Maulana Wahiduddin Khan
18 min left
0:00

← Taaruf-e-Islam
Taaruf-e-Islam

دعوت

Urdu · 18 min

آگ کا انگارہ کسی اعلان کے بغیر بتا رہا ہوتا ہے کہ وہ گرم ہے۔ یہی حال سچے مبلغ کا ہے: آدمی جس دین کی تبلیغ کرنا چاہتا ہے، اگر وہ اس کو اپنے اندر اتار چکا ہو، تو اس کا وجود سراپا تبلیغ بن جاتا ہے۔ وہ بولنے سے پہلے بول رہا ہوتا ہے، اور اعلان کے بغیر اس کی ہستی اعلان میں ڈھل جاتی ہے۔

اللہ کے وہ بندے جو واقعی طور پر اللہ کی اطاعت کو اپنی زندگی میں شامل کر لیتے ہیں، ان کا عمل ایسے ایسے پہلوؤں سے اپنے تبلیغی نقش چھوڑتا ہے، اور ایسے ایسے مقامات سے اس کے دعوتی اثرات ظاہر ہو کر سامنے آتے ہیں جن کا پہلے سے کوئی اندازہ نہیں کیا جا سکتا۔ یہاں میں ہندوستان کی ریاست اتر پردیش کی ایک مسلم خاتون کا واقعہ نقل کروں گا۔ یہ واقعہ 1383 ہجری کا ہے، اور ذاتی طور پر میرے علم میں آیا ہے۔ مذکورہ خاتون ایک ڈاکٹر سے اپنا علاج کرا رہی تھیں۔

ڈاکٹر چونکہ ان کے وطن سے 500 کلومیٹر کے فاصلے پر رہتے ہیں، اس لیے اپنے احوال ان کو بذریعہ خط لکھ کر بھیجتی تھیں۔ یہ ایک ہومیوپیتھ ڈاکٹر ہیں، اور اپنے مخصوص طریقۂ علاج کے مطابق ان کی تاکید تھی کہ حالات بتانے میں یہ بات خاص طور پر لکھی جائے کہ مرض کیسے پیدا ہوا، کب بڑھتا ہے اور کب گھٹتا ہے، وغیرہ وغیرہ۔ خاتون کو جوڑوں کا درد تھا۔ جب وہ اچھا ہوا تو سر کا درد شروع ہو گیا۔

کسی علاج سے فائدہ نہیں ہوتا تھا۔ بالآخر انہوں نے ڈاکٹر کو لکھا۔ اپنے حالات کے سلسلے میں میں آپ کو کچھ لکھنا تھا۔ اپنے حالات کے سلسلے میں آپ کو کچھ لکھنا تھا تاکہ آپ مرض کی نوعیت سمجھ کر صحیح دوا تشخیص کر سکیں۔

مگر کئی دن سے سوچ سوچ کر رہ جاتی تھی۔ اب چونکہ یہ علاج کا معاملہ ہے اور طویل علالت کی وجہ سے وہ میرے لیے سخت تکلیف دہ ہو چکا ہے، اس لیے مجبوراً لکھتی ہوں۔ کہنا یہ ہے کہ جوڑوں کا درد جو مجھے پہلے ہو گیا تھا، وہ بفضلِہ تعالیٰ آپ کے علاج سے بالکل ٹھیک ہے، مگر اس کے بعد دردِ سر کی مستقل پریشانی شروع ہو گئی۔ یہ درد کیسے اٹھتا ہے، یہ لکھنے یا کہنے کی بات نہیں تھی، مگر مجبوراً لکھ رہی ہوں کہ اس کے بغیر شاید ہومیوپیتھک طریقۂ علاج میں صحیح دوا تجویز نہیں کی جا سکتی۔

بات یہ ہے کہ اگر میں رات کو ساری رات بات یہ ہے کہ اگر میں رات کو ساری رات آرام سے بستر پر پڑی رہوں تو سر میں قطعاً درد نہیں ہوگا، اور دن بھی خیریت سے گزر جائے گا۔ مگر مجھ کو راتوں کی تنہائی میں اٹھ کر نماز پڑھنا بہت پسند ہے۔ انہیں رات کی نمازوں میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ آخرت کا منظر یا قبر وغیرہ کی یاد شدت سے دماغ میں آتی ہے، اور اس وقت بے اختیار آنکھوں سے آنسو بہنے لگتے ہیں۔ بس انہی آنسوؤں کا نکلنا مضر ہوتا ہے۔

