Maulana Wahiduddin Khan
7 min left
0:00

← Seerat-e-Rasool
Seerat-e-Rasool

بعث ولید بن عقبہ

Urdu · 7 min read

محرم الحرام9ھ

ولید بن عقبہ کو آپ نے صدقات وصول کرنے کے لیے بنی المصطلق کی طرف روانہ کیا۔ لیکن ولید بن عقبہ کو غلط فہمی ہوگئی کہ یہ لوگ آمادۂ بغاوت ہیں۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آ کر کہا کہ وہ اس کے لیے آمادہ نہیں ہیں اور اسلام سے پھر گئے ہیں۔ اسی عرصہ میں بنی المطلق کو حقیقت حال کی خبر ہوگئی۔ انہوں نے اپنا ایک وفد آپ کی خدمت میں ارسال کیا اور حقیقت حال سے آپ کو مطلع کیا۔ اسی سے متعلق یہ آیت نازل ہوئی

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا...(49:6)۔ یعنی، اے ایمان والو، اگر کوئی فاسق تمہارے پاس خبر لائے تو تم اچھی طرح تحقیق کرلیا کرو۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ماہ صفر9ھ میں عبداللہ بن عوسجہ کوآپ نے بنی عمر بن حارثہ کی طرف اسلام کی دعوت کے لیے روانہ کیا۔ نیز صفر میں ہی قطبہ بن عامر کی قیادت میں بیس افراد کو خشعم کے مقابلہ کے لیے روانہ کیا جس میں مسلمانوں کو فتح ہوئی۔

آئندہ ماہ ربیع الاول میں سریہ ضحاک بن سفیان پیش آیا اور اس میں بھی مسلمانوں کو فتح ہوئی۔ انہی دنوں حبشیوں کی ایک جماعت جدہ آئی۔ رسول اللہ نے ان کے تعاقب کے لیے کچھ لوگوں کو بھیجا۔ یہ لوگ بھاگ گئے۔ اس موقع پر یہ واقعہ پیش آیا کہ کچھ لوگوں نے گھر کی طرف روانگی میں عجلت کی۔ حضرت علقمہ کو، جو سالار لشکر تھے، یہ بات نامناسب اور خلاف اصول معلوم ہوئی۔ چنانچہ انہوں نے ایک الائو جلوایا اور متعلقہ لوگوں کو حکم دیا کہ وہ اس میں کود جائیں۔ قصورواروں میں سے بعض اس کے لیے تیار بھی ہوگئے۔ تاہم فوراً علقمہ نے انہیں یہ کہہ کر روک دیا کہ میں نے تم کو صرف آزمایا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب اس بابت معلوم ہوا تو آپ نے فرمایا کہ’’جو تمہیں معصیت کا حکم دے اس کا حکم نہ مانو‘‘۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

ربیع الآخر9ھ میں آپ نے حضرت علی کو قبیلہ طے کی طرف روانہ فرمایا۔ اس کے نتیجے میں جو لوگ گرفتار ہوئے اس میں مشہور سخی حاتم طائی کی لڑکی سفانہ بھی تھی۔ اس نے اپنے باپ کی سخاوت کے حوالے سے آپ سے احسان کی درخواست کی۔ آپ نے اسے قبول کر لیا اور اس کو سواری اور زادراہ اور ہدیہ دے کر رخصت کیا۔

غزوہ تبوک

رجب 9ھ

رجب 9ھ میں ہر قل شاہ روم کو یہ بے اصل خبر پہنچائی گئی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہوگیا ہے اور لوگ بھکمری اور قحط سے دو چار ہیں۔ اس لیے عرب پر حملہ آور ہونے کا سب سے مناسب موقع یہی ہے۔ ہر قل یہ خبر پا کر فوراً آمادہ ہوگیا اور چالیس ہزار کا لشکر مسلمانوں پر چڑھائی کے لیے تیار کیا۔

آپ کو جب یہ خبر معلوم ہوئی کہ اس کا مقدمۃ الجیش بلقاء تک پہنچ چکا ہے اور یہ کہ ہر قل نے اپنے فوجیوں کو سال بھر کی پیشگی تنخواہیں بھی دے دی ہیں اور رومی پوری طرح آمادۂ جنگ ہیں تو آپ نے دفاع کے لیے تیاری کا حکم دیا اور لوگوں سے تعاون کی اپیل کی۔ سخت حالات کی بنا پر یہ سفر بہت صبر آزما تھا۔ منافقین نے مسلمانوں کو یہ کہہ کر ورغلانا شروع کیا کہ لَا تَنْفِرُوا فِي الْحَرِّ (9:81)۔یعنی، ایسی گرمی میں جنگ کے لیے مت نکلو۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

تاہم مخلص مسلمان اس کے لیے تیار ہوگئے۔ سب سے پہلے ابوبکر صدیق نے اپنا کل اثاثہ آپ کے سامنے لا کر رکھ دیا۔ جب آپ نے پوچھا کہ اہل وعیال کے لیے کیا چھوڑا ہے۔ تو آپ نے جوا ب دیا صرف اللہ اور اس کے رسول کو۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنا آدھا مال پیش کیا۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے تین سو اونٹ مع سازو سامان کے اور ایک ہزار دینار لا کر اس مہم کے لیے دیا۔ آپ نہایت خوش ہوئے۔ آپ نے فرمایا اس عمل صالح کے بعد عثمان کو کوئی عمل ضرر نہیں پہنچائے گا اور حضرت عثمان کے لیے دعا کی۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

