Maulana Wahiduddin Khan
65 min left
0:00

← Tabeer Ki Ghalati
Tabeer Ki Ghalati

خط و کتابت مولانا ابو الاعلیٰ مودودی

Urdu · 65 min

اب مولانا مودودی صاحب کو لیجئے۔ ابتداء ً دسمبر 1961ء میں میں نے اپنی تحریر کی ایک نقل تیار کر کے ان کے نام روانہ کرنے کی کوشش کی تھی مگر وہ حامل تحریر کی غلط فہمی کی وجہ سے مولانا موصوف تک نہ پہنچ سکی اور چند مہینہ بعد کلکتہ سے میرے پاس واپس آ گئی۔ اس کے بعد پھر میں نے تحریر کی ایک نقل10 مئی 62ء (مطابق 5ذی الحجہ1381ھ) کو دستی طور پر لاہور روانہ کی۔ مگر انھیں دنوں اتفاق سے وہ حج کے لیے عرب کے سفر پر روانہ ہو گئے تھے، اس لیے عملاً میری تحریر انھیں 8جون1962ء کو ملی۔ اپنی تحریر کے ساتھ میں نے انھیں جو خط لکھا وہ یہ تھا

unverifiedAttribution could not be verified automatically

اس خط کے ساتھ ایک تحریر بعنوان ’’تعبیر کی غلطی‘‘ روانہ کر رہا ہوں براہِ کرم ’’اس کو ملاحظہ فرمائیں۔ اور اس کے متعلق اپنے تفصیلی جواب سے مطلع فرمائیں۔ تاکہ آپ کے جواب کی روشنی میں اس مسئلے پر مزید غور کیا جا سکے۔

میں پندرہ سال پہلے 1947ء میں آپ کی تحریروں سے متاثر ہوا۔ اس کے کچھ دنوں بعد جماعت اسلامی ہند میں رکن کی حیثیت سے شامل ہو گیا اور اعظم گڑھ میں دعوت و تحریک کا کام کرنے لگا۔ اس حال میں دس سال کے قریب گزر گئے۔ اس کے بعد اکتوبر 1965ء میں مجھے یہاں کی جماعت کے شعبۂ تصنیف و تالیف میں معاونت کی غرض سے رام پور بلایا گیا۔ یہاں آنے کے بعد مجھے جو تحریری کام کرنا تھا، اس کے لیے ضروری ہوا کہ میں قرآن کا باقاعدہ مطالعہ کروں جس کا موقع اس سے پہلے کی زندگی میں مجھے کم ملا تھا۔ جب میں نے قرآن کو ازسرنو پڑھنا شروع کیا تو میں نے دیکھا کہ میں ایک نئے احساس سے دوچار ہو رہا ہوں۔ میں نے محسوس کیا کہ قرآن میرے موجودہ خیالات کی تصدیق نہیں کر رہا ہے۔ قرآن میں مجھے اسلام کی تصویر اس سے مختلف نظر آئی جو میں نے جماعت اسلامی کے لٹریچر میں اب تک دیکھی تھی۔ اس چیز نے مجھے ایک طویل ذہنی کشمکش میں مبتلا کر دیا۔ جس کا ہر اگلا دن میری اس کیفیت کو شدید تر کرتا رہا ہے۔ پہلے میں نے اس کے متعلق یہاں کی جماعت کے ذمہ دار افراد سے تبادلۂ خیال کرنے کی کوشش کی۔ مگر وہ میرے احساس کو بدل نہ سکے۔ بالآخر میں نے طے کیا کہ اپنے خیالات کو مکمل طور پر قلم بند کر ڈالوں۔ یہ میرے اس ذہنی سفر کی مختصر روداد ہے جس کا آغاز پانچ سال پہلے ہوا تھا۔ اور یہ مراسلہ تحریر جس کی آخری شکل ہے۔ یہ تحریر چونکہ اصلاً آپ کو بھیجنے کی غرض سے نہیں لکھی گئی تھی، بلکہ بعد کو اس کا فیصلہ کیا گیا، اس لیے مختلف پہلوؤں سے آپ اس میں عدم مناسبت پائیں گے، آپ کو وہ مراسلہ کے بجائے مضمون نظر آئے گی۔ مگر میں درخواست کروں گا کہ ان پہلوؤں سے صرف نظر کرتے ہوئے آپ اس کی اصل بات پر اپنا واضح تبصرہ روانہ فرمائیں۔‘‘

unverifiedAttribution could not be verified automatically

میں اس سلسلے میں مولانا مودودی کے جواب کا شدت سے منتظر تھا۔ کیوں کہ اس فکر کے خالق ہونے کی وجہ سے انھیں سے سب سے زیادہ توقع تھی کہ وہ اس فکر پر بھرپور تبصرہ کریں گے۔ مگر ایک روز ڈاک سے مجھے ایک لفافہ ملا جس میں موصوف کا حسب ذیل خط بند تھا۔

لاہور، 15 جون1962ء

محترمی و مکرمی السلام علیکم و رحمۃ اللہ

آپ کا کارڈ مورخہ 29 مئی مجھ کو حج سے واپسی پر ملا تھا۔ مگر اپنی جس تحریر کا آپ نے ذکر کیا تھا وہ مجھے اس وقت تک نہ ملی تھی، اس لیے میں آپ کو جواب دینے کے لیے اس تحریر کے وصول ہونے کا انتظار کرتا رہا۔ اب دو تین روز ہوئے رامپور کے ایک نوجوان نے آپ کی وہ تحریر مجھے لا کر دی ہے اور اب آپ کو اس کی رسید سے مطلع کر رہا ہوں۔

آپ کی یہ تحریر اچھی خاصی ایک کتاب ہے جس میں بڑے مفصل اعتراضات کیے گئے ہیں میرے لیے اپنی موجودہ مصروفیتوں کے ساتھ اسے پڑھنا اور پھر اس کا مفصل جواب دینا سخت مشکل ہے۔ مزید برآں آپ کے تمہیدی فقرے اور شہادتِ حق کے عنوان پر آپ کی بحث پڑھ کر میں نے یہ محسوس کیا ہے کہ مسئلہ چند اعتراضات کا نہیں ہے۔ بلکہ آپ کا مطالعہ آپ کو بالکل ہی اس بحث کے خلاف سمت میں لے گیا ہے، جس سمت میں میرا آج تک کا مطالعہ مجھے لے گیا ہے۔ اس حالت میں یہ بات کچھ فضول ہی محسوس ہوتی ہے کہ میں اور آپ کسی بحث میں الجھیں۔ میں اپنا نقطہ نظر پوری وضاحت کے ساتھ اپنی کتابوں اور اپنے مضامین میں بیان کر چکا ہوں۔ ان کو پڑھ کر اگر آپ اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ میں نے سرے سے دین کو ٹھیک سمجھا ہی نہیں ہے تو اس نقطہ نظر سے اپنی برأت کا اعلان کر دیجیے اور جو کچھ آپ سمجھے ہیں اس کی تبلیغ مثبت طور پر شروع کر دیجیے۔ تاہم اگر آپ میری تعبیر کی غلطیاں ہی واضح کرنا ضروری سمجھتے ہوں تو میں اس سے بھی آپ کو روکتا نہیں ہوں۔ آپ اپنی یہ کتاب شائع کر سکتے ہیں۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

خاکسار ابوالاعلیٰ

ظاہر ہے کہ یہ خط ایسا نہیں تھا جس سے میری تشفی ہو سکتی۔ چنانچہ میں نے اس کے جواب میں 25 جون کی ڈاک سے ان کے نام حسب ذیل خط روانہ کیا۔

’’گرامی نامہ مورخہ 15جون1962ء مجھے رام پور میں23 جون کو ملا۔ افسوس کہ بالکل خلاف توقع آپ نے میری تحریر کی صرف رسید بھیجنے پر اکتفا کی۔ اور اس کا جواب دینے سے انکار کر دیا۔ میں پھر آپ کو خدا کا واسطہ دے کر لکھتا ہوں کہ براہ کرم میری مدد فرمائیے۔ میں خدا کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میرے سامنے مذہب کے نام پر محض ایک شورش برپا کرنا نہیں ہے۔ بلکہ میں بے لاگ مطالعہ کے بعد بالکل دیانتداری کے ساتھ ایک نتیجے پر پہنچا ہوں۔ میری عقل اور ضمیر اپنی موجودہ معلومات کی روشنی میں مجھ کو یہ یقین کرنے پر مجبور کرتے ہیں کہ دین کی وہ تشریح غلط ہے جس سے میں پچھلے پندرہ سال سے وابستہ تھا۔ اس کے بالمقابل دوسری تشریح جو مجھے صحیح معلوم ہوتی ہے اس کو بھی میں نے کافی وضاحت سے اپنی تحریر میں بیان کر دیا ہے۔ آپ اس کو پڑھ کر متعین دلائل کے ساتھ اپنی رائے تحریر فرمائیں۔ میں وعدہ کرتا ہوں کہ میں پوری سنجیدگی کے ساتھ اس پر غور کروں گا، اور اگر میری فہم نے گواہی دی کہ آپ کی بات قرآن و سنت سے زیادہ قریب ہے تو ان شاء اللہ کوئی چیز مجھے آپ کی بات مان لینے میں روک نہیں بنے گی، بے شک آپ اپنے خیالات تفصیل کے ساتھ اپنی کتابوں اور اپنے مضامین میں بیان کر چکے ہیں۔ مگر اس قسم کا کوئی بھی تصنیفی ذخیرہ آئندہ پیش آنے والے سوالات کا دروازہ بند نہیں کرتا۔ آپ کی کتابیں آپ کے نقطۂ نظر کا اظہار ہیںنہ کہ میرے سوالات کا جواب۔ اپنے نقطۂ نظر کے حق میں آپ نے اپنی تصنیفات میں جو دلائل قائم کیے ہیں، ان میں اگر کوئی شخص کسی سقم کی نشاندہی کرتا ہے تو ضرورت ہے کہ اس بیان کردہ سقم کی نسبت سے دوبارہ آپ اپنے نقطہ نظر کی وضاحت فرمائیں۔ اس سلسلے میں آپ کو بہت زیادہ تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں۔ آپ نے اس سے پہلے ایسا کیا ہے کہ کسی معترض کی تحریر کو پڑھ کر اس کے بنیادی نکات متعین کر لیے اور تفصیلات کو چھوڑ کر صرف ان بنیادی نکات کا جواب دے دیا۔ ایسا ہی آپ میری تحریر کے معاملہ میں کر سکتے ہیں۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