جیسے ہی آنکھ سے آنسو نکلے، سر میں درد شروع ہو جاتا ہے۔ میں نے بار بار اندازہ کیا ہے کہ آنسوؤں ہی کے نکلنے سے سر میں درد شروع ہوتا ہے۔ یہ بات کسی سے کہنے کی نہیں تھی، محض علاج کی خاطر میں اپنے دل پر جبر کر کے آپ کو لکھ دیا ہے۔ براہِ کرم خط کو پڑھنے کے بعد اسے پھاڑ کر ضائع کر دیں۔

یہ سادہ سے چند الفاظ جو ایک معمولی پڑھی لکھی خاتون کے قلم سے محض ضرورتِ شدید کی بنا پر نکل گئے تھے، جب وہ تعلیم یافتہ ڈاکٹر کے پاس پہنچے تو انہوں نے حیرت انگیز کام کیا۔ ڈاکٹر نے جواب میں لکھا: "گرامی نامہ ملا۔ آپ نے دردِ سر کی جو کیفیت بیان کی ہے، وہ میرے لیے تشخیص کے سلسلے میں بہت معاون ثابت ہوئی۔ چنانچہ میں نے دوا تجویز کر لی ہے۔

آپ نیٹرم میور 30 بازار سے منگوا کر کھا لیجیے۔ ان شاء اللہ ایک ہی خوراک میں فائدہ محسوس ہوگا۔ مگر میں یہ کہنے کے لیے آپ سے معذرت چاہتا ہوں کہ آپ کے حکم کے بموجب میں آپ کے خط کو پھاڑ نہ سکا، کیونکہ اس کا تعلق صرف آپ کے علاج سے نہیں ہے، بلکہ خود اپنے روحانی علاج کے سلسلے میں میں نے اس کو اس قدر مؤثر پایا کہ کسی تحریر یا نصیحت کا اتنا گہرا اور فوری اثر نہ ہوا تھا۔ آپ نے خط کو پھاڑنے کی بات اس خیال سے لکھی ہوگی کہ اس کے اظہار سے آپ کے اجر میں کمی ہوگی۔

لیکن اگر مجھ جیسے کھوئے ہوئے شخص کی کوئی تحریر لیکن اگر مجھ جیسے کھوئے ہوئے شخص کو کوئی تحریر حرکت میں لا سکے، تو وہ بلاشبہ میرے لیے آخری دم تک محبوب ہوگی۔ کاش میرے اندر بھی ایسی ہی کیفیت پیدا ہو جاتی، اور رات کی تاریکی میں آخرت کی بازپرس کا ہولناک منظر دیکھنے کی توفیق ہوتی۔ اس لیے یہ اظہار محض آپ کی اجازت کے لیے ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ میں نے اس لحاظ سے اپنے آپ کو بڑا خوش قسمت پایا کہ اپنے ایک مریض کے جسمانی علاج سے مجھے روحانی غذا ملی۔

یہ خاتون جن کا خط میں نے اوپر نقل کیا، وہ ایک خاموش طبیعت کی خاتون ہیں، اور ان کو اپنے بارے میں اس کمی کا شدید احساس ہے کہ وہ تبلیغ و دعوت کا کام نہیں کر سکتیں۔ مگر آپ نے دیکھا کہ ان کے ایک خاموش عمل نے کس طرح ایک ایسی تبلیغ کا کام انجام دیا جو تقریروں پر بھی بھاری ہو گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ دوسروں کے اوپر تبلیغ و دعوت کا کام کرنے کا مسئلہ سب سے پہلے خود اپنے آپ کو بدلنے کا مسئلہ ہے۔ تبلیغ و دعوت کا کام ذاتی عمل سے نہایت گہرا رشتہ رکھتا ہے۔

جس اسلام کے ہم مبلغ ہیں، اگر وہ خود ہماری زندگیوں میں اتر اترا ہوا ہے، تو وہ بے شمار پہلوؤں سے دعوتی کام میں مؤثر ہوگا۔ اور اگر ہماری زندگی اس سے خالی ہو، تو تقریر و تحریر کی شکل میں ممکن ہے کہ کچھ الفاظ وجود میں آ جائیں، مگر اس چیز کا وجود نہیں ہو سکتا جس کو حقیقی معنوں میں تبلیغ یا دعوت کہا جاتا ہے۔ دعوت و تبلیغ اور ذاتی عمل کے درمیان یہ رشتہ ان معنوں میں نہیں ہے۔ جیسے کوئی شخص ریاضیات کا لیکچرر بننا چاہتا ہو، تو وہ پہلے ریاضی کی تعلیم حاصل کر کے اسے خود سیکھتا ہے، تاکہ وہ ریاضی کے طلبہ کو اس کا درس دے سکے۔

