25 سال۔ البرٹ سابن ایک امریکی سائنس دان ہے، وہ 1906 میں پولینڈ میں پیدا ہوا۔ اس کی عمر 15 سال کی تھی کہ اس کے والدین ترکِ وطن کر کے امریکہ آ گئے۔ یہیں 3 مارچ 1993 کو اس کی وفات ہوئی۔
اس نے 25 سال کی لگاتار محنت اور تجربے سے ایک ایسا پولیو ویکسین تیار کیا جو کہ منہ کے راستے سے استعمال کیا جا سکتا تھا، جبکہ عام طور پر ویکسین انجکشن کے ذریعے اندر داخل کیے جاتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ اب تک 500 ملین لوگ اس کی ایجاد سے فائدہ اٹھا چکے ہیں۔ استحقاق کے باوجود البرٹ سابن کو نوبل انعام نہیں ملا، مگر اس نے اس کی پرواہ نہ کی۔ اس نے کہا کہ میرے لیے یہی کافی ہے کہ مجھے ایک ایسی جگہ مل جائے جہاں میں اپنا کام کر سکوں۔
I only ask for a place to work. اپنی تحقیق کے دوران اس کو بے شمار مایوسیوں سے دوچار ہونا پڑا، مگر مایوسیوں اور ناکامیوں سے بے پرواہ ہو کر اس نے اپنا عمل جاری رکھا، یہاں تک کہ اس کی تحقیق آخری کامیابی کی منزل تک پہنچ گئی۔ وہ اکثر کہا کرتا تھا کہ آپ کتنے ہی اچھے ہوں، آپ ایک سائنس دان نہیں بن سکتے جب تک مایوسیوں کے ساتھ جینا نہ سیکھیں۔ No matter how good you are, you cannot be a scientist unless you learn to live with frustration.
یہی موجودہ دنیا میں کامیابی کا عام اصول ہے۔ یہاں کوئی قابلِ ذکر کامیابی صرف اس باہمت شخص کے لیے ہے جو 25 سال یکسو ہو کر عمل کر سکے، جو ناکامیوں کے درمیان اپنا سفر جاری رکھے، جو بار بار گرنے کے باوجود بار بار اٹھے، جو اعتراف اور تحسین سے بے پرواہ ہو کر اپنے مقصد کے حصول میں سرگرم رہے، جس کی طاقت کا خزانہ اس کے اپنے اندر ہو نہ کہ اس کے باہر۔ جو لوگ عدمِ اعتراف کی شکایت کریں، جو ناموافق حالات سے گھبرا اٹھیں، جن کی نظر مواقع سے زیادہ مسائل پر رہتی ہو، وہ اس دنیا میں کبھی کوئی بڑی کامیابی حاصل نہیں کر سکتے۔ کتاب "تعمیر حیات" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 93۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.