Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Shatm-e-Rasool Ka Masla
Shatm-e-Rasool Ka Masla

دعوت کے حدود

Urdu · 4 min

قرآن میں یہ حکم دیا گیا ہے 

فَذَكِّرْ إِنَّمَا أَنْتَ مُذَكِّرٌ ۔ لَسْتَ عَلَيْهِمْ بِمُصَيْطِرٍ (88:21-22)۔ یعنی ، تم لوگوں کو نصیحت کرو ، کیوں کہ تم صرف نصیحت کرنے والے ہو۔ تم لوگوں کے اوپر داروغہ نہیں ہو ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اسی طرح دوسرے مقام پر کہا گیا ہے 

مَا أَنْتَ عَلَيْهِمْ بِجَبَّارٍ فَذَكِّرْ بِالْقُرْآنِ مَنْ يَخَافُ وَعِيدِ(50:45)۔یعنی، تم لوگوں کے اوپر زبردستی کرنے والے نہیں ہو، پس تم قرآن کے ذریعہ اس شخص کو نصیحت کرو جو میرے پیغام کو سننے کے لیے راضی ہو ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

حضرت ابو موسیٰ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے کسی صحابی کو کسی کام پر بھیجتے تو فرماتے

hadithQuotes a hadith

بَشِّرُوا وَلَا تُنَفِّرُوا، وَيَسِّرُوا وَلَا تُعَسِّرُوا (صحیح مسلم، حدیث نمبر 1732)۔ یعنی، خوش خبری دو اور متنفر نہ کرو، آسانی پیدا کرو اور لوگوں کو مشکل میں نہ ڈالو ۔

hadithQuotes a hadith

اس طرح کی آیتیں اور حدیثیں گویا دعوت کے عمل کی حد بندی کر رہی ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ داعی کو ابلاغ کے دائرے میں رہ کر کام کرنا ہے ، اس کو اجبار(زور زبردستی) کے دائرے میں داخل نہیں ہونا ہے۔ اس کے لیے یہ مناسب طریقہ ہے کہ وہ سمجھانے بجھانے کے تمام ذرائع کو استعمال کرے۔ مگر اس کو یہ حق نہیں کہ وہ دین کے نام پر دھرنا یا احتجاج ،وغیرہ کاراستہ اختیار کر کےعام لوگوں کے لیے تکلیف کا سبب بنے(سنن ابو داؤد، حدیث نمبر 2629)۔ مثال کے طور پر شتم رسول کو لیجیے۔شتم رسول کا واقعہ پیش آنےپر مسلمانوں کا مروجہ احتجاجی ردعمل اسلامی تعلیمات کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتا۔ یہاں ایک داعی کو یہ کرنا ہے کہ وہ دلائل کے ذریعہ پیغمبر اسلام کی سیرت اور ان کے پیغام کو لوگوں کے سامنے پیش کرے۔ ’’شتم رسول‘‘کا واقعہ آپ کو یہ موقع فراہم کرتا ہے کہ آپ لوگوں کے سامنے پیغمبر کی تعلیمات کو پرامن انداز میں پیش کریں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

لیکن اگر کچھ لوگ ’’اینٹی شتم رسول مہم‘‘ چلائیں ۔ وہ شتم رسول کے خلاف سڑکوں پردھرنا دیں ، مفروضہ شاتم کا پتلا (effigy)بناکر اس کو جلائیں اور دکانوں کو بند کرائیں ، وغیرہ تو اس قسم کی مہم درست نہ ہوگی۔ یہ گویا ابلاغ کی حد کو پار کر کے اجبار کی حد میں داخل ہونا ہے۔ ایسا طریقہ عام انسانوں کو اللہ اور اس کے دین سے دورکرنے کا سبب بنتا ہے۔ اس قسم کی ’’ اینٹی‘‘ مہم چلانا گویا دعوتی مواقع کو قتل کرنا ہے۔ اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ تخریب کاری ہے، نہ کہ دین کی خدمت۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content