صحابہ کی ایک جماعت ایسی بھی تھی جو اس سفر پر جانے کے لیے تیار تھی لیکن زادراہ اور سواری نہ ہونے کی وجہ سے وہ لوگ اپنے آپ کو مجبور پاتے تھے۔ ان لوگوں نے رسول اللہ سے سواری طلب کی لیکن آپ نے معذرت کر دی۔ وہ لوگ روتے ہوئے واپس ہوئے۔

انہی لوگوں کے متعلق قرآن کی وہ آیت اتری جس کا ترجمہ یہ ہے اور نہ ان لوگوں پر الزام ہے کہ جب تمہارے پاس آئے کہ تم ان کو سواری دو۔ تم نے کہا کہ میرے پاس کوئی چیز نہیں کہ تم کو اس پر سوار کر دوں تو وہ اسی حال میں واپس ہوئے کہ ان کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے اس غم میں کہ انہیں کچھ میسر نہیں جو وہ خرچ کریں۔(9:92)

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

جب مدینہ سے روانگی کا وقت آیا تو آپ نے محمد بن سلمہ انصاری کو مدینہ میں اپنا قائم مقام اور والی مقرر کیا اور حضرت علی کو اہل وعیال کی حفاظت و نگرانی کے لیے مدینہ میں چھوڑا۔ اس کے بعد مدینہ سے30 ہزار فوج کے ساتھ روانہ ہوئے۔ راستہ میں وہ عبرتناک مقام بھی پڑتا تھا جہاں قوم شمود پر اللہ کا عذاب نازل ہوا تھا۔ جب قافلے کا وہاں سے گزر ہوا تو آپ نے چہرہ پر کپڑا لٹکا لیا اور ناقہ کو تیز کر دیا اور تمام لوگوں کو یہ تاکید کی کہ کوئی شخص ان مکانات میں داخل نہ ہو اور نہ ہی یہاں کا پانی وغیرہ استعمال کرے۔

ایک جگہ آپ نے پڑائو ڈالا تو اس دوران آپ کی اونٹنی گم ہوگئی۔ ایک منافق نے کہا کہ محمد آسمان کی خبریں تو بیان کرتے ہیں لیکن زمین پر اپنی اونٹنی کی انہیں خبر نہیں۔ آپ کو اس کی خبر ملی تو آپ نے فرمایا خدا کی قسم مجھ کو جوکچھ بھی معلوم ہوتا ہے وہ اللہ کی وحی سے ہوتا ہے۔ اور اب الہام سے مجھے یہ معلوم ہوا ہے کہ وہ اونٹنی فلاح وادی میں ہے۔ اور اس کی مہار ایک درخت سے اٹک گئی ہے۔ چنانچہ صحابہ جا کر اس اونٹنی کو لے آئے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

تبوک پہنچ کر آپ نے بیس روز قیام فرمایا مگر کوئی مقابلے پر نہیں آیا۔ اسی مقام سے آپ نے خالد بن ولید کی قیادت میں چار سو بیس سواروں کے ساتھ اکیدر کی طرف بھیجا جو ہر قل کی طرف سے دومۃ الجندل کا حاکم اور فرماں روا تھا۔

آپ نے روانگی کے وقت خالد بن ولید سے فرمایا کہ وہ شکار کھیلتا ہوا ملے گا تم اسے قتل مت کرنا صرف گرفتار کرکے میرے پاس لے آنا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ خالد بن ولید اسے پکڑ کر آپ کے پاس لے آئے۔ اس نے آپ سے صلح کر لی۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

بیس روز قیام کے بعد آپ تبوک سے مدینہ واپس ہوئے۔ مدینہ پہنچ کر آپ نے دو افراد کو حکم دیا کہ وہ جا کر مسجد ضرار کو ڈھا دیں۔ یہ وہ مسجد تھی جس کو منافقین نے تعمیر کیا تھا۔ تبوک کے لیے روانگی سے قبل منافقین نے آپ سے کہا تھا کہ آپ آ کر یہاں ایک مرتبہ نماز پڑھا دیں تاکہ اس میں برکت ہو۔ آپ نے فرمایا تھا کہ جب میں تبوک سے واپس آئوں گا تب دیکھا جائے گا۔ واپس آنے کے بعد آپ نے اس کو ڈھانے کا حکم دے دیا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس غزوہ میں تقریباً تمام ہی لوگ شریک ہوئے تھے بجز چند افراد کے جن میں سے کچھ کے پاس شرعی عذر تھا۔ البتہ تین ایسے تھے جنہوں نے بلاعذر اس میں شرکت نہیں کی تھی اور جنہیں قرآن میں پیچھے رہ جانے والے کہا گیا ہے۔ ان لوگوں نے رسول اللہ کے پاس آ کر اپنے قصور کا اعتراف کر لیا۔ آپ نے لوگوں کو حکم دیا کہ پچاس دن تک کوئی ان سے بات چیت نہ کرے۔ پچاس دن کے بعد وحی نازل ہوئی جس میں ان کی توبہ کی قبولیت کی بشارت تھی۔ آپ نے حضرت کعب کو، جو ان تین پیچھے رہ جانے والوں میں شامل تھے، مبارکباد دی اور کہا’’مبارک ہو تم کو یہ دن جو تمہار ی زندگی کا سب سے بہتر دن ہے‘‘۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

حضرت کعب نے کہا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، اللہ نے مجھ کو محض سچ کی وجہ سے نجات دی ہے۔ اس لیے میں توبہ کا یہ تکملہ سمجھتا ہوں کہ تادم حیات جھوٹ نہ بولوں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content