ذاتی عمل اور تبلیغ کے درمیان اس قسم کا ارادی تعلق نہیں ہے، بلکہ وہ ایک فطری تعلق ہے۔ ذاتی عمل کا محرک اصلاً یہ نہیں ہے کہ آدمی کامیاب مبلغ بن جائے۔ ایسا ذاتی عمل کبھی وجود میں نہیں آ سکتا، اور اسی لیے اس قسم کا ذہن رکھنے والا شخص کبھی اچھا مبلغ بھی نہیں بن سکتا۔ مومن کے اندر عمل کا داعیہ اس لیے نہیں ابھرتا کہ وہ اس کے ذریعے سے عمدہ قسم کا مبلغ بن جائے گا، بلکہ جب خدا کا خوف اور آخرت کی بازپرس کا احساس اسے باعمل بنا دیتا ہے، تو اس وقت عین اس کے نتیجے کے طور پر ایسا ہوتا ہے کہ اس کی تبلیغ میں اس کی زندگی کے شرارے جھلکنے لگتے ہیں۔

وہ خود بخود ایک کامیاب مبلغ بن جاتا ہے۔ تبلیغ و دعوت میں ذاتی زندگی کے یہ اثرات مختلف پہلوؤں سے داخل ہوتے ہیں۔ میں یہاں صرف دو چیزوں کا ذکر کروں گا۔ نمبر ایک: سب سے پہلا اثر تو وہ ہے جس کو میں بالواسطہ تبلیغ کہوں گا۔

یہ وہ اثر ہے جو تبلیغ میں نکلنے سے پہلے بلا ارادہ اپنے تبلیغی اثرات دکھانا شروع کر دیتا ہے۔ جب ایک بندہ خدا کے دل میں اپنے رب کے سامنے حاضری کا خوف سماتا ہے، تو وہ فوراً اپنی زندگی پر نظرِ ثانی شروع کر دیتا ہے۔ اندر سے باہر تک اس کی زندگی بدلنے لگتی ہے۔ یہ تبدیلی اگرچہ اپنی انتہائی اور مکمل شکل میں کسی انسان کے لیے ناقابلِ مشاہدہ ہے، مگر اس کے باوجود اس کی کچھ جھلکیاں مختلف شکلوں میں لوگوں کے سامنے آتی رہتی ہیں، اور دیکھنے اور سننے والوں کو متاثر کرتی ہیں۔

جب اس کو یہ احساس ستاتا ہے کہ پچھلی غفلت کی زندگی میں اس نے فلاں شخص کے ساتھ ایک ایسی زیادتی کی تھی جو اس کے لیے آخرت میں بازپرس کا سبب بن سکتی ہے، اور وہ اس کے سامنے معافی مانگنے کے لیے حاضر ہوتا ہے، تو اس کے کپکپاتے ہوئے ہونٹ سننے والے کو بھی ہلا دیتے ہیں۔ اور غلطی کا اظہار کرتے وقت نکل پڑنے والے آنسو کتنے سیاہ اور غبار آلود دلوں کو دھو کر صاف کر دیتے ہیں۔ جب وہ غلط طریقے سے حاصل کیے ہوئے ایک مال کو اس اندیشے کی بنا پر واپس کرنے جاتا ہے کہ آخرت میں اس کے اصل مالک کو یہ اختیار دیا جائے گا کہ وہ اس کے بدلے غاصب کا سارا عمل لے لے اور اسے بالکل خالی چھوڑ دے، تو وہ ایک شخص کو صرف اس کا مال ہی نہیں لوٹاتا، بلکہ اسی کے ساتھ اس کو ایمان کی وہ دولت بھی واپس دلاتا ہے جو غفلت میں شیطان اس سے اچک لے گیا تھا۔ جب ایک واقعی نمازی سجدے میں ہماتن پڑا ہو جب ایک واقعی نمازی سجدے میں ہماتن پڑا ہوا خدا سے اس طرح سرگوشی کر رہا ہوتا ہے کہ بقیہ دنیا کی اسے خبر بھی نہیں ہوتی، عین اس وقت اس کی اس ہیئت و فنائیت کو دیکھ کر کسی بندہ خدا کا دل اندر ہی اندر اپنے رب کے آگے جھک جاتا ہے۔

