شہادت ایک عظیم عمل ہے؛ جو لوگ شہادت کا عمل انجام دیں، ان کے لیے اللہ کے یہاں عظیم درجات ہیں۔ ان کو جنت کے اعلیٰ درجات میں جگہ ملے گی۔ شہادت کیا ہے؟
شہادت عین وہی چیز ہے جس کو دعوت کہا جاتا ہے، یعنی اللہ کے پیغام کو پرامن طور پر اللہ کے بندوں تک پہنچانا۔ زندگی کی حقیقت، یعنی Reality of life، سے انسان کو اس کی قابلِ فہم زبان میں باخبر کرنا۔ شہادت یا دعوت کا مقصد یہ ہے کہ جس شخص کے اندر طلب ہو، وہ اللہ کے نقشۂ تخلیق کو جان لے؛ اور جس کے اندر طلب نہ ہو، اس پر اللہ کی حجت قائم ہو جائے۔ اس کو یہ موقع نہ رہے کہ وہ آخرت کے دن یہ کہہ سکے کہ "ہم کو یہ خبر ہی نہ تھی کہ خالق کا مطلوب ہمارے بارے میں کیا تھا"۔
شہادت یا دعوتی مشن کو قرآن میں مختلف الفاظ میں بیان کیا گیا ہے، مثلاً تبلیغ سورہ نمبر 5 آیت 67، یا انذار و تبشیر سورہ نمبر 4 آیت 165 وغیرہ۔ شہادت کا لفظی مطلب گواہی دینا، یعنی to witness ہے۔ شہادت اور دعوت دونوں کا مفہوم ایک ہی ہے، لیکن شہادت کے لفظ میں مبالغے کا مفہوم پایا جاتا ہے، یعنی دعوت کے کام کو اس طرح کامل صورت میں انجام دینا کہ آدمی کا پورا وجود دعوت کا مکمل اظہار بن جائے۔ یہی شہادت ہے۔
شہادت کا یہ تصور قرآن میں اجنبی، یعنی alien ہے، کہ شہادت کے دو درجے ہیں: قولی شہادت اور عملی شہادت۔ یعنی تقریر اور تحریر سے شہادت کی ذمہ داری ادا کرنا کافی نہیں؛ ضرورت ہے کہ مکمل نظام قائم کر کے لوگوں کے سامنے اس کا عملی مظاہرہ کیا جائے۔ یہ نظامی تصورِ شہادت نہ قرآن میں کہیں مذکور ہے اور نہ پیغمبروں میں سے کسی پیغمبر نے اس کو انجام دیا۔ حتیٰ کہ پیغمبر آخرالزمانے بھی نہیں۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم شاہد سورہ نمبر 45 آیت 33 تھے۔ آپ نے بلاشبہ کامل معنوں میں شہادتِ حق کا کام انجام دیا، مگر آپ نے ایسا نہیں کیا کہ مکمل نظام کا عملی مظاہرہ کر کے شہادت کا فریضہ انجام دیں، نہ مکی دور میں، نہ مدنی دور میں۔ حقیقت یہ ہے کہ شہادت کا یہ کام ایک ایسا کام ہے جس کو قول کے ذریعے انجام دیا جاتا ہے۔ البتہ یہ ضروری ہے کہ داعی کامل معنوں میں ناصح اور امین ہو۔
سورہ نمبر 7 آیت 68 ہو۔ یعنی مدعو کی نسبت سے کامل خیر خواہ، یعنی well-wisher، اور اللہ کی نسبت سے کامل امانت دار، یعنی honest۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.