← Tameer-e-HayatTameer-e-Hayat
Ghair Mamuli Insan
Urdu · 6 min
غیر معمولی انسان۔ وین ورسٹ، یعنی بروس وین ورسٹ، ایک امریکی جرنلسٹ ہے۔ اس نے جنگی رپورٹر کی حیثیت سے شہرت حاصل کی ہے۔ ڈومینیکن ریپبلک کی جنگ، ایرانی انقلابیوں کی شاہ کے خلاف جنگ، عراق اور ایران کی جنگ، اور خلیجی جنگ 1991 میں۔
اس نے میدانِ جنگ میں پہنچ کر براہِ راست رپورٹنگ کی ہے۔ ٹائم میگزین 4 فروری 1991 میں وین ورسٹ کے کچھ تجربات شائع کیے گئے ہیں۔ اس نے جو باتیں کہیں، ان میں سے ایک بات جنگ کے وقت فوجیوں کی صفت، یعنی کوالٹی، اور سالمیت، یعنی انٹیگریٹی، کے بارے میں تھی۔ اس نے کہا کہ جب جنگی مقابلہ جاری ہو تو فوجی حیرت انگیز طور پر اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں، وہ مشکلات سے بے پرواہ ہو کر اپنے فرائض انجام دیتے ہیں۔
جنگ میں یہ فوجی عام فوجی نہیں ہوتے، وہ سب کے سب غیر معمولی لوگ بن جاتے ہیں۔ In battle, they are no ordinary soldiers; they are all extraordinary. Page 4. امریکی صحافی نے جو بات فوجیوں کے بارے میں کہی، وہ ہر انسان اور ہر مقابلے کے لیے یکساں طور پر صحیح ہے۔
انسان کے اندر پیدائشی طور پر بے شمار صلاحیتیں ہیں۔ عام حالات میں یہ صلاحیتیں سوئی ہوئی رہتی ہیں، مگر جب کوئی خطرہ پیش آتا ہے، جب چیلنج کی صورتحال سامنے آتی ہے، تو اچانک انسان کی تمام سوئی ہوئی صلاحیتیں جاگ اٹھتی ہیں۔ اس سے پہلے اگر اس کے پاور ہاؤس کا صرف ایک بلب جل رہا تھا، تو اب اس کے تمام بلب بیک وقت جل اٹھتے ہیں۔ اب اس کی عقل زیادہ گہری سوچ کا ثبوت دیتی ہے۔
اس کا جسم مزید طاقتوں کے ساتھ متحرک ہو جاتا ہے۔ اس کی پوری ہستی ایک ہیروانہ کردار کے لیے تیار ہو جاتی ہے۔ چیلنج کمزور انسان کو طاقتور انسان بنا دیتا ہے۔ وہ نادان آدمی کو ہوشیار آدمی بنا دیتا ہے۔
چیلنج بظاہر ایک رکاوٹ ہے، مگر اپنے نتیجے کے اعتبار سے وہ اعلیٰ ترین ترقی کا سب سے بڑا زینہ ہے۔ مقابلہ پیش آنے سے پہلے ہر انسان ایک معمولی انسان ہے، مگر مقابلہ پیش آنے کے بعد ہر انسان غیر معمولی انسان بن جاتا ہے۔ جہاں اسکوپ نہ ہو، وہاں زیادہ اسکوپ ہوتا ہے۔ جہاں بظاہر مواقع نہ ہوں، وہاں اور زیادہ بڑے مواقع آدمی کے لیے چھپے ہوئے ہوتے ہیں۔
ایک مسلم نوجوان ہیں، ان کے کچھ رشتے دار امریکہ میں رہتے ہیں۔ وہ امریکہ گئے، وہاں تعلیم حاصل کی، 2 سال تک امریکہ میں ملازمت بھی کی۔ پھر انہیں خیال آیا کہ اپنے ملک میں آئیں اور یہاں اپنی زندگی کی تعمیر کریں۔ چنانچہ وہ ہندوستان واپس آ گئے۔
ان سے میری ملاقات ہوئی تو انہوں نے کہا کہ میں ہندوستان واپس آ کر ذہنی انتشار میں مبتلا ہو گیا ہوں۔ یہاں جو میرے دوست اور رشتے دار ہیں، وہ سب کہہ رہے ہیں کہ تم نے بہت نادانی کی کہ تم امریکہ چھوڑ کر ہندوستان آ گئے۔ وہاں تم کو ترقی کے بڑے بڑے مواقع مل سکتے تھے، یہاں تو تمہارے لیے کوئی اسکوپ نہیں۔ میں نے جواب دیا کہ آپ کے دوست اور رشتے دار سب الٹی باتیں کر رہے ہیں۔
میں کہتا ہوں کہ ہندوستان میں اسکوپ نہیں، اسی لیے تو یہاں اسکوپ ہے۔ ہندوستان میں آپ کے لیے ترقی کے وہ تمام مواقع ہیں جو امریکہ میں ہیں، جبکہ یہاں آپ امریکہ سے بھی زیادہ بڑی ترقی کر سکتے ہیں۔ اصل یہ ہے کہ ترقی کا تعلق دو چیزوں سے ہے: ایک خارجی مواقع، دوسرے اندرونی امکانات۔ خارجی مواقع سے مراد وہ مواقع ہیں جو آپ کے وجود کے باہر خارجی دنیا میں پائے جاتے ہیں۔
اندرونی امکانات سے مراد وہ فطری استعداد ہے جو آپ کے ذہن اور آپ کے جسم کے اندر اللہ تعالیٰ نے رکھ دی ہے۔ عام طور پر لوگوں کی نگاہ دنیا کے خارجی مواقع پر ہوتی ہے، اس لیے وہ کہہ دیتے ہیں کہ فلاں ملک میں مواقع ہیں اور فلاں ملک میں مواقع نہیں ہیں۔ مگر ترقی کے لیے اس سے بھی زیادہ اہمیت ان صلاحیتوں کی ہے جو فطرت سے ہر آدمی کو ملی ہوئی ہیں۔ کوئی بھی آدمی ان سے خالی نہیں۔
جب زندگی کی مشکلیں آدمی کو چیلنج کرتی ہیں تو اس کی چھپی ہوئی صلاحیتیں ظاہر ہونے لگتی ہیں، حالانکہ جھٹکا انہیں جگا کر متحرک کر دیتا ہے۔ یہ بیداری کسی انسان کی زندگی میں اس کی ترقی کے لیے بہت زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔ امریکہ میں یہ اسکوپ ہے کہ وہاں خارجی مواقع موجود ہیں۔ ہندوستان میں یہ اسکوپ ہے کہ یہاں چیلنج کی صورتحال پائی جاتی ہے، جو آدمی کی فطری صلاحیتوں کو آخری حد تک جگہ دیتی ہے۔
اور پہلے اسکوپ کے مقابلے میں دوسرا اسکوپ بلاشبہ کہیں زیادہ قیمتی ہے۔ کتاب "تعمیر حیات" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 255۔