آپ خود بھی بار بار یہ اعلان کرتے رہے ہیں کہ اگر کسی کے نزدیک آپ کا نقطہ نظر قرآن و سنت کے مطابق نہیں ہے تو وہ اسے قرآن و سنت کے ذریعہ آپ پر واضح کرے۔ آپ یقیناً اس پر غور کریں گے اور جس وقت بھی آپ پر منکشف ہو گا کہ آپ ’’کہیں بال برابر بھی قرآن و سنت سے ہٹے ہوئے ہیں‘‘ آپ فوراً حق کی طرف رجوع کر لیں گے۔ اس لیے جب ایک شخص قرآن و سنت کی روشنی میں آپ کی غلطیوں کی طرف آپ کی توجہ دلاتا ہے تو آپ کا یہ رویہ کیسے صحیح ہو سکتا ہے کہ آپ نہ اس کو قبول کریں، نہ دلائل سے اس کی تردید کریں، حتی کہ اس کو پورا پڑھنے کی زحمت بھی گوارا نہ فرمائیں۔ اور محض بلا دلیل اس کے خلاف ایک فیصلہ سنا دیں۔

میں یہ بھی عرض کر دوں کہ یہ محض ایک میری ذات کا مسئلہ نہیں ہے۔ بلکہ یہاں جن جن ساتھیوں کو میں نے یہ تحریر دکھائی ہے، اور ان میں نیچے سے اوپر تک کے افراد شامل ہیں، تقریباً سب کے سب آپ کے جواب کے منتظر ہیں۔ انہوں نے اگرچہ میرے خیالات سے اتفاق ظاہر نہیں کیا۔ مگر سابقہ نظریہ پر اپنے شرح صدر کو باقی رکھنے کے لیے وہ ضرورت سمجھتے ہیں کہ آپ دلائل کے ساتھ ان اعتراضات کی تردید فراہم کریں۔ جو میری تحریر میں اٹھائے گئے ہیں۔ ایسی حالت میں یہ صرف میرے اعتراضات کی تردید فراہم کریں۔ جو میری تحریر میں اٹھائے گئے ہیں۔ ایسی حالت میں یہ صرف میرے اوپر نہیں بلکہ ان تمام لوگوں کے اوپر بہت بڑا ظلم ہو گا کہ اس مسئلہ پر آپ خاموشی اختیار کر لیں۔ پھر مجھے یہ بھی امید نہیں ہے کہ آپ فی الواقع اس مسئلہ پر ہمیشہ خاموش رہ سکیں گے۔ پھر آئندہ جو کچھ آپ کہیں گے، اس کو پہلے کیوں نہ کہہ دیں۔ یہ آپ کی طرف سے اس بات کی کوشش ہو گی کہ یہ مسئلہ آپس کی گفتگو سے حل ہو جائے۔ اور برسرعام بحث و تکرار کی نوبت نہ آئے، جیسا کہ خود میں نے اپنی تحریر کو اشاعت کے لیے دینے سے پہلے اسی غرض سے اس کو آپ کے پاس بھیجا ہے۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

آخر میں پھر کہوں گا کہ آپ کا علم کتاب و سنت اگر یہ بتاتا ہے کہ میں حق پر نہیں ہوں اور اس کے لیے آپ کے پاس قاطع دلیل بھی موجود ہے تو آپ کا فرض ہے کہ مجھ پر دلائل سے میری غلطی واضح فرمائیں۔ اگر آپ دلیل رکھنے کے باوجود خاموش رہتے ہیں اور ایک ایسی بات جو آپ کے نزدیک گمراہی ہے، اس کے متعلق مجھ سے کہتے ہیں کہ جاؤ اس کی تبلیغ کرو، تو مجھے نہیں معلوم کہ آپ خدا کے یہاں کس طرح بری الذمہ ہو سکیں گے۔

خادم وحید الدین

اس دوران میں میں مولانا مودودی کے جواب کا منتظر رہا۔ مگر دو ہفتے گزر گئے، نیز درمیان میں جمات اسلامی ہند کی مجلس شوریٰ کے رکن اور جماعت اسلامی حلقہ بمبئی کے امیر جناب شمس صاحب کا ایک خط موصول ہوا جس میں ایک مزید بات کا ذکر تھا۔ چنانچہ اس حوالے سے میں نے مولانا کے نام تیسرا خط روانہ کیا۔

رامپور، 9جولائی1962ء

محترمی مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی سلام مسنون

آپ کے خط مورخہ15 جون1962ء کے جواب میں میں نے 25 جون کو ایک لفافہ روانہ کیا تھا جس کے جواب کا انتظار ہے۔ اس دوران میں مجھے جناب شمس پیرزادہ صاحب کا خط ملا جن سے حج کے موقع پر مکہ میں آپ کی ملاقات ہوئی تھی، اور انہوں نے آپ سے میرے مضمون کا ذکر کیا تھا۔ ان کی روایت کے مطابق آپ نے انھیں جواب دیا۔

’’وحید الدین خان صاحب سے کہئے کہ وہ اپنے اعتراضات قلم بند کر کے میرے پاس بھیج دیں۔ میں ان شاء اللہ ان کا جواب دے دوں گا۔‘‘

اب میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ ایک مہینہ پہلے آپ نے خود جن اعتراضات کا جواب دینے کی پیش کش فرمائی تھی، ایک مہینہ بعد ان کا جواب دینا آپ کے نزدیک ’’فضول‘‘ کیسے ہو گیا۔ جہاں تک آپ کے خط مورخہ 15 جون کا تعلق ہے اس میں جواب نہ دینے کی جو وجہ بتائی گئی ہے وہ تو بالکل ناقابل فہم ہے۔ آپ نے لکھا ہے کہ ’’آپ کی تحریر میں بڑے مفصل اعتراضات کیے گئے ہیں۔‘‘ اور یہ کہ ’’آپ کی بحث کو پڑھ کر میں نے یہ محسوس کیا ہے کہ مسئلہ چند اعتراضات کا نہیں ہے۔ بلکہ آپ کا مطالعہ آپ کو بالکل اس سمت کے خلاف اس سمت میں لے گیا ہے جس سمت میں میرا آج تک کا مطالعہ مجھے لے گیا ہے۔‘‘ اور اس کے بعد یہ کہہ کر جواب دینے سے معذوری ظاہر کی ہے کہ ’’اس حالت میں یہ بات کچھ فضول ہی محسوس ہوتی ہے کہ میں اور آپ کسی بحث میں الجھیں۔ ‘‘ میں نہیں سمجھ سکا کہ ان دونوں فقروں میں منطقی ربط کیا ہے۔ بظاہر دوسرا فقرہ پہلے فقرہ کا نتیجہ ہے۔ مگر کسی اعتراض کا ’’مفصل‘‘ ہونا اور بنیادی طور پر آپ کے نقطۂ نظر کے ’’خلاف‘‘ ہونا اس بات کو کیسے لازم کرتا ہے کہ آپ اس کا جواب نہ دیں۔ کیا صرف غیر مفصل اور غیر بنیادی باتیں ہی قابل جواب ہوتی ہیں یا آپ کا اپنا مسلک یہی ہے کہ آپ صرف ان اعتراضات کا جواب دیتے ہیں جو مفصل نہ ہوں، اور آپ کے نقطۂ نظر کے بالکل خلاف نہ جاتے ہوں۔ آپ کے اس جواب کی معنویت میری سمجھ میں نہیں آئی۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

