وقت کا استعمال: میں نے وقت کو برباد کیا تھا، اب وقت مجھے برباد کر رہا ہے۔ اگر آپ نے اپنے پچھلے دنوں میں وقت کو استعمال نہیں کیا ہے، تو آپ اپنے اگلے دنوں میں اپنے وقت کو استعمال کرنے کے قابل نہیں رہیں گے۔ اس طرح آپ کی بربادی بڑھتی ہی چلی جائے گی۔ وقت کسی آدمی کا سب سے زیادہ قیمتی سرمایہ ہے۔
وقت اس لیے ہے کہ آدمی اس کو استعمال کر کے اپنے کو کامیابی کا اہل بنائے۔ جو آدمی وقت کو ضائع کرے، اس نے صرف وقت کو ضائع نہیں کیا، بلکہ خود اپنے آپ کو بھی ضائع کر دیا۔ کیونکہ اس قسم کی غفلت کا نقصان اس کی اپنی ذات کے سوا کسی اور کو پہنچنے والا نہیں۔ جو وقت آپ کو ملا ہے، اس کو یا تو اپنی تیاری میں استعمال کیجیے، یا اپنے مقصد کے حصول کے لیے جدوجہد میں۔
یہی وقت کا صحیح استعمال ہے۔ اگر ایسا ہے کہ آپ نہ تیاری میں لگے ہوئے ہیں اور نہ حصولِ مقصد کی جدوجہد میں، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ اپنے وقت کو ضائع کر رہے ہیں۔ ملے ہوئے وقت کو ضائع کرنا بلاشبہ سب سے بڑا نقصان ہے۔ یہ ایسا نقصان ہے جس کی کوئی تلافی ممکن نہیں۔
آپ کھوئی ہوئی دولت کو دوبارہ کما سکتے ہیں، مگر آپ کھوئے ہوئے وقت کو دوبارہ لوٹا کر اپنی طرف واپس نہیں لا سکتے۔ وقت دولت ہے، بلکہ وقت ہی دولت ہے۔ وقت کے ذریعے آپ دوسری چیزوں کو حاصل کر سکتے ہیں، مگر آپ دوسری چیزوں کے ذریعے وقت کو خرید نہیں سکتے۔ اس لیے آپ کو چاہیے کہ وقت کے معاملے میں سب سے زیادہ چوکن نہ رہیں۔
وقت بھاگ رہا ہے، وقت کو پکڑیے۔ کیونکہ وقت آپ کو نہیں پکڑے گا، آپ کو خود وقت کو پکڑنا ہوگا۔ جو آدمی وقت کو کھو دے، اس کے حصے میں آخر کار صرف یہ آئے گا کہ وہ وقت کو گزرتا ہوا دیکھے گا، مگر وہ اس کو استعمال نہ کر سکے۔ کتاب "تعمیر حیات" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 233۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.