توازن قائم رکھیے۔ کھلاڑی ایک کھیل دکھاتے ہیں جس کو "ٹائٹرو واکنگ" کہا جاتا ہے۔ اس میں یہ ہوتا ہے کہ میدان میں دو کھمبا گاڑ کر اس کے اوپر ایک موٹی رسی تان دی جاتی ہے۔ اس رسی کے اوپر ایک لڑکا پاؤں رکھ کر کھڑا ہوتا ہے۔
اس کے دونوں ہاتھ میں ایک لمبا بانس ہوتا ہے۔ اس بانس کے ذریعے توازن، یعنی بیلنس، قائم کرتے ہوئے وہ تنی ہوئی رسی پر چلتا ہے، یہاں تک کہ وہ اس سرے سے اس سرے تک پہنچ جاتا ہے۔ یہ صرف ٹائٹروپ کھلاڑی کی بات نہیں۔ اس دنیا میں ہر آدمی کو ایسا ہی کرنا پڑتا ہے۔
ایک آدمی جب زمین پر چل رہا ہوتا ہے تو ہر آن وہ گویا کہ ٹائٹروپ واکر ہی ہوتا ہے۔ اگر وہ چلتے ہوئے دائیں طرف کچھ زیادہ جھک جائے تو وہ دائیں طرف گر جائے گا۔ اور اگر وہ بائیں طرف زیادہ جھک جائے تو وہ بائیں طرف گر جائے گا۔ آدمی دونوں طرف توازن قائم کرتے ہوئے چلتا ہے، اسی لیے وہ کامیابی کے ساتھ راستہ طے کر پاتا ہے، ورنہ وہ زمین پر ادھر یا ادھر گر پڑے۔
یہی معاملہ پوری زندگی کا ہے۔ اس دنیا میں انسان کی پوری زندگی ٹائٹروپ واکنگ کی زندگی ہے۔ یہاں اس کو مختلف اور متضاد تقاضوں کے درمیان توازن قائم کرتے ہوئے چلنا پڑتا ہے۔ اسی توازن کو برقرار رکھنے کا نام کامیابی ہے، اور اسی توازن کے بگڑ جانے کا نام ناکامی۔
خاندانی زندگی میں آدمی کو مختلف رشتہ داروں کے درمیان توازن قائم کرنا پڑتا ہے۔ سماجی زندگی میں آدمی کو مختلف گروہوں کے درمیان توازن قائم کرنا پڑتا ہے۔ بین الاقوامی زندگی میں لیڈروں کو مختلف ملکوں اور مختلف حکومتوں کے درمیان توازن قائم کرنا پڑتا ہے۔ توازن کے اس مسئلے سے انسانی زندگی کا کوئی بھی گوشہ خالی نہیں۔
اس توازن کو کامیابی کے ساتھ برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی سوچی سمجھی زندگی گزارے۔ وہ ہر آن محتاط رہے۔ وہ ہر لمحہ اپنا محاسبہ کرتا رہے۔ وہ اپنے تعصبات کے خول سے باہر آ کر جینا سیکھے۔
وہ اپنی ذات کا لحاظ کرنے کے ساتھ دوسروں کا لحاظ کرنے والا بھی بنے۔ جو لوگ اس طرح دو طرفہ رعایت کی زندگی گزاریں، وہی اس دنیا میں کامیابی کا درجہ حاصل کریں گے۔ کتاب "تعمیر حیات" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 82۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.