میں پھر کہوں گا کہ اس مسئلہ پر خاموشی کا رویہ اختیار کر کے اپنے کو آپ نے بڑی ذمہ داری میں ڈال دیا ہے۔ اگر آپ کا احساس یہ ہے کہ میرا اور آپ کا راستہ ایک دوسرے کے ’’بالکل خلاف سمت‘‘ میں جا رہا ہے۔ تو یقیناً یا آپ صحیح راستہ پر ہوں گے یا میں۔ اب اگر آپ میرے راستہ کو قبول نہیں کرتے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ خود کو صحیح راستہ پر سمجھتے ہیں۔ ایسی حالت میں میں نہیں سمجھتا کہ آپ کے لیے خاموشی کیوں کر جائز ہو سکتی ہے۔ اگر آپ اپنے کو برسرحق سمجھتے ہیں اور اس کے لیے آپ کے پاس قاطع دلائل بھی موجود ہیں تو آپ پر لازم ہے کہ آپ میری غلط فکری کو دور کرنے کی کوشش کریں۔ اگر آپ ایسا نہیں کرتے تو آپ خود کو اس نازک خطرے میں ڈال رہے ہیں کہ آخرت میں آپ سے پوچھا جائے کہ تم ایک شخص کی غلطی کو جان رہے تھے اور وہ خود تم سے دریافت کرنے کے لیے تمہارے پاس حاضر بھی ہوا تھا۔ پھر کیوں تم نے اس کی غلطی اس پر واضح نہیں کی۔ اگر کسی کے پاس حق ہے تو وہ خدا کی ایک امانت ہے۔ اور اس امانت کا سب سے زیادہ مستحق وہ شخص ہے جو اس حق سے محروم ہو۔ پھر کیا آپ اس امانت کو اس کے حقدار تک پہنچانے کی کوشش نہیں کریں گے۔

میری یہ چند سطریں اگر آپ کو متاثر کر سکیں اور آپ اپنا تبصرہ لکھ کر مجھے بھیجنے پر آمادہ ہو جائیں تو میری خوش نصیبی ہو گی۔ اور اگر ایسا نہ ہو تو مجبوراً میں عرض کروں گا کہ میری تحریر مجھے واپس بھیج دیں۔

خادم وحید الدین

اس کے بعد 20جولائی 1962ء کی ڈاک سے مولانا مودودی کے پاس بھیجی ہوئی تحریر مجھے واپس مل گئی۔ اس کے دو دن بعد23 جولائی 1962 ء کو ایک لفافہ ملا جس میں درج ذیل خط ملفوف تھا۔

لاہور، 14 جولائی 1962ء

محترمی و مکرمی السلام علیکم و رحمۃ اللہ

عنایت نامہ مورخہ9جولائی ملا۔ آپ کا 25 جون والا خط مجھے ابھی تک نہیں پہنچا۔ میں نے شمس پیرزادہ صاحب سے جو بات کہی تھی وہ اس بنا پر تھی کہ مجھے آپ کے خیالات کا اس وقت تک پوری طرح علم نہ تھا۔ اپنے پچھلے خط میں مختصر معذرت لکھتے ہوئے بھی جو رائے میں نے قائم کی تھی وہ آپ کے مضمون پر ایک سرسری نظر ڈالنے کے بعد قائم کر لی گئی تھی، بعد میں میں نے پورے مضمون پر ایک نگاہ ڈالی تو پتہ چلا کہ آپ کہاں تک پہنچ چکے ہیں۔

میرا خیال یہ ہے کہ آپ کا مطالعہ نہایت ناقص ہے۔ آپ نے غلط نتائج نکالے ہیں۔ اور میرے مسلک کو بھی آپ پوری طرح نہیں سمجھے ہیں۔ بلکہ اس کی ایک غلط تعبیر آپ نے کر لی ہے لیکن غضب یہ ہے کہ اس مضمون میں آپ اپنے آپ کو ایک بہت اونچے مقام پر فائز سمجھ کر کلام فرما رہے ہیں۔ اور آپ کا انداز کلام یہ ہے کہ جو شخص آپ کے نقطۂ نظر کو قبول نہیں کرتا وہ جاہل و نادان بھی ہے اور ضال و مضل بھی۔ اب میری مشکل یہ ہے کہ علم کی کمی کے ساتھ جو شخص اس طرح کے زعم میں مبتلا ہو اس سے مخاطب ہونے کی مجھے عادت نہیں ہے۔

آپ کے لیےاب دو ہی راستے ہیں۔ ایک یہ کہ آپ اپنے نقطہ ٴنظر کے مطابق اپنی دعوت مثبت طور پر پیش کریں اور خواہ مخواہ دوسروں کی تردید کو اپنا فرض نہ سمجھ لیں۔ یہ راہ آپ اختیار کریں گے تو دوسروں کو بھی آپ سے تعرض کی ضرورت نہ ہو گی۔ دوسری راہ یہ ہے کہ آپ میری تردید ہی سے اپنے کام کا آغاز فرمائیں اور یہ سمجھیں کہ یہ کام آپ کے اوپر فرض ہو چکا ہے۔ یہ راہ آپ اختیار کریں گے تو بشرط ضرورت میں خلق خدا کو آپ کی پیدا کردہ غلط فہمیوں سے بچانے کے لیے آپ کے دلائل کا رد کروں گا۔ آپ خود تو اس مقام سے گزر چکے ہیں جہاں آپ کو سمجھانے کی کوشش مفید ہو سکتی تھی۔ البتہ خلق خدا اس کی مستحق ضرور ہے کہ اسے غلط فہمی میں پڑنے سے بچایا جائے۔ اس کام کو اگر ہندستان و پاکستان کے دوسرے لوگ کر دیں تو مجھے بولنے کی ضرورت نہ ہو گی۔ ورنہ مجبوراً یہ ناگوار کام کروں گا۔

آپ کا مضمون اس خط کے ساتھ واپس بھیج رہا ہوں۔

خاکسار ابوالاعلیٰ

مولانا مودودی کا یہ جواب پڑھنے کے بعد مجھ پر جو پہلا تاثر ہوا وہ یہ تھا کہ مولانا مجھ پر جس زعم میں مبتلا ہونے کا الزام دے رہے ہیں۔ خود انہوں نے اپنے خط میں اس کا نہایت شدت کے ساتھ مظاہرہ کیا ہے۔ تاہم ان باتوں کو نظرانداز کرتے ہوئے میں نے 25 جولائی کو ان کے نام حسب ذیل خط روانہ کیا۔

رامپور، 25 جولائی 1962ء

محترمی سلام مسنون

گرامی نامہ مورخہ 14 جولائی ملا۔ مجھے افسوس ہے کہ آپ نے میرے بارے میں یہ رائے قائم کر لی کہ میں ’’اس مقام سے گزر چکا ہوں جہاں سمجھانے کی کوشش مفید ہو سکتی ہے۔‘‘ کاش آپ جانتے کہ میرے سامنے حق کی تلاش کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ شاید آپ نے میری تحریر کی موجودہ تفصیلی ہیئت دیکھ کر یہ رائے قائم کی ہے۔ مگر اس کی یہ ہیئت دراصل اس لیے نہیں ہے کہ میں اب کچھ سننا نہیں چاہتا۔ بلکہ صورت حال کی مکمل توجیہ ڈھونڈتے ہوئے میں اس تفصیلی شکل تک پہنچ گیا ہوں۔ آپ خود تسلیم کریں گے کہ کوئی واقعہ محض جزئی مطالعہ سے پوری طرح سمجھا نہیں جا سکتا۔ بلکہ ہر واقعہ کے بہت سے پہلو ہوتے ہیں اور وہ ایک بڑے کل سے جڑا ہوا ہوتا ہے۔ اس لیے کسی واقعہ کو مکمل طور پر سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ اس کے پورے سیاق میں رکھ کر اسے دیکھا جائے۔ بس اس کے سوا اور کوئی چیز نہیں ہے جس نے میری تحریر کو موجودہ شکل دی ہے۔

مجھے افسوس ہے کہ آپ نے میری تحریر کو میرے ’’ناقص مطالعہ اور علم کی کمی‘‘ کہہ کر چھوڑ دیا ہے۔ حالانکہ آپ کے لیےیہ زیادہ بہتر تھا کہ آپ میرے اعتراضات کا تجزیہ کر کے اس کے استدلال کی کمزوریوں کو ظاہر فرما دیتے۔ اس طرح اصل بات کی تردید بھی ہو جاتی اور میرا ناقص علم بھی خودبخود ثابت ہو جاتا۔ مگر افسوس کہ اس کے بجائے آپ نے صرف دعوے پر اکتفا فرمایا۔ اگر فی الحال آپ سارے مضمون پر مفصل اظہار رائے نہیں کر سکتے تھے تو یہ بھی ممکن تھا کہ ’’مشتے نمونۂ ازخروارے‘‘ کے طور پر آپ اس کی ایک دو بحثوں کو لے کر میرے استدلال کی غلطیاں واضح کر دیتے۔ اگر آپ ایسا کرتے تو یہ میرے لیے آپ کے اس خط سے زیادہ مفید ہو سکتا تھا جس میں آپ نے صرف غیظ و غضب کا اظہار کیا ہے اور اصل بات سے کوئی تعرض نہیں فرمایا ہے۔