وہ بے اختیار چاہنے لگتا ہے کہ وہ بھی اسی طرح اپنے خدا کو پا کر اس سے لپٹ جائے۔ جب زندگی کے عملی معاملات میں لوگوں کو اس سے سابقہ پیش آتا ہے، اور لوگ اس کی سچائی، پاکیزگی، دیانت داری اور ایفائے عہد کا تجربہ کرتے ہیں، تو وہ اپنے آپ کو بالکل مجبور پاتے ہیں کہ اس دین کی قدر کریں جس کے اندر یہ طاقت ہے کہ ایسے عمدہ انسان تیار کرے۔ حتیٰ کہ کتنے غیر مسلموں کو اس طرح کے تجربات سے اسلام کی توفیق ملتی ہے، اور کتنی غافل روحوں کو دوبارہ اسلام کا شعور نصیب ہوتا ہے۔ دو پتھر باہم ملیں تو کوئی خاص بات نہیں ہوگی، لیکن بجلی کا ایک تار جب دوسرے تار سے مس کرتا ہے تو فوراً سادہ تار میں برقی رو دوڑنے لگتی ہے۔

یہی حال انسان کا ہے۔ ایک اچھے انسان کی خصوصیات دوسرے انسان کے لیے برقی رو کی حیثیت رکھتی ہیں۔ انسان کے اندر فطری طور پر یہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ اچھی چیز سے اثر قبول کرتا ہے، اور خدا پرستی کی چیزیں اس کے دل کی آواز بن کر اس کی نفسیات میں پیوست ہو جاتی ہیں۔ جب ایک شخص کوئی عمدہ عمل کرتا ہے، یا اس کی زندگی سے خدا پرستی کا کوئی نور چھن کر لوگوں کے سامنے آ جاتا ہے، تو اس وقت دیکھنے والی آنکھیں اور سننے والے کان اسی طرح اس کو قبول کرتے ہیں جیسے بجلی کے تار سے کوئی دوسرا تار برقی رو قبول کرتا ہے۔

اس وقت فطرت کے ایک اندیکھے تار پر ایک طرف کے جذبات دوسری طرف منتقل ہونے لگتے ہیں۔ ایک کی ہلچل دوسرے کو لرزہ بر اندام کر دیتی ہے۔ ایک کی روشنی سے دوسرے کا باطن چمکنے لگتا ہے۔ یہ ایک بالکل فطری عمل ہے جو لازمی طور پر اس وقت وجود میں آتا ہے جب کسی کے اندر ایمان و اسلام کا شعلہ بھڑکے، اور اس کے گرد و پیش ایسے لوگ موجود ہوں جن کی فطرت مسخ نہ ہو گئی ہو، اور انسانی اوصاف ابھی باقی ہوں۔

نمبر دو: دوسری چیز وہ ہے جو براہِ راست تبلیغ میں ظاہر ہوتی ہے۔ یہ الفاظ جن کے ذریعے سے ہم اپنی بات دوسرے تک پہنچاتے ہیں، وہ کسی مفہوم کا مجرد اظہار نہیں ہیں، جیسے پانچ اور دس کسی چیز کے عدد کا مجرد اظہار ہے، بلکہ اسی کے ساتھ ان کے اندر مختلف قسم کی کیفیات پائی جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ الفاظ اور مفہوم کے اعتبار سے دو بالکل یکساں کلام اپنی کیفیت اور اثر کے اعتبار سے بے حد مختلف ہو جاتے ہیں۔ اس فرق کو واضح کرنے کے لیے میں یہاں دو شعر نقل کرتا ہوں۔

"خرابات عالم میں ہر چار جانب چمکتے ہوئے جام و مینا دھرے ہیں، ضرورت اسی کی ہے، اے اہل محفل، کوئی ہاتھ اس کو بڑھا کر اٹھا لے۔ " "یہ میخانہ ہے یہاں، کوتاہ دستی میں ہے محرومی، جو بڑھ کر خود اٹھا لے، ہاتھ میں مینا اسی کا ہے۔ " یہ دونوں اشعار مفہوم کے اعتبار سے باہم یہ دونوں اشعار مفہوم کے اعتبار سے بالکل ہم معنی ہیں، مگر الفاظ اور دروبست کے فرق نے دونوں میں زمین و آسمان کا فرق پیدا کر دیا ہے۔ یہ فرق کی ابتدائی قسم ہے جس کو ہم ادبی فرق کہہ سکتے ہیں، اور وہ قدرت کلام اور فنی ذوق کا نتیجہ ہوتا ہے۔

