Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Tameer-e-Hayat
Tameer-e-Hayat

Sharafat ki Taqat

Urdu · 4 min

شرافت کی طاقت۔ سابق وائس پریزیڈنٹ آف انڈیا محمد ہدایت اللہ صاحب، 1905 تا 1992 کا ایک واقعہ ہے۔ یہ واقعہ ان کے پی اے، مسٹر اطہر صدیقی، ایم اے، نے مجھے بتایا۔ انہوں نے بتایا کہ ایک بار پنجاب کے سکھ پیشواؤں کا ایک وفد ہدایت اللہ صاحب سے ملنے کے لیے نئی دہلی آیا۔

وہ لوگ اپنی روایات کے مطابق کرپان لگائے ہوئے تھے۔ وائس پریزیڈنٹ کی سرکاری رہائش گاہ پر سیکیورٹی کے جو لوگ تھے، انہوں نے سکھوں سے کہا کہ آپ لوگ اپنی یہ کرپانے باہر ہمارے پاس رکھ دیں۔ اس کے بعد وائس پریزیڈنٹ سے ملنے کے لیے اندر جائیں۔ وہ لوگ اپنی کرپانے باہر چھوڑنے پر آمادہ نہیں ہوئے۔

اب بات بڑھی۔ سیکیورٹی افسر نے ٹیلی فون کے ذریعے وائس پریزیڈنٹ کے سیکریٹری سے رابطہ قائم کیا اور صورتحال بتائی۔ سیکریٹری نے آرڈر دے دیا کہ انہیں کرپانوں کے ساتھ اندر مت جانے دو، اور اگر وہ اس طرح اندر جانے پر اصرار کریں تو ان کو گرفتار کر لو۔ اطہر صدیقی صاحب نے بتایا کہ میں نے موقع کی نزاکت کو محسوس کیا، چنانچہ میں فوراً اندر گیا اور ہدایت اللہ صاحب سے مل کر انہیں بتایا کہ یہاں اس قسم کی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔

اور سیکیورٹی افسر اور سیکریٹری کا رویہ سراسر حکمت کے خلاف ہے۔ آپ ملٹری افسر سے براہ راست کہہ دیں کہ وہ ان لوگوں کو نہ روکیں اور انہیں کرپانوں کے ساتھ اندر آنے دیں۔ ہدایت اللہ صاحب معاملے کی نزاکت کو سمجھ گئے اور اس کے مطابق ٹیلی فون پر سیکیورٹی افسر کو ہدایت دے دی۔ اس کے بعد سکھ وفد اپنی کرپانوں کے ساتھ اندر داخل ہوا۔

ہدایت اللہ صاحب کے سامنے پہنچتے ہی انہوں نے اپنی کرپانوں کو اتار کر ہدایت اللہ صاحب کے قدموں میں رکھ دیا۔ انہوں نے کہا کہ کیا ہم کمینہ پن کریں گے کہ یہاں آ کر آپ کے اوپر ان کرپانوں سے حملہ کر دیں؟ آپ ہمارے لیے باپ کے برابر ہیں، ہم تو ایسا کبھی سوچ بھی نہیں سکتے۔ حکمت سب سے بڑی طاقت ہے۔

اگر آپ حکمت کا طریقہ اختیار کریں تو مسلح دشمن بھی اپنے ہتھیاروں کو پھینک دے گا اور آپ کی انسانیت کے اعتراف میں آپ کے قدموں پر گر جائے گا۔ کتاب تعمیر حیات، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 115۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.