اسلام کا رول۔ اسلام کا تاریخی رول اتنا عظیم ہے کہ ایک مورخ نے اس کو تمام معجزات سے بڑا معجزہ، Miracle of all miracles قرار دیا ہے۔ جن اہلِ علم نے بھی اس مسئلے کا بے لاگ مطالعہ کیا ہے، انہوں نے غیر معمولی انداز میں اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ انسانی تاریخ میں اسلام کا رول اتنا عظیم رہا ہے کہ اس کی کوئی دوسری مثال نہیں۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ اسلام کے ظہور سے پہلے، پچھلے تمام معلوم زمانوں میں انسان کسی بھی میدان میں کوئی بڑی ترقی نہ کر سکا۔
دنیا کی تمام بڑی بڑی ترقیاں اسلام کے بعد ظہور میں آئی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام ہی کے ذریعے پہلی بار انسانی ترقیوں کے وہ تمام دروازے کھلے جو ہزاروں سال سے بند پڑے ہوئے تھے۔ یہ کوئی اتفاقی بات نہیں۔ اصل یہ ہے کہ اسلام خدا کا بھیجا ہوا وہ دین ہے جو آج بھی مکمل طور پر اپنی اصل حالت میں محفوظ ہے۔
یہ دین کائنات میں قائم شدہ فطرت کے وسیع تر نظام سے کامل مطابقت رکھتا ہے۔ خالقِ کائنات نے اسلام کی صورت میں وہ تمام بنیادی اصول ہمیں دے دیے ہیں جو خدا کی اس دنیا میں زندگی کی تعمیر کے لیے صحیح ترین اساس کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام وہ صالح انقلاب لانے میں کامیاب ہوا جو اب تک ممکن نہیں ہوا تھا۔ یہ معاملہ دراصل صحیح آئیڈیالوجی اور غلط آئیڈیالوجی کا معاملہ ہے۔
اس دنیا میں صرف دو قسم کی آئیڈیالوجی ممکن ہیں: ایک ہے توحید پر مبنی آئیڈیالوجی، اور دوسری شرک و الحاد پر مبنی آئیڈیالوجی۔ اول الذکر حقیقی ہے، اور ثانی الذکر غیر حقیقی۔ اسلام سے پہلے ہزاروں سال سے دنیا میں غیر موحدانہ تصورِ حیات پھیلا ہوا تھا۔ اس غیر حقیقی تصور نے انسانیت کے اوپر ہر قسم کی ترقیوں کو روک رکھا تھا۔
اسلام نے تاریخ میں پہلی بار یہ کیا کہ عظیم جدوجہد کے ذریعے غیر موحدانہ تصور کی بالادستی ختم کر دی، اور اس کی جگہ موحدانہ تصورِ حیات کو فکری و عملی برتری دے دی۔ اس تاریخی انقلاب کا نتیجہ یہ ہوا کہ انسان کے اوپر ترقی کے وہ تمام راستے کھل گئے جو اب تک اس کے لیے بند پڑے ہوئے تھے۔ اس اسلامی انقلاب کے بہت سے پہلو ہیں۔ اس کا تعلق انسانی زندگی کے تقریباً تمام شعبوں سے ہے۔
یہاں ہم اس کے صرف چند پہلوؤں کا نہایت مختصر ذکر کریں گے تاکہ اسلام کی اس خصوصیت کا اجمالی اندازہ ہو سکے۔ کتاب "تعمیرِ انسانیت"، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 204۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.