Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Seerat-e-Rasool
Seerat-e-Rasool

خسرو پرویز کے نام خط

Urdu · 4 min read

قیصر روم کی طرح رسول اللہ نے کسریٰ شاہ فارس کے نام بھی اپنا دعوتی خط’عظیم فارس‘ کے لقب کے ساتھ روانہ فرمایا۔ اس خط کو پہنچانے والے عبداللہ بن حذافہ سہمی تھے۔

ہر قل کے برعکس خسرو پرویز نے انتہائی مخالفانہ ردعمل کا اظہار کیا۔ غصہ میں آ کر اس نے خط کو چاک کر ڈالا اور کہا کہ یہ شخص مجھ کو خط لکھتا ہے حالانکہ یہ میرا غلام ہے۔نیز غصے سے خط کو پارہ پارہ کر ڈالا۔ چند دنوں کے بعد یہ واقعہ پیش آیا کہ خسرو کواس کی بیٹے شیرویہ نے قتل کر ڈالا۔

اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے درجنوں بادشاہوں اور امیروں کے نام خطوط لکھے جن میں سے بعض نے آپ کے خط کے ساتھ اچھا سلوک کیا اور بعض نے عناد کا رویہ اپنایا۔ بعضوں نے (مثلاً مقوقس) اقرار کیا کہ آپ اللہ کے پیغمبر ہیں لیکن ایمان قبول نہیں کیا۔ جب کہ بعض وہ تھے جنہوں نے آپ کے خط کو پاکر مسرت کا اظہار کیا اور ایمان لائے(مثلاً نجاشی شاہ حبشہ)۔

جن مشاہیر کے نام آپ نے خطوط روانہ فرمائے ان میں سے چند اہم نام یہ ہیں

بادشاہ

ملک

ہرقل

شاہ روم

خسرو پرویز

شاہ فارس

نجاشی

شاہ حبشہ

مقوقس

شاہ مصر

منذرابن ساویٰ

شاہ بحرین

عبدوجیفر

شاہان عمان

ہوذہ بن عل

رئیس یمامہ

حارث غسانی

امیر دمشق

غزوۂ خیبر

محرم7ھ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حدیبیہ سے واپس ہو کر مدینہ آئے۔ اس سے پہلے مدینہ کے یہود مکہ کے قریش سے مل کر سازشیں کرتے رہتے تھے۔ مدینہ کے یہود ہی کی ترغیب پر قریش نے مدینہ کے خلاف وہ حملہ کیا تھا جس کو غزوۂ احزاب کہا جاتا ہے۔ معاہدہ حدیبیہ کے بعد قریش اس کے پابند ہوگئے کہ وہ رسول اللہ کے خلاف نہ خود کوئی جنگی اقدام کریں اور نہ کسی جنگی اقدام کرنے والے کی مدد کریں۔ اس طرح معاہدہ حدیبیہ نے قریش کو یہود سے کاٹ دیا۔ اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منصوبہ بنایا کہ یہود کی طاقت کو توڑ دیں تاکہ وہ مسلمانوں کے خلاف صف آرا نہ ہو سکیں اور دعوت اسلام کی راہ میں ان کی مزاحمت کا خاتمہ ہو جائے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

چنانچہ رسول اللہ علیہ وسلم نے محرم7ھ میں خیبر کے یہود کی طرف رخ کیا۔ اس وقت آپ کے ساتھ چودہ سو پیادہ اور ایک سو سوار تھے۔ راستہ میں جب ایک بلند مقام پر پہنچے تو کچھ صحابہ نے نعرۃ تکبیر بلند کیا۔ رسول اللہ نے کہا اپنے اوپر رحم کرو تم کسی بہرے اور غائب کو نہیں پکار رہے ہو۔ تم اس خدا کو پکار رہے ہو جو سننے والا اور تمہارے قریب ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

آپ کو یہ معلوم ہوگیا تھاکہ غطفان نے یہود خیبر کی امداد کے لیے لشکر جمع کیا ہے اس لیے آپ نے مدینہ سے متصل رجیع میں پڑائو کیا جو خیبر اور غطفان کے درمیان ہے تاکہ یہودِ غطفان مرعوب ہو جائیں اور یہود خیبر کی مدد کونہ پہنچیں۔ چنانچہ غطفان کے یہودکو جب یہ معلوم ہوا تو وہ واپس ہوگئے۔

خیبر کے قریب پہنچ کر آپ نے ایک لمبی دعا فرمائی۔ اس کا آخری جزء یہ تھافَإِنَّا نَسْأَلُكَ ‌خَيْرَ ‌هَذِهِ ‌الْقَرْيَةِ وَخَيْرَ أَهْلِهَا وَخَيْرَ مَا فِيهَا، وَنَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا وَشَرِّ أَهْلِهَا وَشَرِّ مَا فِيهَا(سیرۃ ابن ہشام، جلد2، صفحہ 329)۔ یعنی، اے اللہ ہم اس بستی، اس کے باشندے، اور اس میں موجود تمام چیزوں کی خیر و بھلائی کے طلب گار ہیں اور ان تمام چیزوں کے شر سے پناہ چاہتے ہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

خیبر میں یہود کے متعدد قلعے تھے۔ آپ کو دیکھ کر یہود قلعہ بند ہوگئے۔ آپ نے ان کے قلعوں پر حملہ شروع کیا اور ایک کے بعد ایک ان قلعوں کو فتح کر لیا۔

قلعہ قموص پر چڑھائی کے لیے آپ نے حضرت علی کو جھنڈا دے کر روانہ کیا۔ آپ نے ان کو یہ نصیحت کی کہ جنگ سے پہلے یہود کو اسلام کی دعوت دینا۔ خدا کی قسم اگر ایک شخص کو اللہ تمہارے ذریعہ ہدایت دے دے تو وہ تمہارے لیے سرخ اونٹوں سے کہیں بہتر ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

جب تمام قلعے فتح ہوگئے تو آخر میں مسلمانوں نے وطیح اور سلالم کا محاصرہ کیا۔ چودہ دن کے محاصرہ کے بعدان لوگوں نے آپ سے درخواست کی کہ ہم کو امان دے دی جائے۔ ہم خیبر کو چھوڑ کر نکل جائیں گے آپ نے اس کو منظور فرمایا۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content