← Seerat-e-RasoolSeerat-e-Rasool
سریہ عمر وبن العاص
Urdu · 15 min read
جمادی الثانی8ھ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر ملی کہ قبیلہ بنی قضاعہ کی ایک جماعت مدینہ پر حملہ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس لیے آپ نے ان کے خلاف عمر وبن العاص کو ذات السلاسل کی طرف روانہ کیا۔ ان کے ساتھ تین سو آدمی تھے جن میں تیس سوار تھے۔ جب قریب پہنچے تو معلوم ہوا کہ دشمنوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ اس نے رافع بن مکیث کو مدینہ روانہ کیا تاکہ آپ مدد کے لیے کچھ اور آدمی بھیجیں۔
آپ نے ابو عبیدہ بن الجراح کو دو سوآدمیوں کے ساتھ روانہ کیا جس میں ابو بکر و عمر بھی تھے۔ اور یہ ہدایت کی کہ جب تم اپنے ساتھی کے پاس پہنچو تو تم دونوں مل کر کام کرنا، اختلاف نہ کرنا۔ ابو عبیدہ جب وہاں پہنچے اور نماز کا وقت آیا تو امامت میں اختلاف ہوا۔ عمر وبن العاص نے کہا کہ امیر لشکر میں ہوں تم میری مدد کے لیے بھیجے گئے ہو اس لیے امامت میرا حق ہے۔ اختلاف سے بچنے کے لیے حضرت ابو عبیدہ نے ان کی امامت کو تسلیم کر لیا۔ اس کے بعد سب مل کر قبیلہ بنو قضاعہ پہنچے اور حملہ کیا۔ قبیلہ کے لوگ مرعوب ہوگئے اور اپنا مخالفانہ ارادہ ترک کر دیا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
فتح مکہ
رمضان8ھ
معاہدہ حدیبیہ کے مطابق قریش اس کے پابند تھے کہ وہ نہ مسلمانوں پر حملہ کریں گے اور نہ مسلمانوں کے حلیف پر۔ اس وقت بنوبکر قریش کے حلیف تھے اور بنو خزاعہ رسول اللہ کے ۔
دونوں قبیلوں میں زمانۂ جاہلیت سے دشمنی تھی۔ ایک موقع پر بنو بکر نے بنو خزاعہ پر شب خون مارا۔ یہ لوگ پانی کے ایک چشمہ پر سو رہے تھے۔ اس کارروائی میں قریش نے اپنے حلیف بنو بکر کی مدد کی۔ انہوں نے ان کو ہتھیار بھی دیے اور لڑنے کے لیے آدمی بھی۔ ان لوگوں نے بنو خزاعہ کو مارا اور ان کے اموال کو لوٹا۔ اس کے بعد عمرو بن سالم خزاعی چالیس آدمیوں کے ساتھ مدینہ آیا۔ آپ کو پوری صورت حال سے باخبر کیا۔ جب آپ کو معلوم ہوا تو آپ نے ایک قاصد مکہ کے لیے روانہ کیا اور کہا کہ وہ تین باتوں میں ایک کو اختیار کریں۔
1۔ مقتولین خزاعہ کی دیت دے دی جائے۔
2۔ یاوہ بنونفاثہ کے عہد سے علیحدہ ہو جائیں۔
3۔ یا معاہدہ حدیبیہ کے نسخ کا اعلان کر دیں۔
جب قاصد ان کے پاس پہنچا تو ان لوگوں نے کہا ہم معاہدہ حدیبیہ کے نسخ پر راضی ہیں (مغازی الواقدی، جلد 2، صفحہ 786-87)۔ لیکن بعد میں ندامت ہوئی اور فوراً ابو سفیان کو تجدید معاہدہ اور مدت صلح کو بڑھانے کے لیے مدینہ بھیجا۔ لیکن اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر راضی نہیں ہوئے اور ابو سفیان کو ناکام واپس ہونا پڑا۔ ابو سفیان کی واپسی کے بعد رسول اللہ نے صحاہ کو پوشیدہ طور پر مکہ کی تیاری اور سامان سفر اور آلاتِ جنگ درست کرنے کا حکم دیا۔ اور تاکید کی کہ اس کو مکمل طور پر پوشیدہ رکھا جائے۔ اور آس پاس کے حلیف قبائل کو بھی کہلا بھیجا کہ وہ بھی تیار ہو جائیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
