تحفظِ نبوت، تحفظِ کارِ نبوت
موجودہ زمانے میں مسلم تنظیمیں اور مسلم ادارے جگہ جگہ تحفظِ ختمِ نبوت کے نام سے جلسے کررہے ہیں۔ اِن موقعوں پر مسلمانوں کی بھیڑ اکھٹا ہوتی ہے، مقررین پر جوش تقریریں کرتے ہیں۔ وہاں یہ اعلان کیاجاتاہے کہ ہم ہر قیمت پر ختمِ نبوت کا تحفظ کریں گے۔مگر اِس قسم کے جلسے اور تقریریں سراسر بے معنی ہیں۔ ان کا تعلق نہ اسلام سے ہے اور نہ عقل سے۔
قرآن میں اعلان کیا گیا تھا کہ اللہ خاتم النبیین کی حفاظت فرمائے گا(5:67)۔ اللہ اپنے آخری کلام قرآن کو ہمیشہ محفوظ رکھے گا(15:9)۔ اللہ کا یہ فیصلہ پورا ہوا۔ دنیا میں ایسے حالات پیدا ہوئے جس کے بعد خاتم النبیین محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تاریخ اور آپ کی لائی ہوئی تعلیم پوری طرح محفوظ ہوگئی۔ قرآن پرنٹنگ پریس کے زمانے میں پہنچ کر آخری طور پر محفوظ ہوگیا۔ اب مسئلہ ختم نبوت کے تحفظ کا نہیں ہے، بلکہ اب مسئلہ صرف یہ ہے کہ کارِ نبوت (دعوت الی اللہ( کو ہر زمانے میں مسلسل طورپر جاری رکھا جائے۔
کارِ نبوت سے مراد وہی کام ہے جس کو قرآن میں تبلیغ ما انزل اللہ(5:67)کہاگیا ہے۔ پیغمبراسلام کا مشن در اصل دعوتی مشن تھا۔ مسلمانوں پر فرض ہے کہ وہ اِس دعوتی مشن کو ہر قوم میں اور ہر زمانے میں جاری رکھیں۔ وہ دعوت وتبلیغ کے کام میں پیغمبر آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کی قائم مقامی کریں۔ یہی کرنے کا اصل کام ہے اور یہی امتِ محمدی کی اصل ذمے داری۔
اصل یہ ہے کہ نبوت کا سلسلہ ختم ہوگیا، لیکن پیغام نبوت کا سلسلہ جاری ہے۔ اب مسلمانوں کی ذمے داری یہ نہیں ہے کہ وہ نعت خوانی کریں، یا گستاخِ رسول کو قتل کریں، یا تحفظ ختم نبوت کے جلسے کریں۔ یہ سب غیر متعلق کام ہے، اصل کام یہ ہے کہ تمام انسانوں تک خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے قرآن کو پہنچایا جائے، ہر زمانے کے لوگوں کو اس کے پیغام سے باخبر کیا جائے— تحفظ، خدا کا کام ہے اور دعوت اہلِ اسلام کا کام۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