اپنے خط کے آخر میں جو بات آپ نے لکھی ہے۔ اس نے مجھے بڑی مشکل میں ڈال دیا ہے۔ اپنی لمبی تحریر یا آپ کے الفاظ میں ’’کتاب‘‘ نقل کر کے میں نے آپ کے پاس بھیجنے کی زحمت اسی لیے برداشت کی تھی کہ اگر میں غلطی پر ہوں تو پہلے ہی مجھے اپنی غلطی کا علم ہو جائے اور اس کو خواہ مخواہ شائع کرنے کی حماقت میں مبتلا نہ ہوں۔ مگر آپ نے اپنے خیالات کے اظہار کی شرط یہ رکھی ہے کہ پہلے وہ چھپ کر منظر عام پر آ جائے۔ اس کے بعد آپ اس پر تبصرہ کر سکتے ہیں۔ اگر مجھے چھاپنے ہی کا شوق ہوتا تو میں اب سے بہت پہلے اس کو چھاپ چکا ہوتا۔ مگر میں طویل مدت سے اس مسئلہ پر لوگوں سے تبادلہ خیال کرتا رہا ہوں۔ لیکن جب دیگر افراد سے میرا اطمینان نہ ہوا تو میں نے آپ کی طرف رجوع کیا۔ اگر یہ میری غلطی ہے تو افسوس کہ اس غلطی میں میرے سوا بہت سے دیگر افراد جماعت جو میری طرح بہک نہیں گئے بلکہ اب بھی آپ کے فکر پر گہرا اعتقاد رکھتے ہیں، وہ بھی براہ راست شریک ہیں۔ کیوں کہ انھیں نے مجھ کو یہ مشورہ دیا تھا بلکہ اصرار کیا تھا کہ میں اپنی تحریر آپ کے پاس بھیج کر آپ کا تبصرہ معلوم کروں۔

کاش اب بھی آپ میرے سوالات کا جواب دینے پر راضی ہو جائیں جہاں تک میرا معاملہ ہے، جن لفظوں میں اور جس طرح آپ فرمائیں میں وعدہ کرنے کے لیے تیار ہوں کہ میں اپنی حد تک انتہائی بے لاگ طریقے سے اس پر غور کرنے کی کوشش کروں گا۔ تاہم اگر بدقسمتی سے ایسا نہ ہو سکے تو میں اس پر بھی اپنے آپ کو بالکل آمادہ پاتا ہوں کہ اگر حالات مجھ کو اس کی اشاعت تک لے گئے اور اشاعت کے بعد آپ ’’خلق خدا‘‘ کے لیے جو تبصرہ لکھیں گے، اس کو دیکھ کر مجھ پر واضح ہو گا کہ میں غلطی پر تھا تو ان شاء اللہ کسی بھی مرحلے میں کوئی چیز میرے لیے واپسی کی راہ میں مانع نہیں ہو گی۔ البتہ آپ ضرور اس کے ذمہ دار ٹھہریں گے کہ آپ نے میری اصلاح کی کوشش نہیں فرمائی اور اصلاح کی کوشش سے پہلے بطور خود یہ رائے قائم کر لی کہ میں راہ راست پر آنے والا نہیں ہوں۔

خادم وحید الدین

لاہور، 5 اگست 1962ء

محترمی و مکرمی السلام علیکم و رحمۃ اللہ

آپ کا عنایت نامہ مورخہ 25 جولائی ملا۔ ایک مدت کے تحریری کام اور بکثرت لوگوں سے معاملات کرتے کرتے میرے اندر کم از کم اتنی صلاحیت پیدا ہو گئی ہے کہ کسی شخص کے مضمون کو پڑھ کر اس کی ذہنی کیفیت کو سمجھ سکوں۔ آپ کا مضمون پڑھنے کے بعد آپ کے ذہن کی جو کیفیت میرے سامنے آئی ہے وہ یہ ہے کہ ایک طرف آپ کے اندر سخت زعم اور ادعا پیدا ہو چکا ہے۔ اور دوسری طرف جس نقطۂ نگاہ کی تردید آپ کرنا چاہتے ہیں اس کے خلاف آپ کے اندر اچھی خاصی کد پیدا ہو چکی ہے۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

حتی کہ آپ بڑے جوش وخروش سے اس کو پیش کرنے والے پر چوٹیں کر گزرے ہیں۔ اس حد تک پہنچ چکنے کے بعد اب آپ مجھ سے رجوع فرماتے ہیں ۔ کیا آپ مجھ سے توقع رکھتے ہیں کہ میں آپ سے مناظرہ بازی کروں ؟ براہ کرم آپ اپنے مضمون کو خود تنقیدی نگاہ سے دیکھیں کہ اس میں آپ کس مقام سے بول رہے ہیں اور مجھے آپ نے کیا فرض کر کے ازاول تا آخر گفتگو فرمائی ہے ۔ اگر آپ کے اندر ابھی کچھ احتساب نفس کی صلاحیت باقی ہے تو مجھے امید ہے کہ آپ اپنے مضمون کے تنقید ی مطالعہ کے بعد خود اس نتیجے پر پہنچ جائیں گے کہ اس کے بارے میں جو طرز عمل میں نے اختیار کیا ہے ۔ اس کے سوا کوئی دوسرا طرز عمل میں اختیار نہیں کر سکتا تھا ۔ اس کے بعد اگر آپ اس مقام بلند سے جس پر آپ نے اپنے آپ کو فائز سمجھ کر کلام کیا ہے کچھ نیچے اترنے پر راضی ہوں ، اور یہ بھی محسوس فرمائیں کہ جس آدمی پر آپ نے پے درپے گرفتیں فرمائی ہیں وہ کم از کم طفل مکتب نہیں ہے ، تب اس امر کا امکان پیدا ہو گا کہ میں ان مسائل پر آپ سے گفتگو کروں جنھیں آپ اپنے مضمون میں زیرِ بحث لائے ہیں ۔ اور اگر ایسا نہ ہو تو آپ کے لیے وہی دو راستے کھلے ہیں جن کا میں نے پہلے ذکر کر دیا ہے۔

براہ کرم صاف گوئی کو غیظ وغضب نہ سمجھیے ۔ میں آپ کو کسی غلط فہمی میں مبتلا نہیں رکھنا چاہتا۔ اس لیے کسی لاگ لپیٹ کے بغیر اپنے تاثرات پہلے بھی ظاہر کر دیے تھے ، اور اب بھی کر رہا ہوں ۔

خاکسار ابو الا علیٰ

اس کے بعد میں نے حسب ذیل خط مولانا مودودی کے نام روانہ کیا۔

رامپور، 14 اگست 1963

گرامی نامہ مورخہ 5 اگست ملا۔ میں سمجھتا تھا کہ آپ مجھ سے اس قدر ناراض ہو چکے ہیں کہ اب شاید آئندہ خط وکتابت کا سلسلہ جاری نہ رہ سکے گا ۔ مگر اب تازہ خط کو دیکھ کر امید پیدا ہو گئی ہے کہ ابھی اس بات کا ’’ امکان ‘‘ باقی ہے کہ آپ مجھ سے ان مسائل پر گفتگو کریں جنھیں میں اپنے مضمون میں زیرِ بحث لایا ہوں ۔

محترم مولانا ! اگر میں اپنے آپ کو جانتا ہوں ، اور شاید دنیا میں سب سے بڑی حقیقت جس کو آدمی جان سکتا ہے ، وہ اس کی اپنی ذات ہی ہے ، تو میں عرض کروں گا کہ میرے بارے میں آپ کا یہ تصور بالکل خلاف واقعہ ہے کہ میں ’’ سخت زعم اور ادعا ‘‘ میں مبتلا ہوں۔ اور جس نقطہ نظر پر میں نے تنقید کی ہے اس سے مجھے اس قدر ’’ کد ‘‘ پیدا ہو چکی ہے کہ میں ’’مناظرہ بازی‘‘ کی سطح پر اتر آیا ہوں ، اور اب میرا یہ حال ہے کہ یہ امر بھی مشتبہ ہو گیا ہے کہ میرے اندر ’’ احتساب نفس ‘‘ کی صلاحیت باقی ہے یا نہیں ۔ میرے نقطہ نظر سے آپ کا اختلاف تو میرے لیے حیرت انگیز نہیں۔ مگر آپ کا یہ ریمارک ضرور حیرت انگیز ہے ۔ کیوں کہ جب میں اپنا جائزہ لیتا ہوں تو اپنی اندرونی کیفیت کو اس کے بالکل خلاف پاتا ہوں جو بد قسمتی سے آپ نے سمجھا ہے ۔ یہ میرے متعلق ایسی بات ہے جس کی میں اس دنیا میں سب سے زیادہ یقین کے ساتھ تردید کر سکتا ہوں ۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ اب سے چار مہینہ پہلے جب دہلی میں فیصلہ کیا گیا کہ میں اپنی تحریر کی ایک نقل آپ کے پاس بغرض تبصرہ بھیجوں تو میرے متعدد ساتھیوں نے مجھ سے کہا کہ پوری تحریر بھیجنا مناسب نہ ہو گا ۔ بلکہ صرف اس کا وہ حصہ بھیجنا چاہیے جس میں نظریاتی اور علمی بحث کی گئی ہے ، بلکہ مولانا ابو اللیث صاحب نے تو فرمایا تھا کہ الگ سے ایک سوالنامہ مرتب کرو جس میں خالص مستفسرانہ انداز میں متعلقہ آیات کے بارے میں اپنا اشکال پیش کیا گیا ہو۔ اور اسی کو بھیجو۔ ان لوگوں کا خیال تھا کہ مولانا مودودی چونکہ ذاتی طور پر تم سے واقف نہیں ہیں اس لیے وہ پوری تحریر دیکھ کر تمہارے بارے میں غلط فہمی میں پڑجائیں گے ۔ مگر میں نے ان لوگوں کا مشورہ نہیں مانا ۔ اور پوری تحریر کو بھیجنا اس لیے زیادہ مناسب سمجھاتا کہ پوری بات آپ کے سامنے آجائے اور آپ زیادہ واضح طور پر اس کا جواب دے سکیں ۔ جہاں تک غلط فہمی کے اندیشہ کا سوال تھا میں نے کہا ۔ مودودی صاحب کے متعلق میں جانتا ہوں کہ وہ بڑے وسیع ظر ف کے آدمی ہیں ۔ اسی کے ساتھ وہ ان مخصوص لوگوں میں سے ہیں جو تحریر دیکھ کر آدمی کو پہچان لیا کرتے ہیں ۔ اس لیے وہ محض کچھ الفاظ اور انداز بیان کی وجہ سے میرے بارے میں کوئی غلط رائے قائم نہیں کریں گے ۔مگر شاید اس دنیا کا یہ عالمگیر اصول ہے کہ کوئی چیز استثناء سے خالی نہیں ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

