اوپر میں نے جو اسلام کی تشریح کی ہے ، اس کا ایک نمایاں پہلو یہ ہے کہ دین کی اصل حقیقت اور اس کا ظاہری ڈھانچہ دونوں اس میں اپنا صحیح مقام پا لیتے ہیں اور کوئی بھی مجروح نہیں ہوتا اور نہ اپنی واقعی حیثیت کو کھوتا۔ جب کہ زیرِ بحث تشریح میں ایسا نہیں ہے۔اس فرق کو میں چند مثالوں سے واضح کروں گا۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.