھجور کی فصل کم آئی، اور جو آئی وہ بھی خراب تھی۔ آپ نے دریافت کیا کہ اس سال کھجور کی فصل خراب کیوں ہوئی۔ لوگوں نے جواب دیا کہ ہمارے تجربے کے مطابق اچھی فصل کا انحصار اسی عمل پر ہوتا ہے جو ہم کر رہے تھے، اور آپ نے اس سے منع فرما دیا۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر کہا کہ جو تم کر رہے تھے اس کو کرو، کیونکہ تم اپنی دنیا کے معاملے کو مجھ سے زیادہ جانتے ہو۔ أنتم أعلم بأمر دنياكم صحیح مسلم، حدیث نمبر 2363۔ یہ ایک بے حد اہم رہنمائی تھی جو تاریخ میں پہلی بار پیغمبر اسلام نے جاری فرمائی۔ اس رہنمائی کا نتیجہ یہ ہوا کہ سائنسی ریسرچ اور فطرت کے رازوں کی دریافت کا وہ سلسلہ انسانوں کے درمیان کھلے طور پر جاری ہو گیا جو ہزاروں سال سے رکا ہوا تھا۔

قدیم زمانے میں علمی تحقیق کی حیثیت ایک آزادانہ شعبے کی نہ تھی۔ اس زمانے میں علمی تحقیق کو مذہبی عقائد و رسوم کے تابع بنا دیا گیا تھا۔ کوئی علمی دریافت اسی وقت صحیح سمجھی جاتی تھی جب کہ وہ مروجہ عقائد و رسوم سے مطابقت رکھتی ہو۔ اگر وہ اس کے مطابق نہ ہو تو بلا بحث اس کو رد کر دیا جاتا تھا۔

یہی وجہ ہے کہ قدیم زمانے میں ہزاروں سال تک علمی تحقیق کا کام اپنے ابتدائی مرحلے میں رکا رہا، وہ زیادہ آگے نہ بڑھ سکا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے مذکورہ انقلابی اعلان کے بعد تاریخ میں ایک نیا دور آیا۔ اب نہ صرف باغبانی اور زراعت بلکہ علوم فطرت کے ہر شعبے میں آزادانہ تحقیق ہونے لگی۔ ہر علم بے روک ٹوک آگے بڑھنے لگا۔

یہی وجہ ہے کہ ہم یہ دیکھتے ہیں کہ اس زمانے کے مسلمانوں نے زراعت و باغبانی کے نئے نئے طریقے دریافت کیے۔ انہوں نے صنعت و تعمیر کے میدان میں زبردست ترقی کی۔ جراحی سے لے کر جنگ تک ہر شعبے میں نئے نئے آلات اور اوزار بنائے۔ آزادانہ تحقیق کی یہ لہر بڑھتی رہی، یہاں تک کہ صدیوں کے عمل کے دوران وہ ساری دنیا میں پھیل گئی۔

یہی وہ تاریخی عمل ہے جو ترقی کرتے ہوئے اس نئے دور تک، اس نئے دور تک پہنچا ہے جس کو ہم سائنس اور ٹیکنالوجی کا دور کہتے ہیں۔ کتاب "تعمیر انسانیت" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 206۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.