میں تسلیم کرتا ہوں کہ میری تحریر کا انداز بظاہر سخت ہے ۔ لیکن اگر آپ میری سطروں کے پیچھے جھانک سکتے تو آپ کو نظر آتا کہ وہاں ایک شکستہ دل ، ایک سراپا تشویشناک قلب اور عجز کے انتہائی احساس کے سوا اور کچھ نہیں ہے ۔ آپ لکھتے ہیں کہ تم جس ’’ مقام بلند‘‘ پر اپنے کو فائز سمجھ رہے ہو اس سے کچھ نیچے اترو تو گفتگو ہو سکتی ہے ۔ مگر میں سچ کہتا ہوں کہ ’’ کچھ ‘‘ نیچے اترنے کا سوال ہی کیا ہے ، میں تو ہمہ تن اپنے کو نیچے پڑا پاتا ہوں ۔ میری قلبی کیفیت اور میرا واقعی احساس آپ کی اس تشخیص سے اتنا دور ہے کہ مجھے بار بار تعجب ہوتا ہے کہ کیا اس دنیا میں اتنی خلاف واقعہ رائے بھی قائم کی جا سکتی ہے ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

حقیقت یہ ہے کہ اس واقعہ سے میرے سمجھ میں یہ بات آگئی کہ اگر کوئی شخص اپنے جیسے گوشت پوست رکھنے والے ایک انسان کو سمجھنے میں اتنی بڑی غلطی کر سکتا ہے تو اس کا امکان بدرجہ اولیٰ تسلیم کرنا چاہیے کہ ایک شخص خدا کے دین کو سمجھنے میں غلطی کر جائے ۔

غور فرمائیے۔ اگر میرے اندر ادعائی نفسیات کام کر رہی ہوتی تو کیا یہ ممکن تھا کہ میں آپ کا تبصرہ معلوم کرنے کے لیے بے چین رہتا ۔ میں پچھلے دو سال سے مسلسل یہاں کے انتہائی اوپر کے افراد سے ان مسائل پر گفتگو کر رہا ہوں ۔ اپنے خیالات قلم بند کر کے لوگوں کو دکھا رہا ہوں ، اتنے طویل مضمون کی نقلیں تیار کر کے اہل علم رفقا ء کے مطالعہ کے لیے بھیج رہا ہوں ۔ کیا ’’ زعم ‘‘ میں مبتلا ہونے والے آدمی کا طرز عمل یہی ہوتا ہے ۔ اگر میں جھوٹے زعم میں مبتلاہوتا تو یقیناً مجھے یہ کرنا چاہیے تھا کہ اپنا مضمون مرتب ہوتے ہی فوراً سے ان بہت سے پرچوں میں سے کسی ایک میں بھیج دیتا جو اس طرح کے مضامین کا گویا منھ کھولے ہوئے انتظار کر رہے ہیں ۔ مگر میں سچ کہتاہوں کہ مجھے اس تصور سے گھن آتی ہے کہ میں مخالف پرچوں میں چھپوں اور جماعت کے خلاف اس قسم کی سطحی اشتہار بازی کروں جو بہت سے لوگ عرصہ سے کر رہے ہیں ۔

حقیقت یہ ہے کہ میرے سامنے اس کے سوا اور کچھ نہیں ہے کہ میں یہ معلوم کروں کہ اسلام کا صحیح تصور کیا ہے ۔ اب چونکہ آپ نے امید دلائی ہے کہ آپ کچھ شرطوں کے ساتھ میرے خیالات پر تبصرہ کر سکتے ہیں ، تو میں عرض کرتا ہوں کہ میں کسی بھی قسم کے تحفظ اور استثناء کے بغیر آپ کی ہر شرط ماننےکے لیے تیار ہوں۔ اس سلسلے میں آپ جو صورت بھی تجویز فرمائیں ، میں اس کو بے چون وچرا تسلیم کر لوں گا۔ آپ یقین رکھیں کہ مجھے ہار جیت کا کوئی اندیشہ قطعاً امن دامن گیر نہیں ہے ۔ میں اپنی جیت اس کو سمجھتا ہوں کہ مجھے حق معلوم ہو جائے ، خواہ وہ میری بات ہو یا کسی اور کی بات ۔

آخر میں یہ بھی عرض کر دوں کہ میری اصل پیچیدگی کیا ہے ۔ میری اصل پیچیدگی یہ ہے کہ آپ نے اپنی مختلف تحریروں اور تقریروں میں اسلامی نصب العین یا انبیاء کے مشن کا جو تصور دیا ہے (واضح ہو کہ مشن کا تصور ، نہ کہ سیاست کو اسلام میں شامل کرنا ) وہ مجھے کسی آیت یا حدیث میں نہیں ملتا۔ اس سلسلے میں اب تک جتنے استدلال سامنے آئے ہیں وہ سب کے سب مجھے اصل بات کو ثابت کرنے میں ناکام نظر آتے ہیں ۔

میں اسی اشکال کے سلسلے میں خاص طور پر آپ کا جواب معلوم کرنا چاہتا ہوں ، باقی امور جو میری تحریر میں آپ کو نظر آئے ، وہ میرا اصل مسئلہ نہیں ہے ۔ بلکہ اصل بات کو پورے مجموعہ میں رکھ کر دیکھنے کی کوشش میں یہ تمام چیزیں زیرِ تحریر آگئی ہیں ۔ آپ کو اختیار ہے کہ ان کے بارے میں کوئی جواب دیں یا نہ دیں ۔ اگر آیات کا مفہوم متعین ہو گیا تو بقیہ مسائل آپ سے آپ حل ہو جائیں گے ۔

خادم وحید الدین

لاہور، 25 اگست 1962ء

محترمی ومکرمی السلام علیکم ورحمۃ اللہ

عنایت نامہ ملا ۔ اب یہ بحث بے کار ہے کہ آپ اپنی تحریر کے اصل محرکات جو بیان فرماتے ہیں ان میں اور خود اس تحریر کے بین السطور سے جھلکنے والے محرکات میں کیا فرق ہے ۔ ممکن ہے کہ میں ہی غلط فہمی میں پڑ گیا ہوں ، اور یہ بھی ممکن ہے کہ آپ اس مضمون میں اپنے اصل خیالات کی ترجمانی بلا ارادہ غلط طریقے سے کر گئے ہوں ۔ بہر حال اپنا جو منشا اب آپ ظاہر کر رہے ہیں ، کوئی وجہ نہیں کہ میں اسے غلط سمجھوں ۔ آپ براہ کرم اپنا مضمون پھر بھیج دیں اور اگر تکلیف فرما کراس کے درمیان ہر ورق کے ساتھ ایک ایک سادہ ورق لگوا کر بھیجیں تو زیادہ بہتر ہے ۔ میں ہر بات کا جواب اسی کے بالمقابل صفحہ پرمختصراً نوٹ کر دوں گا ۔ یہ ضروری نہیں ہے کہ میرے جوابات سے آپ کو اطمینان ہو جائے ۔ آپ اس کے بعد بھی سمجھنے کا حق رکھتے ہیں کہ میں دین کو سمجھنے میں غلطی کر گیا ہوں ۔ لیکن اپنی حد تک میں آپ کو سمجھانے کی کوشش ضرورکروں گا۔

