Maulana Wahiduddin Khan
6 min left
0:00

← Tameer-e-Hayat
Tameer-e-Hayat

Takrao ke baghair

Urdu · 6 min

ٹکراؤ کے بغیر۔ ایک بار میں کشمیر گیا، ایک روز ہم لوگ شہر سے نکل کر باہر وادی کے علاقے میں گئے، جہاں ایک طرف اونچے نیچے پہاڑ تھے اور دوسری طرف کھلی وادی۔ وہاں بڑی تعداد میں پانی کے چشمے بہہ رہے تھے۔ پہاڑ کے اوپر برف پگھلتی ہے تو اس کا پانی چشموں کی صورت میں بہہ کر میدان میں آتا ہے، اور پھر بہتا ہوا جا کر دریا میں مل جاتا ہے۔

میں اپنے ساتھیوں کے ہمراہ ایک چشمے کی نالی کے کنارے بیٹھ گیا۔ میں نے دیکھا کہ پانی جب بہتا ہوا آگے بڑھتا ہے تو اس کے راستے میں بار بار پتھر کے ٹکڑے آتے ہیں۔ ایسے موقع پر پانی کیا کرتا ہے؟ وہ پتھر کو ہٹانے یا توڑنے کی کوشش نہیں کرتا، بلکہ دو شاخ ہو کر پتھر کے دائیں اور بائیں سے گزرتا ہوا آگے بڑھ جاتا ہے۔

میں نے اس واقعے پر غور کیا تو اس میں ایک گہرا سبق چھپا ہوا تھا۔ میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ دیکھیے، یہ بہتا ہوا پانی کس طرح اپنا راستہ نکال رہا ہے۔ وہ رکاوٹوں سے لڑتا نہیں، بلکہ رکاوٹوں کو avoid کرتے ہوئے اپنا راستہ بنا لیتا ہے۔ یہ فطرت کا پیغام ہے۔

فطرت ان بہتے ہوئے چشموں کے ذریعے انسان کو یہ پیغام دے رہی ہے کہ اگر تمہارے راستے میں کوئی رکاوٹ آ جائے تو اس سے ٹکرانے کی کوشش نہ کرو، بلکہ اس کے بازو کی طرف سے اپنا راستہ بنا لو۔ تمام دنیا کی سڑکوں پر یہی چشمے والا اصول رائج ہے۔ ان سڑکوں پر ایک وقت میں بہت سی سواریاں گزرتی ہیں۔ ہر سواری یہ کرتی ہے کہ وہ دوسری سواریوں سے ٹکرائے بغیر دائیں یا بائیں مڑ کر اپنا راستہ بنا لیتی ہے۔

اگر یہ سواریاں اس اصول کو نہ مانیں تو سڑک سڑک نہ رہے، بلکہ وہ ایک وسیع قبرستان بن جائے۔ چشمے کا یہ سبق میری زندگی کے لیے ایک انقلابی سبق تھا۔ اس نے مجھ کو زندگی کا راز بتا دیا۔ اس کے بعد میں نے اس طریقے کو اپنی زندگی میں اپنا لیا اور دوسروں کو بھی اسی کی نصیحت کرنے لگا۔

اس دنیا میں سماجی زندگی کی مثال ایک مصروف سڑک جیسی ہے۔ ہر آدمی سڑک پر اپنی گاڑی دوڑاتے ہوئے اس نصیحت پر عمل کرتا ہے جس کا اعلان بہتے ہوئے چشمے کے ذریعے کیا جا رہا ہے۔ اب اتنا اور کرنا ہے کہ اس طریقے کو زندگی کے بقیہ معاملات میں بھی اختیار کر لیا جائے۔ کامیاب زندگی اور پرامن سماج بنانے کا یہی واحد طریقہ ہے۔

جب بھی کسی آدمی کے سامنے کوئی رکاوٹ آتی ہے، کوئی دوسرا انسان اس کو اپنے راستے میں حائل دکھائی دیتا ہے، تو اس کے ذہن میں پہلا خیال یہ آتا ہے کہ اس رکاوٹ کو یا اس انسان کو اپنے راستے سے ہٹایا جائے۔ وہ سمجھنے لگتا ہے کہ جب تک سامنے کی یہ رکاوٹ دور نہ ہو، اس کا سفر جاری ہونے والا نہیں۔ مگر یہ سوچ درست نہیں۔ جس طرح بہتے ہوئے چشمے کے راستے میں ہزاروں پتھر ہوتے ہیں، اسی طرح زندگی کے سفر میں بھی ہزاروں کی تعداد میں رکاوٹیں پیش آتی ہیں۔

اب اگر شرط یہ ہو کہ پہلے ان رکاوٹوں کو دور کرو، اس کے بعد سفر کا آغاز ہوگا، تو ایسی حالت میں سفر کبھی شروع ہونے والا ہی نہیں۔ کیونکہ ایک کے بعد ایک رکاوٹیں سامنے آئیں گی، اور آدمی ہر رکاوٹ سے لڑتا رہے گا، یہاں تک کہ اس کا آخری وقت آ چکا ہوگا۔ ایسی حالت میں عملی صورت یہ ہے کہ رکاوٹوں کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنا سفر جاری کیا جائے۔ آدمی جب اس نظر سے دیکھے گا تو اس کو معلوم ہوگا کہ رکاوٹوں کی ایک حد ہے۔

رکاوٹوں کے باوجود چاروں طرف کھلے ہوئے مقامات موجود ہیں۔ آدمی اگر اپنی نگاہ کو رکاوٹوں سے ہٹا کر ادھر ادھر دیکھے تو اپنے قریب ہی وہ ایسا راستہ پا لے گا جس سے گزر کر وہ اپنی منزل کی طرف رواں دواں ہو جائے۔ اس دنیا میں انسان کے لیے جو انتخاب ہے وہ بے ٹکراؤ کی زندگی اور ٹکراؤ کی زندگی میں نہیں ہے، بلکہ بے ٹکراؤ کی زندگی اور تباہی میں ہے۔ اب ہر انسان کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ وہ دونوں میں سے کس طریقے کا انتخاب کرتا ہے۔

کتاب "تعمیر حیات" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 205۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.