چنانچہ آپ دس رمضان کو تقریباً دس ہزار لشکر کے ساتھ مدینہ سے مکہ کی طرف روانہ ہوئے۔ جب آپ مقام جحفہ میں پہنچے تو حضرت عباس مع اہل وعیال مکہ سے ہجرت کرکے مدینہ کو جاتے ہوئے ملے۔ انہوں نے آپ کے حکم کے مطابق سامان تو مدینہ بھیج دیا اور خود لشکر میں شریک ہوگئے۔
فتح مکہ کے سفر کے دوران بہت سے لوگوں نے آپ سے مل کر اسلام قبول کرلیا۔ مثلاً ابوسفیان بن حارث بن عبدالمطلب جو آپ کے چچا زاد بھی تھے اور رضاعی بھائی بھی۔ وہ نبوت سے پہلے آپ کے قریبی دوست تھے۔ نبوت کے بعد وہ آپ کے مخالف بن گئے یہاں تک کہ آپ کی ہجو میں اشعار کہنے لگے۔ مگر بعد کو انہیں اپنی غلطی کا احساس ہوا اور وہ اور ان کے ایک ساتھی فتح مکہ کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور حضرت یوسف کے بھائی کی زبان میں کہا کہ تَاللَّهِ لَقَدْ آثَرَكَ اللَّهُ عَلَيْنَا وَإِنْ كُنَّا لَخَاطِئِينَ (12:91)۔ یعنی،خدا کی قسم، اللہ نے تم کو ہمارے اوپر فضیلت دی، اور بیشک ہم غلطی پر تھے۔اس کے جواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی حضرت یوسف کی زبان میں ارشاد فرمایا لَا تَثْرِيبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ (12:92)۔یعنی،آج تم پر کوئی الزام نہیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اس کے بعد وہ لوگ کلمہ شہادت ادا کرکے اسلام میں داخل ہوگئے۔ چلتے ہوئے عشاء کے وقت آپ مکہ کے قریب مرالظہر ان میں پہنچے اور وہاں پہنچ کر پڑائو ڈالا اور لشکر کو حکم دیا کہ ہر شخص اپنے خیمہ کے سامنے آگ جلائے۔ قریش کو اپنی بدعہدی کی وجہ سے شبہ تھا کہ معلوم نہیں رسول اللہ کس وقت ہم پر چڑھائی کر دیں۔ چنانچہ آگ دیکھ کر ابو سفیان بن حرب اور بدیل بن ورقاء اور حکم خبر لینے کی غرض سے مکہ سے نکلے۔ جب مرالظہر ان کے قریب پہنچے تو لشکر نظر آیا۔ یہ لوگ گھبرا گئے۔ ابو سفیان نے کہا کہ یہ آگ کیسی ہے، بدیل نے کہا یہ آگ قبیلہ خزاعہ کی ہے۔
ابوسفیان نے کہا کہ خزاعہ کے پاس اتنا لشکر کہاں سے آیا وہ تو بہت قلیل ہیں۔ رسول اللہ کے چوکیداروں نے دیکھتے ہی ان لوگوں کو گرفتار کر لیا۔ ان لوگوں نے چوکیداروں سے دریافت کیا تم میں یہ کون ہے۔ انہوں نے جواب دیا کہ یہ رسول اللہ علیہ وسلم ہیں اور ہم ان کے اصحاب ہیں۔ گفتگو ہو رہی تھی کہ حضرت عباس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خچر پر گشت لگاتے ہوئے ادھر آگئے اور ابو سفیان کی آواز کو پہچان کر کہا افسوس اے ابوسفیان، یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا لشکر ہے۔ خدا کی قسم، اگر رسول اللہ تجھ پر فتحیاب ہوگئے تو تیری خیر نہیں۔ قریش کی اسی میں بہتری ہے کہ وہ امن کے طالب ہوں اور اطاعت قبول کر لیں۔ ابو سفیان کہتے ہیں کہ میں آواز سن کر اسی سمت میں چلتا وا عباس تک پہنچا اور کہا کہ اے ابو الفضل، رہائی کی کیا صورت ہے۔ حضرت عباس نے کہا کہ میرے پیچھے اس خچر پر سوار ہو جائو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے کر تجھ کو حاضر ہوتا ہوں تاکہ تیرے لیے امن حاصل کروں۔ حضرت عباس ان کو اپنے ہمراہ لے کر لشکر کو دکھلاتے ہوئے روانہ ہوئے۔ جب حضرت عمر کی طرف سے گزرنے لگے تو حضرت عمر دیکھتے ہی جھپٹے اور کہا کہ یہ ابو سفیان اللہ اور اس کے رسول کا دشمن ہے۔ بغیر کسی عہد و اقرار کے ہاتھ آگیا ہے۔ حضرت عمر پیادہ اور حضرت عباس ابو سفیان کو اپنے ساتھ خچر پر سوار کیے ہوئے نہایت تیزی کے ساتھ آپ کی خدمت میں پہنچ گئے۔ اور حضرت عمر پیچھے پیچھے تلوار لیے ہوئے وہاں پہنچے اور عرض کیا یارسول اللہ، یہ ابو سفیان ہے اور رسول کا یہ دشمن بغیر کسی عہد و پیمان کے آج ہاتھ آگیا ہے۔ مجھ کو اجازت دیجئے کہ میں اس کی گردن مار دوں۔ حضرت عباس نے کہا کہ یارسول اللہ، میں نے اس کو اپنی پناہ میں لیا ہے۔ حضرت عمر تلوار لیے کھڑے تھے اور بار بار یہی کہہ رہے تھے کہ ابو سفیان کے قتل کے لیے اجازت دیجئے۔ حضرت عباس غصہ ہوگئے اور کہا کہ اے عمر، ٹھہرو، اگر یہ بنو عدی سے ہوتا تو تم اس کے قتل پر اس طرح اصرار کرتے۔ چونکہ یہ عبدمناف سے ہے اس لیے تم اس کے قتل پر اصرار کر رہے ہو۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
حضرت عمر نے کہا اے عباس، خدا کی قسم، تمہارا اسلام میرے لیے اپنے باپ خطاب کے اسلام سے زیادہ محبوب تھا اور میرا باپ اگر اسلام لاتا تو مجھ کو اتنی مسرت نہ ہوتی جتنی کہ تمہارے اسلام سے ہوئی۔ اس لیے کہ میں خوب جانتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تمہارا اسلام خطاب کے اسلام سے زیادہ محبوب تھا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عباس کو حکم دیا کہ ابو سفیان کو اپنے خیمہ میں لے جائیں۔ صبح کو میرے پاس لائیں۔ ابو سفیان رات بھر حضرت عباس کے خیمہ میں رہے اورحکیم بن حزام اور بدیل بن ورقا نے اسی وقت رسول اللہ کے پاس آ کر اسلام قبول کر لیا۔ کچھ دیر تک رسول اللہ ان سے مکہ کے حالات دریافت کرتے رہے۔ اسلام لانے کے بعد یہ دونوں مکہ واپس ہوگئے تاکہ اہل مکہ کو آپ کی آمد سے مطلع کریں۔
hadithQuotes a hadith
ابو سفیان بن حرب اگلی صبح کو دوبارہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ ان کے ساتھ عباس بن عبدالمطلب بھی تھے۔ اس وقت رسول اللہ اور ابوسفیان کے درمیان ایک مکالمہ ہوا جو سیرت کی کتابوں میں درج ہے۔ آخر کار ابوسفیان نے اسلام قبول کر لیا۔ یہ واقعہ مکہ کی سرحد پر پیش آیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو سفیان کی عزت کے لیے اعلان فرمایا کہ جو شخص ابوسفیان کے گھر میں داخل ہو وہ مامون ہے۔ ابوسفیان نے کہاکہ یارسول اللہ میرے گھر میں سب آدمی کہاں سما سکتے ہیں۔ آپ نے فرمایا اور جو شخص مسجد حرام میں داخل ہو جائے وہ بھی مامون ہے۔ ابو سفیان نے کہا کہ رسول اللہ مسجد حرام کافی نہیں ہو سکتی۔ آپ نے فرمایا جو شخص اپنا دروازہ بند کر لے وہ بھی مامون۔ ابوسفیان نے کہا ہاں اب ٹھیک ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اگلے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مرالظہر ان سے مکہ کے لیے روانہ ہوئے۔ آپ کے ساتھ دس ہزار صحابہ کا لشکر تھا۔ یہ تعداد غیر معمولی تھی۔ جب یہ لشکر مکہ کے قریب پہنچا تو اس کے ایک دستہ کے سردار سعد بن عبادہ انصاری نے بلند آواز سے کہاالْيَوْمَيَوْمُ الْمَلْحَمَةِ، الْيَوْمَ تُسْتَحَلُّ الْكَعْبَةُ(آج کا دن گھمسان کا دن ہے، آج کعبہ میں قتل وقتال حلال ہوگیا)۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نعرہ کو پسند نہیں فرمایا اور کہا کہ الْيَوْمَ يَوْمُ الْمَرْحَمَةِ ، كَذَبَ سَعْدٌ، وَلَكِنْ هَذَا يَوْمٌ يُعَظِّمُ اللهُ فِيهِ الْكَعْبَةَ(آج کا دن رحمت کا دن ہے، سعد نے غلط کہا)آج کے دن اللہ کعبہ کو عزت دے گا۔ سعد بن عبادہ اس وقت علم اٹھائے ہوئے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ علم ان سے لے لیا جائے اور ان کے بیٹے قیس بن سعد کو دے دیا جائے۔ چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
ابو سفیان اس وقت مکہ کے سردار تھے۔ رسول اللہ اور آپ کے ساتھ آنے والے عظیم لشکر کو دیکھ کر ان پر ہیبت طاری ہوگئی۔ وہ چل کر تیزی سے مکہ پہنچے اور مکہ میں لوگوں کے سامنے یہ اعلان کیا کہ محمد ایک ایسے لشکر کے ساتھ آ رہے ہیں جس سے مقابلہ کی ہم میں طاقت نہیں۔ تم لوگ اسلام قبول کر لو، سلامت رہو گے۔ اور جو شخص مسجد حرام میں داخل ہو جائے اس کو امن ہے یا جو شخص میرے گھر میں داخل ہو جائے اس کو بھی امن ہے یا جو شخص اپنا دروازہ بند کر لے یا ہتھیار ڈال دے اس کو بھی امن ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب مکہ میں داخل ہو کر کعبہ کی طرف بڑھے۔ اس وقت آپ اونٹنی پر سوار تھے۔ تواضع کے تحت آپ کی گردن اتنی زیادہ جھکی ہوئی تھی کہ آپ کی داڑھی کے بال کجاوے سے لگ رہے تھے۔
صحابہ کو آپ نے سختی کے ساتھ یہ حکم دے دیا تھا کہ تم لوگ کسی سے جنگ کی ابتدا نہ کرنا۔ جو شخص تم سے تعرض کرے صرف اس سے لڑنا۔
مکہ میں داخل ہو کر آپ خانہ کعبہ میں پہنچے۔ خانہ کعبہ کے کلید بردار عثمان بن طلحہ کو بلا کر ان سے کنجی لی اور بیت اللہ کو کھلوایا۔ کعبہ کی اندرونی دیواروں پر اس وقت تصویریں بنی ہوئی تھیں اور وہاں 360 بت رکھے ہوئے تھے۔ آپ نے تصویروں کو مٹانے کا حکم دیا اور بتوں کو کعبہ سے نکال دیا گیا۔
