Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Taaruf-e-Islam
Taaruf-e-Islam

آغازِ کلام

Urdu · 4 min

بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ ہر آدمی کی ایک سوچ ہوتی ہے جس کے تحت وہ زندگی اور کائنات کے بارے میں رائے قائم کرتا ہے۔ پھر اسی سوچ کے مطابق وہ کسی چیز کو سب سے اونچی جگہ دیتا ہے، اور اس کو اپنی عقیدتوں اور توجہات کا مرکز بناتا ہے۔ پھر اسی کے مطابق وہ ماحول کے اندر اپنا عمل کرتا ہے۔

ان تینوں چیزوں کو عقیدہ، عبادت، اور کردار کہہ سکتے ہیں۔ انہی تینوں چیزوں کے مجموعے کا نام دین ہے، اور اس اعتبار سے ہر آدمی کا کوئی نہ کوئی دین ہوتا ہے، خواہ وہ خدا پرست ہو یا غیر خدا پرست۔ اسلام یہ ہے کہ آدمی اس حقیقتِ واقعے کو پالے کہ اس دنیا کے پیچھے ایک قادرِ مطلق کا ارادہ کام کر رہا ہے، وہی اس کا خالق و مالک ہے۔ اسی کے یہاں ہر ایک کا حساب کتاب ہونے والا ہے۔

صحیح وہ ہے جو اس کے نزدیک صحیح ٹھہرے، اور غلط وہ ہے جو اس کے یہاں غلط قرار پائے۔ اس حقیقت کا پانا کسی ریاضیاتی فارمولے کا پانا نہیں ہے؛ وہ بندے کا اپنے خدا کو پانا ہے۔ یہ بے کچھ کا سب کچھ کو پا لینا ہے۔ اس لیے جو آدمی اس حقیقت کو پا لے، وہ اپنے پورے وجود کے ساتھ ایک اور ہی انسان بن جاتا ہے۔

اس کی زندگی ایک ربانی سمندر میں نہا اٹھتی ہے۔ یہ ایک ایسی دریافت ہوتی ہے جو اس کے دل و دماغ کو پوری طرح اپنی پکڑ میں لے لیتی ہے۔ اس کا دیکھنا اور سننا خدا کی نظر سے دیکھنا اور سننا بن جاتا ہے۔ اس کے فکر و خیال کی دنیا اگر اب تک تاریک تھی، تو اب اس کے اندر ایک نیا آفتاب جل اٹھتا ہے جو اس کی پوری ہستی کو روشن کر دیتا ہے۔

اس نفسیاتی یافت کا قدرتی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ ہماتن خدا کا ہو جاتا ہے۔ وہ اس کی یاد میں جینے لگتا ہے۔ وہ اپنی ہستی کو اس کے مقابلے میں کھو دیتا ہے۔ وہ اپنے پورے وجود کے ساتھ اس کے آگے جھک جاتا ہے۔

پھر اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ انسانوں کے درمیان اس کا سلوک ایک بندہِ خدا کا سلوک بن جاتا ہے۔ جہاں لوگ انانیت دکھاتے ہیں، وہاں وہ متواضع بن جاتا ہے۔ جہاں لوگ انتقامی کارروائی کرتے ہیں، وہاں وہ معاف کر دیتا ہے۔ جہاں لوگ ظلم پر اتر آتے ہیں، وہاں وہ انصاف پر قائم رہتا ہے۔

جہاں لوگ اپنی ذات کے لیے کٹ جاتے ہیں، وہاں وہ حق کی خاطر جڑ جاتا ہے۔ جہاں لوگ خود پا کر مطمئن ہو جاتے ہیں، وہاں وہ دوسروں کو دینے کی فکر کرتا ہے۔ جہاں لوگ دنیا کی رونقوں کی طرف دوڑتے ہیں، وہاں وہ آخرت کی چھپی ہوئی دنیا میں اپنے اپنے کو گم کر دیتا ہے۔ جہاں لوگ دنیا کی رونقوں کی طرف دوڑتے ہیں، وہاں وہ آخرت کی چھپی ہوئی دنیا میں اپنے کو گم کر دیتا ہے۔

یہی وہ سچی زندگی ہے جو پیغمبر کے ذریعے انسان کو بتائی گئی ہے۔ جو لوگ اس طرح ایک خدا کو اپنا لیں، وہ فطری طور پر باہم جڑ کر ایک ہو جاتے ہیں۔ وہ اس بھلائی کو دوسروں تک بھی پہنچانے لگتے ہیں جس کو انہوں نے اپنے لیے اختیار کیا ہے۔ ان کی باہر کی زندگی ان کی اندرونی زندگی کا عکس بن جاتی ہے۔

وحید الدین، 29 دسمبر 1980۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.