Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Tabeer Ki Ghalati
Tabeer Ki Ghalati

غلبۂ دین کی غلط تشریح

Urdu · 4 min

قرآن میں غلبہ کے معاملے کو ہر جگہ خدا کی نصرت کا نتیجہ قرار دیا گیا ہے۔اس کامطلب یہ نہیں ہے کہ غلبہ اپنے آپ کسی کے اوپر ٹپک پڑتا ہے۔ بلکہ اس کامطلب یہ ہے کہ اس دنیامیں وہی غالب ہوتا ہے جس کے حق میں اللہ تعالیٰ نے غلبہ کافیصلہ کیا ہو۔ ہمارا اصل کام یہ نہیں ہے کہ غلبہ کو نشانہ بنا کر اول روز سے براہ راست اس کے لیے تحریک چلائیں ۔ بلکہ اصل کام یہ ہے کہ اپنے آپ کو نصرت الٰہی کا مستحق بنانے کی کوشش کریں۔ جب ہم استحقاق پیدا کر دیں گے تو اللہ تعالیٰ ہمارے لیےراہیں گھولے گا۔ ہمارے لیے نفوذ کی صورتیں پیدا کرے گا جیسے اس نے حضرت یوسف علیہ السلام کے لیے۔ ایک مخصوص شکل میں اور آخری رسول کے لیے دوسری مخصوص شکل میں صورتیں پیدا فرمائیں ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہ استحقاق کیسے حاصل ہوتا ہے ۔ اس کو قرآن میں مختلف اندازمیں بیان کیا گیا ہے۔ مثال کے طور پرسورہ مائدہ (آیت 12) میں مخصوص حالات میں بسنے والے اہل ایمان کے لیے ایک سواء سبیل (واضح راستہ) بتایا گیا ہے۔ وہ یہ کہ مسلمان منظم زندگی گزاریں۔ نماز کو قائم کریں (جس کی روح عجز اور اشتیاق کے ساتھ اپنے رب سے جڑ جانا ہے)، زکوٰۃ ادا کریں (جو گویا حرص اور خود غرضی سے اپنے آپ کو پاک کر کے ایک مزکیّٰ انسان بن جانے کا نام ہے) پھر رسولوں پر ایمان لانا اور ان کی تعزیرکرنا ہے، جو موجودہ زمانے میں یہ معنی رکھتا ہے کہ مقصد رسالت کے لیے جو دعوتی تحریکیں اٹھیں، ان کا پوری طرح ساتھ دیا جائے۔ اس راہ میں جو مزاحمتیں پیش آئیں، ان کا مقابلہ کرتے ہوئے اس دعوتی مہم کو جاری رکھا جائے۔ اور آخری چیز خدا کو قرض حسن دینا ہے۔ یعنی خدا کی راہ میں عمدہ جذبات کے ساتھ اپنے بہترین مال کو خرچ کرنا— یہ وہ سواء السبیل (واضح راستہ)ہے جس پر چلنے والوں کے لیے اللہ تعالیٰ نے انی معکم کی بشارت دی ہے۔ یعنی وہ دنیا کی زندگی میں ان کا ساتھ دے گا ان کی مدد فرمائے گا۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

لیکن اگر ذہن صحیح نہ ہو تو اس قسم کی آیتوں سے آدمی کو کوئی غذا نہیں ملے گی، اس کی توجہ اس طرح کی سواء السبیل پر لگنے کے بجائے بس سیاسی تبدیلی کی طرف لگی رہے گی۔ وہ جب بھی غلبۂ اسلام کے سوال پر سوچے گا۔ ایک سیاسی مسئلے کے طور پر سوچے گا۔ خدا کی نصرت کی طرف اس کا دھیان نہیں جائے گا۔ اور نہ اس کی مجلسوں میں اس انداز کی گفتگو ہو گی۔ وہ صرف ’’عملی پروگراموں‘‘ اور ’’سیاسی تدبیروں‘‘ کے چکر میں پڑا رہے گا۔ مگر بعد کو جب اس کی کوششیں اس واقعہ کو ظہور میں نہ لا سکیں گی، جو دراصل خدا کی مدد سے ظہور میں آتا ہے تو اس ذہنیت کے لوگ مایوسی اور انتشار میں مبتلا ہو کر دین کے اتنے حصے کو بھی چھوڑ بیٹھیں گے، جس کو وہ اجتماعی انقلاب کے بغیر حاصل کر سکتے تھے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content