حجۃ الوداع سے واپسی کے بعد سورہ نصر نازل ہوئی۔ یہ آپ کی واپسیٔ آخرت کا اشاریہ تھا۔ آپ اس کے بعد استغفار و تسبیح میں مشغول ہوگئے۔ حجۃ الوداع کے موقع پرآیت الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ(آج میں نے تمہارے دین کو تمہارے لیے مکمل کر دیا) سے آپ کو اندازہ ہو چکا تھا کہ اب آپ کا وقت قریب آ چکا ہے۔
غدیرخم کے موقع پر خطبہ دیتے ہوئے آپ نے ارشاد فرمایا تھا کہ مجھ کو یہ اندیشہ نہیں کہ میرے بعد تم لوگ شرک میں مبتلا ہو جائو گے البتہ اندیشہ ہے کہ تم دنیا کی حرص و طمع اور باہمی تنافر میں مبتلا ہو جائوگے۔ اور آپس میں لڑو گے اور ہلاک ہوگے۔‘‘
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