والسلام

خاکسار ۔ ابو الا علیٰ

اس کے بعد میں نے مولانا سید ابو الا علیٰ مودودی کو لکھا کہ 

’’ آپ کے اس خط کو پڑھ کر بڑی خوشی ہوئی۔ یہ خط واقعی آپ کے شایان شان ہے اور میری اس توقع کے مطابق ہے جومیں نے آپ کے بارے میں قائم کر رکھی تھی۔‘‘

مزید میں نے دریافت کیا کہ اپنے سوالات میں آپ کے پاس کس شکل میں بھیجوں ۔ جواب میں موصوف کے معاون خصوصی کی طرف سے حسب ذیل خط ملا۔

لاہور ، 12 ستمبر 1962ء

مکرمی ومحترمی السلام علیکم ورحمۃ اللہ

آپ کا عنایت نامہ ملا ۔ آپ چاہیں تو سوالات بھی مرتب کر کے بھیج دیں تاکہ مولانا محترم کو بیک نظریہ معلوم ہو جائے کہ آپ متعین طورپر کن مسائل کی تحقیق چاہتے ہیں اور کون سی آیات واحادیث سے آپ کا ذہن ایک خاص نقطہ نظر کی طرف مائل ہوا ہے ۔ لیکن اس سوالنامے کے ساتھ آپ کی اصل تحریر (تعبیر کی غلطی ) بھی آجائے تو اچھا ہے تاکہ تفصیلی شکل بھی مولانا کے سامنے رہے ۔ اگرچہ مولانا آج کل بہت عدیم الفرصت ہیں ۔ مگر آپ کو مطمئن کرنے کی خاطر جو کچھ بھی کوشش وہ کر سکتے ہیں اس سے دریغ نہ کریں گے۔

خاکسار غلام علی

معاون خصوصی مولانا ابو الا علیٰ مودودی

اس خط کے ملنے کے بعد میں نے تحریر کے ایک حصہ کی نقل بذریعہ ڈاک روانہ کر دی اور اس کے ساتھ حسب ذیل خط لکھا ۔

رامپور ،25 ستمبر1962ء

محترمی سلام مسنون

مجھے اس بات کی بڑی خوشی ہے کہ آپ نے اپنے سابق فیصلہ کو بدل کر میری درخواست منظور فرما لی ہے کہ آپ میرے خیالات پر تبصرہ کریں اور میرے ان اشکالات کو دور کرنے کی کوشش فرمائیں جو آپ کے فکر کے سلسلے میں مجھے لاحق ہو گئے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ میرا اور آپ کا مدد گار ہو ۔ اور جو کچھ بھی اس کے نزدیک حق ہو اس کی طرف ہماری رہنمائی فرمائے۔

میں نے فی الحال یہی مناسب سمجھا ہے کہ اپنی مفصل تحریر آپ کی خدمت میں بھیجنے کے بجائے اپنے خیالات کو مختصر شکل میں آپ کے پاس روانہ کر وں ۔ اس خط کے ساتھ جو تحریر روانہ ہے اس میں میرا اشکال اپنی اولین صورت میں واضح طور پر آپ کے سامنے آجائے گا ۔ اس کے پیش نظر آپ اپنا جواب تحریر فرمائیں ۔ آپ کی ہدایت کے مطابق میں نے اپنی تحریر کے درمیان میں سادہ کاغذ لگا دیے ہیں تاکہ آپ کو لکھنے میں آسانی ہو۔

براہ کرم اس تحریر کے ملنے کے بعد رسید سے مطلع فرمائیں ۔ نیز یہ بھی مطلع فرمائیں کہ میں کب تک آپ کے جواب کی توقع کروں ۔ آپ کا جواب ملنے کے بعد اپنے تاثرات عرض کروں گا۔

خادم وحید الدین

میں نے یہ تحریر دو قسطوں میں مولانا کی خدمت میں روانہ کی ۔ پہلی بار 25 ستمبر کو اور دوسری بار 26 نومبر کو ۔ دوسری قسط کے ساتھ پھر میں نے حسب ذیل خط لکھا۔

اعظم گڈھ ،26 نومبر 1962ء

محترمی سلام مسنون

عرض یہ ہے کہ میں نے جو تحریر مرتب کی ہے ، اس کے دو حصے ہیں ۔ ایک حصہ میں آپ کی فکر پر نظریاتی گفتگو کی گئی ہے او ر دوسرے حصے میں اس فکر کی عملی نتائج کا بیان ہے ۔

میرا اصل مسئلہ یہ ہے کہ آپ نے اسلامی مشن کی جو تشریح کی ہے ۔ یا دوسرے لفظوں میں شریعت اور مشروع لہ کے درمیان جس نسبت کو بیان کیا ہے ، وہ مجھے قرآن سے ثابت ہوتا ہوا نظر نہیں آتا۔ اس لیے میرے نزدیک اصل اہمیت صرف پہلے حصہ کی ہے ۔ باقی دوسرا حصہ یعنی عملی نتائج ، تو ان کی اہمیت اس وقت ہے جب کہ پہلی بات صحیح ہو ۔ اگر پہلی بات غلط ثابت ہو جائے تو مذکورہ نتائج خواہ انھیں بطور واقعہ تسلیم بھی کر لیا جائے ، ان کی اس حیثیت سے کوئی اہمیت باقی نہیں رہتی کہ وہ کسی نظریاتی خامی کے سبب سے پیدا ہو ئے ہیں۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

اس لیے فی الحال میں آپ کے سامنے اپنی تحریر کا صرف پہلا حصہ۔ نظریاتی حصہ۔ رکھنا چاہتا ہوں ۔ مرسلہ مضامین کو دیکھنے کے بعد آپ کے سامنے یہ بات آجائے گی کہ وہ کیا وجوہ ہیں جن کی بنا پرمیں کہتا ہوں کہ آپ کی تعبیر قرآن سے ثابت نہیں ہوتی ۔ اسی کے ساتھ ’’ دین کا صحیح تصور ‘‘ کے عنوان سے جو مضمون روانہ ہے ،اس میں میں نے اپنی فہم کے مطابق دینی تقاضوں کی وہ تشریح پیش کرنے کی کوشش کی ہے جو میرے نزدیک دین کی صحیح تشریح ہے۔

اس طرح ان تمام مضامین کو دیکھنے کے بعد نظریاتی حیثیت سے میری پوری بات آپ کے سامنے آجائے گی ۔ مجھے امید ہے کہ ان کو دیکھ کر آپ اپنے واضح اور تفصیلی جواب سے مطلع فرمائیں گے ۔

خادم وحید الدین

اس کے کچھ دنوں بعد پھر میں نے حسب ذیل خط روانہ کیا۔

اعظم گڈھ، 8 دسمبر 1962ء

محترمی مولانا سید ابو الا علیٰ مودودی سلام مسنون

اپنی موجودہ بڑھتی ہوئی مصروفیات کے پیش نظر غالباً آپ محسوس کرتے ہوں گے کہ میں ایک خواہ مخواہ کا مسئلہ لے کر آپ کو اس میں الجھا رہا ہوں ۔مگر آپ جانتے ہیں کہ ہر شخص اسی مسئلے کو زیادہ اہم اور قابل توجہ سمجھتا ہے جس میں وہ خود لگا ہوا ہو۔ اس وقت آپ کی مصروفیتوں میں خلل انداز ہونے کے لیے میرے پاس یہی عذر ہے ۔

مجھے امید ہے کہ میری گستاخیوں کو معاف کرتے ہوئے آپ میرے مسئلہ پر غور کرنے کا وقت ضرور نکال لیں گے اور جلد میرے سوالات کا مفصل جواب روانہ فرمائیں گے۔

خادم ۔ وحید الدین

اس کے بعد مولانا مودودی کی طرف سے حسب ذیل خط ملا۔

لاہور،8 دسمبر 1962ء

مکرمی ومحترمی السلام علیکم ورحمۃ اللہ

آپ کا مرسلہ دوسرا مضمون بھی مل گیا ہے ۔ میں 20 اکتوبر سے مسلسل دور ے کر رہا ہوں اور اب پھر سعودی عرب کا سفر درپیش ہے ، اس لیے ابھی تک آپ کے مضامین پڑھ بھی نہیں سکا ہوں ۔ ذرا فرصت ملے تو انھیں پڑھ کر اپنے خیالات سے آپ کو آگاہ کروں گا ۔

والسلا م خاکسار ۔ ابو الا علیٰ

اس کے بعد مولانا کے معاون خصوصی جناب غلام علی صاحب کی طرف سے ایک خط مورخہ 17 جنوری 1963ء ملا جس میں موصولہ مضامین کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ میں اپنی تحریر کے بقیہ حصے بھی روانہ کردوں ’’ تاکہ بیک وقت سارے مضامین نگاہ میں رہیں۔ پھر ان شاء اللہ مولانا ان پر اپنے خیالات کا اظہار کریں گے ‘‘۔

other sourceWords of another person or source

جواب میں میں نے لکھا ۔

اعظم گڈھ، 30 جنوری 1963ء

محترمی مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی سلام مسنون

گرامی نامہ مورخہ 17 جنوری ملا۔ میں نے جو مضامین آپ کی خدمت میں بھیجے ہیں ، ان میں تین مضامین ہیں جن کے عنوانات حسب ذیل ہیں 

