Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Tabeer Ki Ghalati
Tabeer Ki Ghalati

غلط تعبیر کے نتائج

Urdu · 3 min

’’قرآن کی چار بنیادی اصطلاحیں ‘‘ —اس تعبیر کے تحت پیدا شدہ لٹریچر میں ایک اہم ترین کتاب ہے جس میں دین کا ’’وسیع اورمکمل ‘‘ تصور پیش کیا گیا ہے۔ اس کتاب میں ’’عبادت ‘‘ کی بحث کو ختم کرتے ہوئے کہا گیا ہے

’’جو لوگ قرآن کی دعوت کا ایک محدود تصور لے کر ایمان لائیں گے، وہ اس کی ناقص وناتمام پیروی کریں گے‘‘ ۔

مگر افسوس کہ قرآنی دعوت کو وسیع اورمکمل کرنے کی کوشش اس کو محدود کرنے کی ایک نئی صورت بن گئی۔ دین کے ناقص تصور کی وجہ سے فطرت اور دین کے درمیان صحیح رشتہ قائم نہ ہو سکا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ دین کے اثرات و نتائج بھی صحیح شکل میں برآمد نہ ہو سکے۔

بجلی کے لیمپ میں آپ کو اس کا تجربہ ہوا ہوگا کہ اس کا پلگ اگر ٹھیک سے لگا ہوا نہ ہو اور آپ بٹن دبائیں تو لیمپ یا تو کم روشنی دے گا یا جل کر بجھ جائے گا۔ یا صرف تار سرخ ہو کر رہ جائے گا۔ لیکن اگر پلگ اپنی جگہ پر ٹھیک سے بٹھا دیا جائے تو لیمپ پوری طرح روشن ہوجاتا ہے۔ اور مسلسل روشنی دیتا رہتا ہے۔ اس مثال میں پلگ خدا کا دین ہے۔ اور اس کا خانہ آپ کی فطرت، اور جو ہاتھ اس کو خانے میں نصب کرتا ہے وہ آپ کاتصور ہے۔ اگر تصورغلط ہو تو اس کاانجام اس ہاتھ کاسا ہو ا جو پلگ کو اس کے خانہ میں ٹھیک ٹھیک بٹھانے میں غلطی کر جائے۔

یہی حال زیرِبحث فکر کا ہے۔ اس کی ایک کجی کی وجہ سے انسانی فطرت اور خدا کے دین کے درمیان صحیح رشتہ قائم نہ ہو سکا، جس کا لازمی نتیجہ یہ تھا کہ زندگیوں میں خدا پرستی کے حقیقی اثرات ظاہر نہ ہوں۔ یہ کجی اگرچہ مخفی نوعیت کی کجی تھی۔ مگر دین کی ترکیب اتنی نازک ہے کہ اگر اس میں ذرا سا بھی فرق پڑ جائے تو پیچیدہ مشین کی طرح اس میں اِس سرے سے اُس سرے تک خلل واقع ہو جاتا ہے۔ ایک ذرا سے فرق سے اس کی ساری حرکت متاثر ہو جاتی ہے۔ چنانچہ اس تعبیرکی بنیاد پر جو افراد تیار ہوئے ہیں، ان کے سلسلے میں آج خود اس تعبیر کے حاملین کا تقریباً متفقہ احساس ہے کہ ان کے اندر حقیقت دین پیدا نہیں ہوئی ۔ یہاں میں اس کے چند پہلوؤں کی طرف اشارے کروں گا ۔ پہلے نظریاتی اور اس کے بعد عملی۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.