دوسرا فرق وہ ہے جو صاحب کلام کی اپنی اندرونی کیفیات کے اعتبار سے وجود میں آتا ہے۔ اگر آپ ایک واقعے سے متاثر ہوں تو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہ صرف آپ کا لب و لہجہ بدل جائے گا، بلکہ آپ کی زبان سے ایسے ایسے الفاظ نکلیں گے جو آپ کی اندرونی کیفیات کی ترجمانی کر رہے ہوں، جن میں آپ کا تاثر اسی طرح بھرا ہوا ہو جیسے کسی تازہ پھل میں اس کا رس بھرا ہوا ہوتا ہے۔ اس کے برعکس اگر آپ متاثر نہ ہوں تو آپ کا بیان واقعہ محض اخباری رپورٹ معلوم ہوگا۔ ذاتی طور پر ایمان و اسلام کی زندگی کو پا لینا آدمی کے تبلیغی کام میں یہی دوسری خصوصیت پیدا کرتا ہے۔

وہ اس کے کلام کو مجرد کلام کے مقام سے اٹھا کر مؤثر کلام بنا دیتا ہے۔ وہ اس میں شدت جذبات کا رس بھرتا ہے۔ وہ ننگے الفاظ کو کیفیات کا لباس اڑاتا ہے۔ وہ حروف کے مجموعوں کو دل کے ٹکڑے بنا دیتا ہے۔

وہ کلام کو خوشبو فروش کا معطر اشتہار بنا دیتا ہے، جو صرف پڑھا نہیں جاتا بلکہ اپنی خوشبو بھی مخاطب تک پہنچا دیتا ہے۔ جس کے اپنے اندر اسلام اترا ہوا نہ ہو، اس کے کلام میں بظاہر تمام شرعی باتیں موجود ہوں گی، مگر وہ بس الفاظ کا ایک مجموعہ ہوگا جس میں دل کی بو بسی جس میں دل کی بو بسی ہوئی نہیں ہوگی۔ وہ ایک سپاٹ کلام ہوگا جو خود اپنی حقیقتوں سے خالی ہوتا ہے۔ اس کے برعکس جب ایک ایسا شخص بولتا ہے جس نے فی الواقع دین کو پا لیا ہو تو اس کی زبان اور اس کے الفاظ میں حیرت انگیز خصوصیات پیدا ہو جاتی ہیں۔

وہ جب لوگوں کو آخرت سے ڈراتا ہے تو ایسا معلوم ہوتا ہے گویا وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے کہ اسرافیل اسرافیل سور لیے کھڑے ہیں اور اس بات کے منتظر ہیں کہ کس وقت حکم ہو اور پھونک مار کر دنیا کو تہ و بالا کر دیں۔ اس کے بے قرار جملے صاف بتاتے ہیں کہ وہ جو کچھ کہہ رہا ہے وہ محض کچھ الفاظ کی تکرار نہیں ہے بلکہ وہ ان ہیجان خیز واقعات سے براہِ راست آشنا ہو کر بول رہا ہے۔ اس کی تحریروں میں دل کا سوز گھلا ہوا ہوتا ہے۔ اس اس کے الفاظ اندرونی تپش کی انچ سے جل رہے ہوتے ہیں۔

اس کے ہر بول میں حقیقت کی خوشبو لپٹی ہوئی ہوتی ہے۔ اس کی سطروں کے درمیان جگہ جگہ نظر آتا ہے کہ انسوؤں نے ٹپک کر لکھی ہوئی سیاہی کا رنگ بدل دیا ہے۔ یہ چیزیں اس کے کلام کو حقیقت بیانی کے ایک ایسے مقام پر پہنچا دیتی ہیں جہاں دیکھنے والوں کو نظر آتا ہے گویا حقیقت خود مجسم مجسم بے نقاب ہو کر سامنے آ گئی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ تبلیغ و دعوت کے کام کو مؤثر بنانے کے لیے خارج میں کوئی ہتھیار موجود نہیں ہے۔

اس کی صرف ایک ہی تدبیر ہے۔ اپنے اندرون کو مسلمان بناؤ، اسی وقت تم اپنے بیرون کو مسلمان بنا سکو گے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.