زندگی کی جدوجہد: زندگی ایک طویل جدوجہد ہے۔ اس جدوجہد میں وہی شخص کامیاب ہو سکتا ہے جس کے اندر یہ حوصلہ ہو کہ وہ خود طلب ہی کو اپنا حاصل بنا سکے۔ انسان بظاہر ایک محدود مخلوق ہے، مگر وہ اپنے اندر لامحدود تمنائیں رکھتا ہے۔ اس کی صلاحیتیں اور اس کے حوصلے عطا حد تک وسیع ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ جب وہ زندگی کی جدوجہد میں داخل ہوتا ہے تو موجودہ دنیا اپنی تمام وسعتوں کے باوجود اس کو تنگ نظر آنے لگتی ہے۔ ہر کامیابی اس کی ادھوری معلوم ہونے لگتی ہے۔ ہر یافت اس کو اس احساس سے دوچار کرتی ہے کہ جو کچھ اسے پانا تھا، اس کو وہ نہ پا سکا۔ ایسی حالت میں کامیاب زندگی کی تعمیر کا راز کیا ہے؟
اگر کامیاب زندگی اس کا نام ہو کہ آدمی جو کچھ پانا چاہتا ہے، اس کو وہ بھرپور طور پر پا لے، تو تجربات بتاتے ہیں کہ موجودہ دنیا میں اس قسم کی یافت ممکن ہی نہیں۔ اس حالت میں اگر کامیابی اس کو سمجھا جائے کہ آدمی جو کچھ چاہتا تھا، اس کو اس نے پا لیا، تو آخر کار مایوسی کے سوا اس کے حصے میں کچھ اور نہیں آئے گا۔ ایسی سوچ رکھنے والے انسان کے لیے اس دنیا میں دو ہی انجام ہیں: مایوسی یا خودکشی۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ دنیا میں کامیاب زندگی کا راز صرف ایک ہے، اور وہ یہ کہ منزل کے بجائے خود طلب کو اپنا مقصود بنایا جائے۔
انسان اپنے اندر جس طلب کو محسوس کرتا ہے، وہ حقیقتاً حق کی طلب ہے۔ اس دنیا میں وہی شخص کامیاب ہے جو معرفتِ حق کو اپنا نشانہ بنا سکے، جو حقیقتِ اعلیٰ میں جینے کا راز پا لے۔ اس کے برعکس جو لوگ مادی رونقوں کو اپنا مطلوب بنائیں، وہ کبھی مطمئن نہیں ہو سکتے۔ اس دنیا کا اصول یہ ہے: جتنا بڑا نشانہ، اتنی بڑی ترقی۔
کتاب "تعمیر حیات" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 79۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.