قرآن کی سورہ الجاثیہ میں ایک آیت آئی ہے۔ اس کے الفاظ یہ ہیںقُلْ لِلَّذِينَ آمَنُوا يَغْفِرُوا لِلَّذِينَ لا يَرْجُونَ أَيَّامَ اللَّهِ لِيَجْزِيَ قَوْماً بِما كانُوا يَكْسِبُونَ(45:14)۔ یعنی ایمان والوں سے کہہ دو کہ وہ اُن لوگوں کے ساتھ عفو ودرگزر کا معاملہ کریں جو ایّام اللہ کے ظہور کی توقع نہیں رکھتے، تاکہ اللہ ایک قوم کو اُس چیز کا پورا بدلہ دے جو وہ کرتی رہی ہے۔
قرآن کی اِس آیت کی تشریح میں مفسر القرطبی نے لکھا ہےنَزَلَتِ الْآيَةُ بِسَبَبِ أَنَّ رَجُلًا مِنْ قُرَيْشٍ شَتَمَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَهَمَّ أَنْ يَبْطِشَ بِهِ (تفسیر القرطبی، جلد 16 ، صفحہ 161)۔ یعنی یہ آیت اِس واقعے کے بعد اتری کہ قریش کے ایک آدمی نے عمر بن الخطاب کا سب وشتم کیا۔ عمر نے چاہا کہ وہ اس کو پکڑیں اور ماریں۔ اِس موقع پر قرآن میں یہ ہدایت اتری۔
قرآن کی اِس آیت سے اور اِس قسم کی دوسری آیتوں سے ایک اہم اصول معلوم ہوتا ہے، وہ یہ کہ سب وشتم کا معاملہ قانونی سزا (legal punishment) کا معاملہ نہیں ہے۔ کوئی شخص نعوذ باللہ، خدا کا استہزاء کرے، وہ صحابہ کا استہزا کرے، وہ قرآن کا استہزا کرے، تو اِس بنیاد پر اُس کو قانونی مجرم قرار دے کر قانونی سزا نہیں دی جائے گی۔ اِس معاملے میں سزا کا تعلق تمام تر اللہ سے ہے۔ اللہ اپنے علم کے مطابق، ایسے لوگوں کو جو سزا دینا چاہے گا، وہ سزا دے گا۔ ایسے معاملے میں کسی شخص کو سزا دینا اسلام کی حمایت کے نام پر اسلام کے ساتھ بدترین عداوت کے ہم معنیٰ ہے۔
سب وشتم کے معاملے میں مسلمانوں کو جو کرنا ہے، وہ یہ کہ وہ ایسے شخص کے لیے دعا کریں، وہ اُس سے مل کر اُس کو نصیحت کریں، وہ اس کو دلائل کے ذریعے مطمئن کرنے کی کوشش کریں، وہ اس کی اصلاح کی پر امن جدوجہدکریں، وہ اس کو جسمانی سزا دینے کا کام اپنے ذمے نہ لیں۔ مومن کی حیثیت اِس دنیا میں داعی کی ہے، نہ کہ داروغہ( الغاشیۃ،88: 21-22)کی۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