Maulana Wahiduddin Khan
7 min left
0:00

← Tameer-e-Hayat
Tameer-e-Hayat

Dimaghi Izaafa

Urdu · 7 min

دماغی اضافہ: سر سی وی رمن، 1888 تا 1970، ہندوستان کے مشہور سائنسدان تھے۔ وہ تروچراپلّی میں پیدا ہوئے اور بنگلور میں ان کی وفات ہوئی۔ آخر وقت میں وہ رمن ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر تھے۔ اس کے علاوہ وہ بہت سے علمی عہدوں پر فائز رہے؛ 1930 میں ان کو فزکس کا نوبل پرائز دیا گیا۔

رمن کے بارے میں ایک معلوماتی مضمون سنڈے ریویو، 17 مارچ 1991 میں چھپا ہے۔ اس کا ایک اقتباس یہ ہے: "Raman believed that science came from the brain and not from equipment, when one of his pupils in spectroscopy complained that he had only a 1 kW (1 kW) lamp, whereas his competitor abroad had a 10 kW lamp. Raman told him, 'Don't worry, put a 10 million kW brain to the problem. '" رمن کا یقین تھا کہ سائنس دماغ سے آتی ہے، نہ کہ سازوسامان سے۔

ان کے ایک شاگرد نے ایک بار شکایت کی کہ اس کے پاس ریسرچ کا کام کرنے کے لیے صرف 1 kW کا لیمپ ہے، جبکہ بیرونی ملکوں میں اس کے برابر کے ایک طالب علم کے پاس 10 kW کا لیمپ ہوتا ہے۔ رمن نے اس طالب علم کو جو جواب دیا، وہ یہ تھا: "تردد نہ کرو، تم اپنے مسئلے کی تحقیق میں 10 kW کا دماغ رکھ لو۔ " یہ بات نہایت درست ہے۔ اس دنیا میں ہر کام کا تعلق دماغ سے ہے۔

سامان کی کمی کو دماغ سے پورا کیا جا سکتا ہے، مگر دماغ کی کمی کو سامان سے پورا نہیں کیا جا سکتا۔ 200 سال اور 300 سال پہلے مغرب میں جو سائنسدان پیدا ہوئے، ان میں سے کسی کے پاس وہ اعلیٰ سامان نہیں تھا جو آج کسی یونیورسٹی میں ایک ریسرچ طالب علم کے پاس ہوتا ہے۔ ان میں سے ہر ایک نے کم سامان کے ساتھ کام کیا۔ مثلاً نیوٹن نے کروسین کے لیمپ کے ذریعے کام کیا، کیونکہ اس وقت بجلی کا استعمال ہی شروع نہ ہوا تھا، وغیرہ۔

مگر یہی سائنسدان تھے جنہوں نے جدید مغربی سائنس کی بنیادیں قائم کیں۔ اس اصول کا تعلق ہر انسان سے ہے: جب بھی کسی شخص کو محسوس ہو کہ اس کے پاس سرمایہ، یا وسائل، یا سازوسامان کی کمی ہے، تو اس کو چاہیے کہ وہ اپنی دماغی محنت کو بڑھائے۔ اس کی دماغی محنت اس کے لیے ہر دوسری کمی کی تلافی بن جائے گی۔ فطرت نے دماغ کی صورت میں انسان کو حیرت انگیز طاقت دی ہے۔

دماغ کو استعمال کر کے آدمی اپنی ہر کمی کی تلافی کر سکتا ہے۔ مسٹر کمال علی گڑھ، پیدائش 1958، نے یکم فروری 1990 کی ملاقات میں اپنا ایک واقعہ بتایا: وہ پہلے سگریٹ پیتے تھے، 1984 سے انہوں نے مکمل طور پر سگریٹ کو چھوڑ دیا ہے۔ 1974 سے 1981 تک وہ تعلیم کے سلسلے میں مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں تھے۔ اس زمانے میں وہ چین سموکر تھے۔

ایک روز کا واقعہ ہے: امتحان کا زمانہ قریب تھا۔ وہ رات کو دیر تک پڑھنے میں لگے رہے، یہاں تک کہ رات کو 1 بجے کا وقت ہو گیا۔ اس وقت انہیں سگریٹ کی طلب ہوئی۔ دیکھا تو دیا سلائی ختم ہو چکی تھی، ہیٹر بھی بگڑا ہوا تھا۔

ایک طرف اندر سے سگریٹ کی سخت طلب اٹھ رہی تھی، دوسری طرف کوئی ایسی چیز موجود نہ تھی جس سے سگریٹ کو جلایا جا سکے۔ تقریباً آدھے گھنٹے تک ان کے دماغ پر یہ سوال چھایا رہا۔ وہ اس سوچ میں پڑے رہے کہ سگریٹ کو کس طرح جلایا جائے۔ آخر ایک تدبیر ان کے ذہن میں آئی۔

ان کے کمرے میں بجلی کا 100 واٹ کا بلب لٹک رہا تھا۔ انہوں نے سوچا کہ اس جلتے ہوئے بلب میں اگر کوئی ہلکی چیز لپیٹ دی جائے تو کچھ دیر کے بعد گرم ہو کر وہ جل اٹھے گی۔ انہوں نے ایک پرانا کپڑا لیا اور اس کا ایک ٹکڑا پھاڑ کر جلتے ہوئے بلب کے اوپر لپیٹ دیا۔ تقریباً 5 منٹ گزرے ہوں گے کہ کپڑا جل اٹھا۔

کمال صاحب نے فوراً اس سے اپنا سگریٹ سلگایا اور اس کے کش لینے لگے۔ اسی کا نام دماغی محنت ہے۔ عام لوگ محنت کے نام سے صرف جسمانی محنت کو جانتے ہیں، مگر محنت کی زیادہ بڑی قسم وہ ہے جس کا نام دماغی محنت ہے۔ دنیا کی تمام بڑی بڑی ترقیاں وہی ہیں جو دماغی محنت کے ذریعے حاصل کی گئی ہیں۔

جسمانی محنت پھاوڑا چلانے یا ہتھوڑا مارنے کا کام انجام دے سکتی ہے، مگر ایک سائنٹیفک فارم یا جدید طرز کا ایک کارخانہ بنانے کا کام صرف دماغی محنت کے ذریعے ہو سکتا ہے۔ جسمانی محنت اگر آپ کو 1 روپیہ فائدہ دے سکتی ہو تو آپ دماغی محنت کے ذریعے 1 کروڑ روپیہ کما سکتے ہیں۔ جسمانی محنت صرف یہ کر سکتی ہے کہ وہ دوڑ کر بازار جائے اور ایک دیا سلائی خرید کر لائے اور اس کے ذریعے سے اپنی سگریٹ سلگائے۔ مگر دماغی محنت ایسی حیرت انگیز طاقت ہے جو دیا سلائی کے بغیر آپ کے سگریٹ کو سلگا دے، جو ظاہری آگ کے بغیر آپ کے گھر کو روشن کر دے۔

کتاب "تعمیر حیات" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 288۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.