Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Tameer-e-Hayat
Tameer-e-Hayat

Ittehaad ya Bheed

Urdu · 3 min

اتحاد یا بھیڑ؟ شائستہ اکرام اللہ، عمر 75 سال، مسٹر محمد علی جناح کے گہرے عقیدت مندوں میں سے ہیں۔ انہوں نے ان کے تحت کام کیا ہے: 1947 سے 1954 تک پاکستان کی دستور ساز اسمبلی کی ممبر رہی ہیں، 1964 سے 1967 تک وہ موراکو میں پاکستان کی سفیر تھیں، وغیرہ۔ ریڈرز ڈائجسٹ، مئی 1991 میں ان کا ایک مضمون مسٹر محمد علی جناح کے بارے میں چھپا ہے۔

اس مضمون میں انہوں نے مسٹر جناح سے متعلق مختلف یادداشتیں نقل کی ہیں۔ انہوں نے لکھا ہے کہ ابتداً ہندوستان کے مسلمان مسلک لیگ کے ساتھ نہ تھے، مگر مسٹر جناح کی قیادت کا یہ کرشمہ تھا کہ 1945-46 کا الیکشن ہوا تو ہندوستانی ریاستوں میں 85% مسلم سیٹوں پر مسلم لیگ کا قبضہ ہو گیا۔ انہوں نے لکھا ہے کہ قائد مسٹر جناح یہ کہا کرتے تھے کہ انہوں نے ایک بھیڑ کو ایک قوم کی صورت دی ہے۔ آج پاکستان کے داخلی جھگڑوں کو دیکھتے ہوئے مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہم دوبارہ بھیڑ کی حالت کی طرف واپس چلے گئے ہیں۔

The quid used to say that he had fashioned a nation out of a mob. Today, seeing all our internal scuffles, I sometimes think that we have gone back to being a mob. لوگ اکثر غلطی کرتے ہیں کہ وہ جلسگاہ میں لوگوں کے جمع ہونے کو اتحاد سمجھ لیتے ہیں، حالانکہ موجودہ قسم کے جلسے حقیقتاً بھیڑ کی وقتی یکجائی کے ہم معنی ہیں۔ اس سے زیادہ اور کچھ نہیں۔

بھیڑ کا ایک متحد قوم بننا جلسہ جلوس سے بالکل علیحدہ چیز ہے، اور وہ یہ ہے کہ لوگوں کے درمیان مثبت سطح پر یکساں سوچ آ جائے، ان کے اندر مستحکم کردار پیدا ہو جائے، وہ اختلاف کو نظرانداز کرتے ہوئے دوسروں کا ساتھ دینے پر راضی ہوں۔ ان کے اندر یہ مزاج پیدا ہو جائے کہ ذاتی مفادات سے اوپر اٹھ کر بلند تر انسانی مقاصد کے لیے جینے لگیں۔ اتحاد وہ ہے جو روزانہ کی حقیقی زندگی میں دکھائی دے، نہ کہ وقتی قسم کے جلسہ اور جلوس میں۔ کتاب "تعمیر حیات"، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 109۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.