جو لوگ دین کی کسی غلط تعبیر سے متاثر ہوں، ان کو خدا کی کتاب سے اتنی دلچسپی نہیں ہو سکتی جتنی اس مخصوص تشریح سے ہو گی جس کو انہوں نے حق سمجھ کر قبول کیا ہے، وجہ بالکل ظاہر ہے۔ قرآن میں دین کی تشریح اپنے تصور دین کے مطابق ہے، نہ کہ کسی اور تصور کے مطابق ۔ جب کوئی شخص دوسرا تصور لے کر قرآن کو پڑھتا ہے تو اس میں اسے اپنے جذبات کی تسکین نہیںملتی۔ قرآن میں اس کو دین ٹھیک اس شکل میں نظر نہیں آتا جس شکل میں وہ اپنے ذہن کے اندر اسے محسوس کرتا ہے، اس بنا پر اس کے اندر کچھ اس قسم کی کیفیت پیدا ہونے لگتی ہے جس کو قرآن میں اشمئزاز کہا گیا ہے (الزمر، 39:45)۔ { FR 8665 } اس کے برعکس، اپنی پسندیدہ تشریح کے تحت پیدا شدہ لٹریچر سے اسے بہت زیادہ دلچسپی ہوتی ہے۔ کیوں کہ وہاں اس کے جذبات کو پوری طرح تسکین ملتی ہے۔ وہاں دین اسے عین اس تصور کے مطابق نظر آتا ہے، جو اس نے اپنے ذہن میں قائم کر رکھا ہے۔ آپ کو ایسے افراد ملیں گے جن کو سیرۃ النبی اور اسوۂ صحابہ جیسی کتابیں پڑھنے کے لیے دی جائیں تو وہ ان کو ختم کیے بغیر واپس کر دیں گے۔ اس کے برعکس، عبدالحلیم شرر کے ’’اسلامی ناولوں‘‘ کو وہ اس طرح پڑھتے ہیں کہ جب تک ختم نہیں کر لیتے انھیں چین نہیں آتا۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ اسلامی تاریخ کو جس رنگین صورت میں وہ دیکھنا چاہتے ہیں، وہ خالص تاریخی کتابوںمیں نہیں ملتی۔ ان کو اسلام کی واقعی تاریخ سےزیادہ اپنے مخصوص ذوق سے دلچسپی ہے۔ اس لیے وہ تاریخ سے زیادہ تاریخی ناول پسند کرتے ہیں۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