نور الدین زنگی(وفات 1174ء) مصر کے سلطان تھے۔ صلاح الدین ایوبی (وفات1193 ء)اُن کے ایک فوجی افسر تھے۔ سلطان نور الدین زنگی کے انتقال کے بعد اگر چہ اُن کے بیٹے موجود تھے، لیکن صلاح الدین ایوبی نے حکومت پر قبضہ کرکے سلطان کا منصب حاصل کرلیا۔ تیسری صلیبی جنگ(Crusade)میں،جس کا زمانہ 1189-1192 عیسوی ہے، صلاح الدین ایوبی نے فاتحانہ رول ادا کیا تھا۔اِس زمانے کا ایک واقعہ یہ ہے کہ ایک مسیحی جنرل ریجی نالڈ(Reginald of Chatton)نے 1182 عیسوی میں ایک مسلم قافلے پر حملہ کرکے اس کو زیر کرلیا۔ بتایا جاتا ہے کہ اُس وقت ریجی نالڈ نے مسلمانوں کو خطاب کرتے ہوئے کہا اَیْنَ مُحَمَّدُکُمْ لیُنْقِذَکُمْ (النوادر السلطانیۃ للقاضی ابن شدّاد، صفحہ64)۔ یعنی تمھارے محمد کہاں ہیں کہ وہ تم کو بچائیں۔ بعد کو حطّین کی جنگ (1187ء) ميں ریجی نالڈ کو صلاح الدین ایوبی کے مقابلے میں شکست ہوئی۔ ریجی نالڈ گرفتار ہوکر صلاح الدین کے کیمپ میں لایاگیا۔ اُس وقت صلاح الدین ایوبی نے ریجی نالڈ کو اُس کا قول یاد دلایا اور یہ کہہ کر اُس کو اپنی تلوار سے قتل کردیا هَا أَنَا انْتَصِرُ لِمُحَمَّدٍ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ (النوادر السلطانیۃ، صفحہ 64)۔ یعنی یہ لو، میں محمد علیہ الصلاۃ والسلام کا انتقام لیتاہوں۔
مسلم مورخین اِ س واقعے کو سلطان صلاح الدین ایوبی کی دینی حمیت اور اس کی قوتِ ایمانی کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ صحیح اسلامی شعور کے فقدان کا نتیجہ ہے۔ یہ موقع تھا، جب کہ صلاح الدین اور دوسرے مسلمان ریجی نالڈ کے سامنے اِس بات کی گواہی دیتے کہ ہمارے دین کے معاملے میں تم غلط فہمی کا شکار ہو۔ تم سمجھتے ہو کہ ہم، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا مشکل کشا سمجھتے ہیں، حالاں کہ ہم، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو صرف اپنا ہادی اور پیغمبر سمجھتے ہیں۔ ہمارے عقیدے کے مطابق، مشکل کشائی کا اختیار صرف اللہ رب العالمین کو ہے، نہ کہ محمد یا کسی اور شخصیت کو۔ پیغمبرانہ اسوہ کے مطابق، یہ وقت ریجی نالڈ کے سامنے حق کی گواہی دینے کا تھا، نہ کہ تلوار مارکر اس کو قتل کرنے کا۔
سلطان صلاح الدین ایوبی نے جو کچھ کیا، وہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے، قومی حمیت یا شخصی حمیت کا معاملہ تھا، مگر قومی حمیت یا شخصی حمیت کا طریقہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ نہیں۔ رسول اللہ کا طریقہ حمیتِ خداوندی کا طریقہ ہے، نہ کہ قومی حمیت یا شخصی حمیت کا طریقہ۔
اِس حمیتِ خداوندی کی ایک مثال یہ ہے کہ ہجرت( 622ء) کے سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابو بکر صدیق دشمنوں کی نظر سے بچنے کے لیے غارِ ثور میں پناہ لیے ہوئے تھے۔ مگر دشمن آپ کو تلاش کرتے ہوئے غارِ ثور کے دہانے تک پہنچ گئے۔ حضرت ابوبکر نے دیکھا کہ وہ لوگ تلواریں لیے ہوئے غارِ ثور کے باہر کھڑے ہیں۔ اُس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو جواب دیا تھا، وہ قرآن میں اِن الفاظ میں نقل ہوا ہے
لا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنا(9:40)۔ یعنی، تم غم نہ کرو، اللہ ہمارے ساتھ ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اِس قول سے معلوم ہوتا ہے کہ اِس طرح کے معاملے میں مومن کا احساس کیا ہونا چاہیے۔ اِس طرح کے معاملے میں مومن کو چاہیے کہ وہ اپنے عجز کے مقابلے میں اللہ کی قدرت کو دریافت کرے۔ وہ یہ یقین کرے کہ سارا اختیار اللہ تعالیٰ کو ہے۔ اللہ دینے والا ہے، اور اللہ چھیننے والا۔ عزت بھی اللہ کے ہاتھ میں ہے اور ذلت بھی اللہ کے ہاتھ میں۔ سارا اختیار اللہ کو حاصل ہے۔ اختیار کے معاملے میں کوئی اس کا شریک نہیں۔
مومن پر فرض ہے کہ وہ پورے شعور کے ساتھ اِس حقیقت کو جانے۔ ذاتی اعتبار سے اُس کا یقین اِسی عقیدے پر قائم ہو۔ اِسی کے ساتھ مومن پر یہ فرض ہے کہ جب بھی اِس قسم کا کوئی وقت آئے تو وہ لوگوں کے سامنے اِس حقیقت کی گواہی دے۔ وہ لوگوں کو بتائے کہ اللہ کے اختیار میں کوئی اس کا حصہ دار نہیں۔ اللہ کے اختیار میں کسی کو حصے دار ماننا شرک ہے، اور شرک ایک ایسا جرم ہے جو اللہ کے یہاں کسی حال میں قابلِ معافی نہیں (النساء،4:48)۔ جس طرح اللہ کی قدرت میں کسی کو شریک ماننا ایک جرم ہے، اُسی طرح یہ بھی ایک جرم ہے کہ کسی مومن کے سامنے اِس طرح کی صورت پیش آئے اور وہ لوگوں کے سامنے اِس حقیقت کی گواہی نہ دے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