1۔ اسلامی مشن کی تعبیر

2۔ ’’ قرآن کی چار بنیادی اصطلاحیں ‘‘ پر تبصرہ

3۔ دین کا صحیح تصور ۔

ان تینوں مضامین میں میں نے نظریاتی حیثیت سے منفی اور مثبت طور پر اپنے خیالات پیش کیے ہیں اور یہی میرے ذہنی اشکال کی اصل بنیاد ہے ۔ ان کے علاوہ اس سلسلے میں اور جو چیز میں نے لکھی ہے وہ ’’نتائج ‘‘ سے متعلق ہے ۔ یعنی میرے خیال میں دین کی تعبیر میں جو غلطی ہوئی ہے، اس نے عملاً وہ نتائج بھی پیدا کر دیے ہیں جو اس طرح کے ذہن سے متوقع ہو سکتے تھے ۔

مگر یہ نتائج میرے اشکال کی اصل بنیاد نہیں ہیں ۔ کیوں کہ خواہ ان کو بطور واقعہ مان بھی لیا جائے پھر بھی ان کی اہمیت ا سی وقت ہے جب کہ ذہن کا غلط ہونا ثابت ہو جائے ۔ ورنہ بصورت دیگر ان کے دوسرے اسباب ہو سکتے ہیں ، اور دوسرے طریقہ سے انھیں دور کرنے کی کوشش کی جائے گی ۔ نیز ’’ نتائج ‘‘ سے متعلق یہ تحریر میں نے زیادہ تر ہندستان کے افراد کے پیش نظر مرتب کی ہے ، ان وجوہ سے میں بقیہ تحریر کو آپ کی خدمت میں بھیجنے کی ضرورت نہیں سمجھتا، اس وقت آپ نظریاتی پہلو سے میرے اشکال کا جواب دے دیں ۔ اس کے بعد جیسی ضرورت ہو گی اس کے مطابق کر لیا جائے گا ۔

یہ میرا خیال ہے تاہم اگر آپ کا اصرار ہو گا تو مجھے بقیہ تحریر بھیجنے میں بھی کوئی عذر نہیں ہے۔

خادم وحید الدین

اپنی تحریر کا ایک حصہ میں نے آخر ستمبر 1962ء میں اور دوسرا حصہ آخر نومبر 1962ء میں مولانا کی خدمت میں روانہ کیا تھا۔ اس طرح مہینوں کی مدت گزر گئی اور اس درمیان میں کئی بار یاد دہانی کے خطوط لکھے ۔ آخر طویل انتظار کے بعد 26مارچ 1963ء کی ڈاک سے مجھے ایک پیکٹ ملا۔ اوپر میرا پتہ لکھا ہوا تھا ، اور نیچے حسب ذیل سطریں درج تھیں ۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

المرسل  ملک غلام علی

معان خصوصی مولانا سید ابو الا علیٰ مودودی

اچھرہ ، لاہور،

پیکٹ کی شکل بتا رہی تھی کہ یہ وہی مضمون ہے جس کا مجھے پچھلے چھ مہینے سے شدید انتظار تھا ۔ مگر جب اس کو کھولا تو معلوم ہوا کہ بعینہ میرا مضمون مجھے واپس بھیج دیا گیا ہے ۔ درمیان میں لگے ہوئے تمام صفحات بالکل سادہ تھے ، بس ایک جگہ پیشانی پر نظر آرہا تھا کہ پنسل سے کچھ لکھ کر اسے مٹا دیا گیا ہے ۔چنانچہ میں نے حسب ذیل خط لکھا ۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

اعظم گڈھ، 26مارچ 1963ء

محترمی مولانا سید ابو الا علیٰ مودودی سلام مسنون

آج کی ڈاک سے میرا بھیجا ہوا مضمون واپس ملا۔ آپ کی فرمائش کے مطابق آپ کے جواب کے لیے ہر ورق کے درمیان میں نے سادہ اوراق لگادیے تھے ۔ مگر خلاف وعدہ وہ تمام اوراق بالکل خالی ہیں اور اس کے ساتھ آپ کا کوئی خط بھی نہیں ہے۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ کیا معاملہ ہے ۔براہ کرم صورت پہلی بار مئی 1962 ء میں جب میں نے اپنی تحریر مولانا مودودی کے نام روانہ کی تھی تو نظریات ونتائج سمیت پوری تحریر بھیج دی تھی۔ مگر بعد کو یہ زیادہ مناسب معلوم ہوا کہ صرف نظریاتی حصہ کے بارے میں ان کا تبصرہ معلوم کیا جائے ۔ چنانچہ دوسری بار میں نے صرف یہی حصہ بھیجا۔

حال سے مطلع فرمائیں ۔

خادم وحید الدین

اس کے بعد جب کئی روز کے انتظار کے باوجود مولانا کی طرف سے کوئی خط نہیں ۔ تو میں نے حسب ذیل الفاظ میں دوسرا خط روانہ کیا۔

اعظم گڈھ، 6 اپریل 1963ء

محترمی مولانا سید ابو الا علیٰ مودودی سلام مسنون

میں نے جو مضامین آپ کی خدمت میں بھیجے تھے وہ 26مارچ کی ڈاک سے مجھے اس طرح واپس ملے کہ نہ ان کے ساتھ آپ کا کوئی جواب تھا اور نہ کوئی خط جس سے معلوم ہوتا کہ کیوں آپ نے بلا جواب میرے مضامین واپس بھیج دیے ہیں۔

یہ مضامین پہلی بار میں نے مئی 1962ء میں آپ کی خدمت میں روانہ کیے تھے ۔ اور ان کے متعلق مکہ میں آپ نے شمس پیر زادہ صاحب کی زبانی وعدہ فرمایا تھا کہ ’’ میں ان کا جواب دوں گا ‘‘۔ مگر اس وعدہ کے باوجود آپ نے جولائی میں ان کو بلا جواب واپس کر دیا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس کے بعد مزید خط وکتابت ہوئی جس کے نتیجے میں آپ نے دوبارہ میرے مضامین طلب فرمائے ۔ اور اپنے خط مورخہ 25 اگست 1962ء میں یہ وعدہ فرمایا کہ —’’ اپنی حد تک میں آپ کو سمجھانے کی کوشش ضرور کروں گا ‘‘۔ چنانچہ میں نے دوبارہ یہ مضامین آپ کی خدمت میں بھیج دیے ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اب میں پوری طرح یہ امید کیے ہوئے تھا کہ آپ ضرور میرے مضامین پر تبصرہ فرمائیں گے ۔ ا ور خوش تھا کہ آپ کے جواب کے بعد متعلقہ مسئلہ پر زیادہ بہتر طریقہ پر غورکرنے کا موقع ملے گا ۔ کیوں کہ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جو براہ راست آپ کی ذات سے متعلق ہے ۔ اس لیے آپ جتنا بہتر طور پر اس کی وضاحت کر سکتے ہیں کوئی دوسرا شخص نہیں کر سکتا ۔ اس دوران میں خطوط کے تبادلے ہوتے رہے جن میں بار بار آپ کی طرف سے مذکورہ بالا وعدہ دہرایا گیا۔ آپ کے معاون خصوصی جناب غلام علی صاحب نے اپنے خط مورخہ 12 ستمبر 1962ء میں لکھا— ’’ مولانا آپ کو مطمئن کرنے کی خاطر جو کچھ بھی کوشش کر سکتے ہیں اس سے دریغ نہیں کریں گے ‘‘ اس کے بعد آپ کے اپنے دستخط سے آپ کا خط مورخہ 8 دسمبر 1962ء ملا جس میں تحریر تھا کہ ’’آپ کے مضامین پڑھ کراپنے خیالات سے آپ کو آگاہ کروں گا ‘‘۔ اس کے بعد جناب غلام علی صاحب کا خط مورخہ 17 جنوری 1963ء ملا جس میں انھوں نے لکھا تھا ’’ مولانا آپ کے مضامین پر اپنے خیالات کا اظہار کریں گے ‘‘۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ان تمام وعدوں کے باوجود میرے مضامین کی یہ خاموش واپسی حیرت انگیز ہے ۔ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ میں اس کی کیا توجیہ کروں ۔ مضمون واپس ملنے کے فوراً بعد 26 مارچ کو میں نے ایک خط آپ کے نام روانہ کیا تھا ۔ مگر ابھی تک اس کا کوئی جواب نہیں آیا ۔ اب دوبارہ لکھ رہا ہوں ۔ براہ کرم مطلع فرمائیں کہ اس حادثہ کی وجہ کیا ہے ۔ اگر کسی غلط فہمی کی وجہ سے یہ مضامین واپس آگئے ہوں تو میں سہ بارہ ان کو بھیجنے کے لیے تیار ہوں ۔

