Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Seerat-e-Rasool
Seerat-e-Rasool

طائف کا محاصرہ

Urdu · 3 min read

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین کے اموال غنیمت اور قیدیوں کے متعلق یہ حکم دیاکہ انہیں جعرانہ میں جمع کر دیا جائے اور خود طائف کا قصد فرمایا۔ آپ کے طائف پہنچنے کے چار روز بعد طفیل بن عمردوسی بھی ایک دبابہ اور منجنیق لے کر پہنچ گئے۔ مالک بن عوف نضری سردار ہوازن اپنی فوج کے ساتھ آپ کے پہنچنے سے قبل طائف کے قلعہ میں خود کو محصور کر چکا تھا۔ اس کے پاس کئی سال کا غلہ اور اشیائے خوردونوش تھیں۔ آپ نے طائف پہنچ کر ان کا محاصرہ کیا۔ منجنیق کے ذریعہ ان پر پتھر برسائے اور کئی ایک تدبیریں کیں تاہم مسلمان انہیں قلعہ سے باہر نکلنے پر مجبور نہ کر سکے۔ آپ نے ان کے باغات کے کٹوانے کا حکم دیا۔ اہل قلعہ نے اللہ اور قرابتوں کا واسطہ دیا تو آپ نے جوں کا توں چھوڑ دیا۔ اس کے بعد آپ نے دیوار قلعہ کے پاس یہ آواز لگوائی کہ جو غلام قلعہ سے اتر کر ہمارے پاس آ جائے گا وہ آزاد ہے۔ یہ سن کر بارہ تیرہ غلام اتر آئے وہ سب آزاد کر دیے گئے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

روایت میں آتا ہے کہ حضرت عمر نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ یا رسول اللہ ان لوگوں کے حق میں بددعا کیجئے۔ آپ نے جواب دیا کہ اللہ نے ہم کو اس کی اجازت نہیں دی ہے۔ آپ نے وہاں سے کوچ کا حکم دیا اور جاتے ہوئے یہ دعا کی

hadithQuotes a hadith

اللَّهمّ ‌اهْدِ ‌ثَقِيفًا وَأْتِ بِهِمْ (سیرۃ ابن ہشام، جلد2، صفحہ 448)۔یعنی، اے اللہ، ثقیف کو ہدایت عطا فرما اور انہیں میرے پاس پہنچا دے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ اور یہ قلعہ بعد کو خود بخود فتح ہوگیا۔ اور سبھی لوگ آپ کے پاس مدینہ آ کر اسلام میں داخل ہوگئے۔ طائف سے واپس ہو کر آپ پانچ ذی قعدہ کو جعرانہ پہنچے۔ جہاں مال غنیمت جمع کیا گیا تھا۔ یہاں پہنچ کر آپ نے دس دن تک ہوازن کا انتظار کیا کہ شاید وہ اپنے اعزاء و اطفال کو چھڑانے آئیں۔ لیکن جب اس مدت میں کوئی نہیں آیا تو آپ نے مال غنیمت مجاہدین کے درمیان تقسیم کر دیا۔ تقسیم غنائم کے بعد ہوازن کا وفد آپ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ انہوں نے قیدیوں کی رہائی کے بارے میں آپ سے گفتگو کی۔ یہ چھ ہزار افراد تھے۔ آپ نے انہیں رہا کر دیا۔ اس کے بعد وہ لوگ اسلام میں داخل ہوگئے۔

فتح مکہ کے بعد قریش کے جو سردار اسلام میں داخل ہوئے تھے، ان کے اعتقاد و ایمان میں پختگی نہیں آئی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تقسیم غنائم کے وقت ان کی تالیف قلب کے لیے ان کو اموال دیئے۔ انصار میں کچھ لوگوں کو یہ گراں گزرا۔ بعضوں نے زبان سے اس کا اظہار بھی کیا۔ اس پر اللہ کے رسول کھڑے ہوئے اور ایک تقریر فرمائی، جس میں دیگر باتوں کے علاوہ آپ نے انصار کو مخاطب کرتے ہوئے کہا

’’کیا تم اس پر راضی نہیں کہ اور لوگ تو اپنے گھراونٹ اور بکری لے کر واپس جائیں اور تم اللہ کے رسول کو اپنے ساتھ واپس لے کر جائو۔‘‘

hadithQuotes a hadith

اس تقریر کو سن کر انصار رونے لگے۔ اور کہا ہم اس تقسیم پر اضی ہیں کہ اللہ کا رسول ہمارے حصہ میں آئے۔

other sourceWords of another person or source

18 ذی القعدہ کو رات کے وقت آپ جعرانہ سے مکہ کی طرف عمرہ کے ارادے سے روانہ ہوئے۔ وہاں پہنچ کر عتاب بن اسید کو مکہ کاوالی مقرر فرمایا۔ اور معاذ بن جبل کو تعلیم دین کی غرض سے ان کے پاس چھوڑا۔ اور تقریباً ڈھائی ماہ بعد27 ذی القعدہ کو صحابہ کے ساتھ مدینہ واپس پہنچے۔

فتح مکہ کے بعد تقریباً تمام جزیرۃ العرب اسلام کے ماتحت آگیا۔ چنانچہ آپ نے مختلف علاقوں میں والی اور حاکم مقرر فرمائے۔ چنانچہ باذان جو کسریٰ کی طرف سے یمن کا ولی تھا، اس کو یمن کی ولایت پر قائم رکھا۔ ابوسفیان نجران کے اور عتاب بن اسید مکہ کے والی اور حضرت علی یمن کے قاضی مقرر ہوئے، وغیرہ۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content