Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Seerat-e-Rasool
Seerat-e-Rasool

شاہان عالم کے نام خطوط

Urdu · 2 min read

صلح حدیبیہ کا واقعہ6ھ میں پیش آیا۔ اللہ نے اس صلح کو ایک کھلی فتح فَتْحًا مُبِينًا سے تعبیر کیا۔ نیز اس کے ذریعہ ایک قریبی فتح(فَتْحًا قَرِيبًا)48:18 کی خوش خبری بھی سنائی۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

صلح حدیبیہ ایک بہت ہی دور رس منصوبہ بندی کے نتیجہ کے طور پر ظہور میں آنے والا واقعہ تھا۔ یہ دراصل اضطراب میں اطمینان کی تلاش تھی۔ یہ ایک سکینۂ ربانی تھا جو اللہ کی طرف سے بطور خاص نازل کیا گیا تھا۔ اس کا مقصود یہ تھا کہ دعوتِ اسلام اور اس کی نشر واشاعت کا جو دروازہ جنگ و جہاد کی قوتوں سے نہیں کھل پا رہا ہے اسے امن اور صلح کے ذریعہ کھولا جائے۔ اور جو کام اضطراب اور بے سکونی کے ماحول میں ٹھیک طرح سے انجام نہیں پا رہا ہے اسے وہ پُرسکون فضا میسر آ جائے کہ وہ مزید نتیجہ خیز ہو سکے۔

صلح حدیبیہ اسی معنیٰ میں ایک بڑی فتح تھی کہ اس کے ذریعہ دعوت اسلامی بلا کسی رکاوٹ کے دور تک پھیل گئی۔ منکرین کی مخالفت اور عناد جو اس دعوت کے عام کرنے کے راستہ کی سب سے بڑی رکاوٹ تھی، اس صلح کے ذریعہ وہ آپ ہی آپ اور اپنی مرضی سے فرد ہوگئی۔ چنانچہ رسول اللہ نے حدیبیہ سے واپس آ کر ماہ ذی الحجہ6ھ میں بادشاہوں کے نام دعوت اسلامی کے خطوط ارسال کرنے کا ارادہ فرمایا۔ آپ نے صحابہ کو جمع کرکے خطبہ دیا

unverifiedAttribution could not be verified automatically

اے لوگو، میں تمام عالم کے لیے رحمت بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ تم تمام عالم کو یہ پیغام پہنچائو، اللہ تعالیٰ تم پر رحم فرمائے گا۔ عیسیٰؑ کے حواریوں کی طرح اختلاف نہ کرنا کہ اگر قریب بھیجنے کو کہا تو راضی ہوگئے اور اگر کہیں دور جانے کو کہا تو اپنی جگہ چپک رہے اور وہاں سے نہ ٹلے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

صحابہ کرام نے اس پر لبیک کہا اور تعمیل حکم پر کمربستہ ہوگئے۔ اور رسول اللہ کی جناب میں یہ مشورہ پیش کیا کہ اے اللہ کے رسول، ملوک اور سلاطین جس خط پر مہر نہ ہو اسے قابل التفات نہیں سمجھتے۔ آپ نے یہ بات پسند فرمائی اور اس کے پیش نظر ایک مہر کندہ کرائی جس کی صنعت حبشہ کی تھی۔ اس پر محمد رسول اللہ کندہ تھا۔ خط کے مضمون کے اختتام پر نام کی جگہ یہ مہر لگانے کے بعد ہی اسے مکتوب الیہ کے پاس بھیجا جاتا تھا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس سے یہ بات سمجھ میں آئی کہ اگر غیر قوموں کے درمیان بھی ایسا طریقہ یا رسم پائی جائے جسے ایک اصول اور ضابطہ کی حیثیت حاصل ہوگئی ہو نیز وہ عقل و شریعت سے متصادم نہ ہو تو اس کی رعایت کرنا اور اس کا اختیار کر لینا ہی عین مطلوب فطرت ہے۔ نیزالْحِكْمَةُ ‌ضَالَّةُ ‌الْمُؤْمِنِ، حَيْثُمَا وَجَدَهَا، فَهُوَ أَحَقُّ بِهَا(سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر4169)کا یہی تقاضا ہے۔ یعنی،حکمت کی بات مومن کا گم شدہ مال ہے، وہ اس کو جہاں پائے، تو وہ اس کا زیادہ حق دار ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content