اس سلسلے میں آپ کے خط کا شدت سے انتظار ہے ۔

خادم وحید الدین

بعد کو معلوم ہوا کہ مولانا مودودی نے میرے مضامین بھیجتے ہوئے مجھے ایک خط بھی لکھا تھا ۔ مگر وہ وقت پر مجھے نہ مل سکا ۔ یہ خط مجھے اپریل کے تیسرے عشرہ میں ملا ۔ اس خط کی نقل حسب ذیل ہے ۔

لاہور، 21 مارچ 1963ء

محترمی ومکرمی السلام علیکم ورحمۃ اللہ

آپ نے اپنے مضامین ارسال کرنے کے بعد متعدد خطوط میں بار بار مجھ سے مطالبہ کیا ہے کہ میں آپ کے مضامین پر اظہار رائے کروں ۔ میں نے سر سری طور پر انھیں دیکھنے کے بعد اولین مرحلہ پر آپ سے عرض کر دیا تھا کہ آپ اتنے بلند اور بعید مقام تک پہنچ چکے ہیں کہ اب آپ سے گفتگو غیر ممکن ولاحاصل ہے ۔ مگر آپ نے میری گزارش تسلیم نہ کی اور برابر اصرار کیے چلے گئے ۔

میں نے دوبارہ آپ کی تحریروں کا بغور مطالعہ کیا ہے ۔ اور اس کے بعد پھر یہی رائے قائم کرنے پر مجبور ہوا ہوں کہ آپ سے تحریری مناظرے میں الجھنا میرے لیے ممکن اورموزوں نہیں ہے ۔ سردست میرے سامنے اپنی محدود قوت وفراغت کا بہتر مصرف موجود ہے ۔ اس لیے میں آپ سے اس سلسلے میں مستقل معذرت چاہتا ہوں اور امید رکھتا ہوں کہ آپ مزید مراسلت میں اپنا اور میرا وقت ضائع نہیں فرمائیں گے ۔

آپ کے مضامین آپ کی خدمت میں واپس ارسال کیے جا رہے ہیں ، آپ جس طرح چاہیں انھیں کام میں لا سکتے ہیں ۔

خاکسار

ابو الا علیٰ

اعظم گڈھ، 30 اپریل 1963ء

محترمی مولانا سید ابو الا علیٰ مودودی سلام مسنون

گرامی نامہ مورخہ 21 مارچ ملا ۔ مجھے حیرت ہے کہ آپ نے وعدہ کے باوجود میرے سوالات کا جواب دینے سے انکار کر دیا ۔ اگر آپ کسی وجہ سے تفصیلی جواب دینے کا موقع نہیں پا رہے تھے تو آپ میری بات پر ایک مجموعی تبصرہ کر سکتے تھے ، اور اگر یہ بھی آپ کے لیے ممکن نہیں تھا تو آخری شکل یہ تھی کہ پوری بحث سے کسی ایک پوائنٹ کو لے کر آپ اس کا تجزیہ کر دیتے اور اس طرح مجھ پر یہ واضح فرما نے کی کوشش کرتے کہ تمہارا استدلال نہایت کمزور ہے ۔ اس کے اندر کوئی علمی وزن نہیں ۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

اپنے پچھلے خطوط میں یہ ساری صورتیں میں نے آپ کے سامنے رکھی تھیں ۔ مگر ان میں سے کسی صورت کو اختیار کرنے کے بجائے آپ نے مجھ پر طنز یہ حملے کر ڈالے ۔ اگر آپ کے پاس طنز وتعریض کے لیے الفاظ تھے تو یقیناً جواب دینے کے لیے بھی الفاظ ہو سکتے تھے مگر آپ نے معلوم نہیں کیوں پہلی صورت کو پسند فرمایا اور دوسری صورت کو چھوڑ دیا۔

میں عرض کروں گا کہ ایسا کر کے آپ نے اپنے لیے بہت مخدوش راہ کا انتخاب کیا ہے۔ پہلی بات تو یہ کہ جب ایک شخص آپ کے سامنے اپنا ذہن لے کر آتا ہے اور آپ جانتے ہیں کہ اس کا ذہن غلط ہے اس کے باوجود آپ ایک لفظ بھی اس کے جواب میں نہیں کہتے اور بلا جواب اسے لوٹا دیتے ہیں تو گویا جس حد تک آپ کو اس کی غلطی کا علم ہے اس حد تک آپ اس کی غلطی کی ذمے داری اپنے سر لے رہے ہیں ۔ سوچئے کہ یہ کتنی سنگین بات ہے ۔

دوسری بات یہ کہ آپ جان چکے ہیں کہ میں اپنے مطالعہ سے جن خیالات تک پہنچا ہوں ، میرے نزدیک وہ اس نوعیت کے خیالات ہیں جو مجھے اس نتیجے تک لے جاتے ہیں کہ ’’ دین مجروح ہوا ہے ‘‘ اب اگر میرا یہ احساس باقی رہتا ہے تو لازماً میرے لیے ضروری ہو جاتا ہے کہ اپنی وسع کے بقدر اس کا اعلان واظہار کروں ۔ اگر آپ کا مطالعہ اور آپ کا علم میرے اس احساس کو غلط سمجھتاہے تو آپ کے لیے ضروری تھا کہ میرے اس احساس کو بدلنے کی کوشش کر کے مجھے اس اقدام سے بچانے میں اپنا حصہ ادا کرتے ۔ اس کے بعد بھی اگر میں اقدام کی حماقت کرتا تو اس کی ذمہ داری میرے اوپر ہوتی۔ مگر جب آپ نے اپنا جواب دے کر مجھے اس سے روکنے کی کوشش نہیں کی تو اب میرے اقدام کی ذمہ داری براہ راست آپ کے اوپر چلی گئی ہے ۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

زیرِ بحث مسئلہ میں آپ کا جواب حاصل کرنے کے لیے پچھلے گیارہ مہینے سے میں آپ سے جو ربط قائم کیے ہوئے تھا ، بلا شبہ وہ گواہی دیں گے کہ آج میں مظلوم ہوں۔ کاش آپ جانتے کہ خود ظالم بننا اور دوسرے کو مظلومی کی پوزیشن میں ڈال دینا آدمی کو خدا کی مدد سے محروم کر کے دوسرے کو اس کا مستحق بنا دیتا ہے ۔ خدا کی مدد ہمیشہ مظلوم کو ملتی ہے، نہ کہ ظالم کو ۔

خادم وحید الدین

اس خط کا مولانا مودودی کی طرف سے کوئی جواب نہیں آیا ۔ میرے لیے یہ سمجھنا مشکل ہے کہ انہوں نے میرے سوالات کے بارے میں ایسا رویہ کیوں اختیار کیا۔ مگر جاننے والے جانتے ہیں کہ یہ میرے لیے ایک بہت بڑاحادثہ ہے ۔ جب سے یہ خیالات میرے ذہن میں آئے ہیں، اسی وقت سے میں بے حد پریشان رہا ہوں ۔ ایک طرف میرا یہ احساس کہ ’’ دین مجروح ہوا ہے ‘‘ مجھ سے تقاضا کر رہا تھا کہ میں اس کا اعلان واظہار کروں ۔ دوسری طرف طبیعت اس کے لیے بالکل آمادہ نہیں تھی کہ کچھ لوگ جو دین کے نام پر کام کر رہے ہیں ان پر تنقید کی جائے۔ میں نے اپنے متعدد ساتھیوں سے کہا تھا کہ مجھے بہت خوشی ہو گی اگر مولانا مودودی کا جواب میرے ذہن کو بدل دے اور مجھے اس خرخشہ میں پڑنا نہ ہو ۔ حتی کہ میں نے یہ بھی کہا تھا کہ مولانا مودودی نے اگر باقاعدہ میری پوری تحریر کا جواب نہیں دیا اور صرف اتنا ہی کر دیا کہ تحریر کے کسی حصہ کو لے کر اسے غلط ثابت کر دیا تو اس سے کم از کم یہ فائدہ ہو گا کہ میں متزلزل ہو جاوں گا۔ کیوں کہ ایک جزء کی غلطی اگر سامنے آجاتی ہے تو یہ شبہ کیا جا سکتا ہے کہ ممکن ہے بقیہ اجزاء بھی غلط ہوں ۔ اور اس طرح مجھے اپنی تحریر کو شائع نہ کرنے کے لیے معقول عذر مل جائے گا۔

مگر افسوس کہ یہ امیدیں پوری نہیں ہوئیں ۔ اور اب میں انھیں جذبات کے ساتھ اس تحریر کو اشاعت کے لیے دے رہا ہوں جیسے کسی نازک معاملہ کا ایک گواہ ، معاملہ کی نزاکت کی وجہ سے بالکل نہ چاہتا ہو کہ عدالت میں حاضر ہو کر اپنی زبان کھو لے ۔ مگر ساری کوشش کے باوجود اس کی یہ خواہش پوری نہ ہو اور اس کو عدالت کے سامنے لا کر کھڑا کر دیا جائے ۔

آج یہ تحریرمیری خواہش کے خلاف شائع ہو رہی ہے ۔ مگر شاید میں یہ کہنے میں حق بجانب ہوں کہ اب اس کے شائع ہونے کی ذمے داری میرے اوپر نہیں بلکہ مولانا مودودی کے اوپر ہے ۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content