اس وقت مکہ کے لوگ آ کر بڑی تعداد میں کعبہ کے صحن میں جمع ہوگئے۔ لوگ منتظر تھے کہ ان لوگوں کے بارے میں کیا حکم دیا جاتا ہے جو کہ ظالم بھی تھے اور جنگی مجرم بھی۔ آپ نے باب کعبہ پر کھڑے ہو کر یہ خطبہ دیالَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ،صَدَقَ وَعْدَهُ و نَصَرَ عَبْدَهُ، وَهَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ (مسند احمد، حدیث نمبر15388)۔یعنی۔اللہ ہی ایک معبود ہے، اس نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا۔ اور اس نے اپنے بندے کی نصرت کی، اور گروہوں کو تنہا شکست دی۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ کے لوگوں سے کوئی انتقام نہیں لیا بلکہ ان کی عام معافی کا اعلان کر دیا۔ اس کا اثر یہ ہوا کہ یہ تمام لوگ اسلام میں داخل ہوگئے۔ مکہ جو اس سے پہلے مشرکین کا شہر تھا وہ اب موحدین کا شہر بن گیا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
خطبہ سے فارغ ہوکر آپ مسجد میں بیٹھ گئے۔ اس وقت بیت اللہ کی کنجی آپ کے ہاتھ میں تھی۔ حضرت علی نے کھڑے ہو کر کہاکہ یارسول اللہ، یہ کنجی ہم کو دے دیجئے۔ آپ نے ان کو کوئی جواب نہیں دیا بلکہ فرمایا کہ عثمان بن طلحہ کہاں ہیں۔ وہ سامنے آئے تو آپ نے بیت اللہ کی کنجی انہیں دے دی اور فرمایاکہ آج وفا اور صلہ رحمی کا دن ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
ظہر کی نماز کا وقت آیا تو آپ نے بلال کو حکم دیا کہ کعبہ کے اوپر چڑھ کر اذان دیں۔ حضرت بلال نے جب کعبہ پر چڑھ کر اذان دی تو قریش کو بہت ہی تعجب ہوا۔ اس لیے کہ بلال سیاہ فام حبشی تھے۔ اور کسی سیاہ فام کا کعبہ کی چھت پر چڑھنا قریش کے لیے ناقابل فہم تھا۔ اس طرح آپ نے عملی صورت میں یہ اعلان فرمایا کہ شرف اورعزت کا تعلق رنگ سے نہیں ہے بلکہ دین اور تقویٰ سے ہے۔
حضرت بلال نے جب خانہ کعبہ پر چڑھ کر اذان دی تو چند نوجوان ان کی نقل اتارنے لگے۔ انہی میں سے ابو محذورہ تھے۔ آپ نے ابو محذورہ کو بلوایا۔ ابو محذورہ خوف زدہ تھے کہ شاید گستاخی ہوگئی اوراب اس کی سزا بھگتنی پڑے گی۔ آپ نے انہیں حکم دیا کہ وہ دوبارہ اذان دیں۔ اذان سن کر آپ نے انہیں درہم کی ایک تھیلی عطا فرمائی اور سر، پیشانی اور سینے، وغیرہ پر محبت و شفقت کا ہاتھ پھیرا اور دعائیں دیں۔
ابو محذورہ کہتے ہیں کہ اس کے بعد میری ساری نفرت محبت کے جذبات میں تبدیل ہوگئی۔ رسول اللہ نے انہیں مکہ کا مؤذن بنا دیا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ کا طواف کیا اوراس کے بعدکو وہ صفا پر تشریف لائے۔ اور بیت اللہ کی طرف رخ کرکے حمد و ثنا میں مشغول ہوگئے۔ کچھ انصار صحابہ کو گمان گزرا کہ مبادا آپ اب فتح مکہ کے بعد یہیں نہ ٹھہر جائیں۔ اس سے متعلق آپ کو اسی وقت وحی نازل ہوئی۔ آپ نے انصار کو بلاکر کہا یہ ہرگز نہیں ہو سکتا۔ میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔ تمہاری زندگی میری زندگی ہے۔ اور تمہاری موت میری موت، یہ سن کر انصار آبدیدہ ہوگئے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اس کے بعد لوگ بیعتکے لیے جمع ہوگئے اورآپ بیعت لینے لگے۔ مردوں سے فقط اسلام پر اور حسب استطاعت اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت پر بیعت لیتے تھے۔ عورتوں سے ان امور پر بیعت لی جو سورۃ الممتحنہ (آیت12)میں مذکور ہیں۔ یعنی یہ کہ وہ نہ تو شر ک کریں گی، نہ چوری اور زنا کریں گی، اور نہ ہی اپنی اولادکو قتل کریں گی، وغیرہ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
فتح مکہ کے دوسرے دن ایک خزاعی نے ایک ہُزیلی مشرک کو قتل کر ڈالا۔آپ کو جب اس کاعلم ہوا تو صحابہ کو جمع کرکے کوہ صفا پر کھڑے ہو کر خطبہ دیا
يَا أَيهَا النَّاسُ، إنَّ اللهَ حَرَّمَ مَكَّةَ يَوْم خلق السّماوات وَالْأَرْضَ، فَهِيَ حَرَامٌ مِنْ حَرَامٍ إلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، فَلَا يَحِلُّ لِامْرِئِ يُؤْمِنُ بالله وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، أَنْ يَسْفِكَ فِيهَا دَمًا وَلَا يَعْضِدَ فِيهَا شَجَرًا (سیرۃ ابن ہشام، جلد2، صفحہ 415)۔یعنی،اے لوگو! بے شک اللہ نے جس دن آسمان اور زمین کو پیدا کیا اسی دن مکہ کو محترم ٹھہرا دیا تھا۔ اس لیے وہ قیامت تک کے لیے حرام اور محترم رہے گا۔ ہر اس شخص کے لیے جو اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتا ہو۔ یہ جائز نہیں کہ وہ مکہ میں خون بہائے۔ اور نہ کسی کے لیے کسی درخت کا کاٹنا جائز ہے۔ بعدازاں آپ نے اپنے پاس سے مقتول کی دیت کے طور پر سو اونٹ عطا فرمائے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
مشرکین مکہ نے مہاجرین کے مکانات و جائیداد پر قبضہ کر لیا تھا۔ اس سلسلہ میں بعض مہاجرین نے اپنے حقوق کی واپسی کا مطالبہ کرنا چاہا۔ تاہم آپ نے انہیں یہ کہہ کر خاموش کر دیا کہ’’تو اگر صبر کرے تو تیرے لیے بہتر ہوگا۔ اور اس کے بدل کے طور پر تم کو جنت میں مکان ملے گا‘‘ نیز آپ نے فرمایا ’’جو مال اللہ کی راہ میں جا چکاہے میںاس کی واپسی پسند نہیں کرتا‘‘۔ خود اپنے مکان کا آپ نے کوئی ذکر تک نہ کیا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
فتح مکہ کے دن آپ نے عام معافی کا اعلان کرا دیا تھا۔ تاہم چندایسے اشخاص جو کئی ایک شدید جرائم میں ماخوذ تھے ان سے متعلق قتل کاحکم صادر ہوا۔ ان کی کل تعداد(روایت کے اختلاف کے ساتھ) پندرہ سولہ تھی۔ جن میں سے چند ہی قتل کیے گئے۔ بقیہ سبھی کو درگزر کر دیا گیا، وہ اسلام لے آئے۔ ان اسلام لانے والوں اور جاں بخشی کیے جانے والوں میں سے چند نام یہ ہیں
عکرمہ بن ابوجہل، کعب بن زہیر، وحشی بن حرب(قاتل حمزہ) ہندہ زوجہ ابو سفیان، ہبار بن الاسود۔ وحشی بن حرب نے آپ کے چچا حضرت حمزہ کو قتل کیا تھا۔ ہندہ نے حضرت حمزہ کا جگر چبایا تھا۔ اس کے باوجود آپ نے انہیں معاف کر دیا۔