رِسک لیجیے۔ والٹر رِسٹن، 1919-2005، نے کہا: "ناکام ہو جانا کوئی جرم نہیں؛ اصل ناکامی یہ ہے کہ آدمی ناکامی سے سبق لینے میں ناکام رہے۔ " جم برک، جب جانسن اینڈ جانسن کے تجارتی ادارے میں ایک نئے شعبے کا افسرِ اعلیٰ مقرر ہوا، تو اس کے ابتدائی منصوبوں میں سے ایک یہ تھا کہ بچوں کے سینے کی مالش تیار کرے۔ اس کا تیار کیا ہوا سامان بری طرح ناکام ہو گیا۔
برک کا خیال تھا کہ اس کو ملازمت سے برخاست کر دیا جائے گا۔ جب اس کو بورڈ کے چیئرمین سے ملاقات کے لیے بلایا گیا، تو یہ ملاقات اس کے لیے ایک اچھمبے کی ملاقات بن گئی: "کیا تم ہی وہ شخص ہو جس نے ہمیں اتنی بڑی رقم کا نقصان پہنچایا ہے؟ " چیئرمین رابرٹ وڈ جانسن نے اس سے سوال کیا، اور اس کے بعد کہا: "بہت اچھا، میں تم کو صرف مبارکباد دینا چاہتا ہوں۔ اگر تم غلطیاں کر رہے ہو، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ تم رِسک لے رہے ہو، اور ہم کبھی ترقی نہیں کر سکتے جب تک تم رِسک نہ لو۔
" والٹر رِسٹن، فارمر چیئرمین آف سٹی کوپ، said, "Failure is not a crime; failure to learn from failure is." When Jim Burke became the head of a new products division at Johnson & Johnson, one of his first projects was the development of a children's chest rub. The product failed miserably, and Burke expected that he would be fired when he was called in to see the chairman of the board. However, he met a surprising reception: "Are you the one who just cost us all that money? " asked Robert Wood Johnson.
"Well, I just want to congratulate you. If you are making mistakes, that means you are taking risks, and we won't grow unless you take risks." موجودہ دنیا جن قوانین کی بنیاد پر چل رہی ہے، ان میں سے ایک یہ ہے کہ کسی کام کی کامیابی کے لیے جن عوامل کی موافقت درکار ہے، وہ پیشگی طور پر کسی کو معلوم نہیں رہتے۔ ایسی حالت میں کسی اقدام کی واحد ممکن صورت یہ ہے کہ آئندہ پیش آنے والی باتوں کے بارے میں بے خبری کے باوجود اقدام کیا جائے۔ اس کا نام رِسک ہے۔
رِسک لینے میں بلاشبہ اندیشے ہیں، مگر موجودہ دنیا میں رِسک لیے بغیر کوئی کام بھی نہیں کیا جا سکتا۔ اگر رِسک نہیں تو کامیابی بھی نہیں۔ کتاب "تعمیر حیات" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 91۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.