صفر4ھ
قبیلہ عضل اور قارہ کے کچھ لوگ آپ کی خدمت میں آئے اور کہا کہ ہمارے قبیلہ نے اسلام قبول کر لیا ہے۔ ایسے چند لوگ ہمارے ساتھ کر دیجئے جو ہم کو قرآن پڑھائیں اور اسلام کے احکام کی ہم کو تعلیم دیں۔ آپ نے مدینہ کے دس مسلمان ان کے ساتھ کر دیے۔ اور عاصم بن ثابت کو ان پر امیر مقرر فرمایا۔
یہ لوگ جب مقام رجیع پر پہنچے جو مکہ اور عسفان کے مابین واقع ہے تو انہوں نے مسلمانوں کے ساتھ بدعہدی کی، اور بنولحیان کو اشارہ کر دیا۔ بنولحیان دو سو آدمی لے کر جن میں ایک سو تیر انداز تھے ،ان کے تعاقب میں روانہ ہوئے۔ جب قریب پہنچے تو حضرت عاصم مع اپنے ساتھیوں کے ایک ٹیلہ پر چڑھ گئے۔ اس کے بعد دونوں میں مقابلہ ہوا جس میں آٹھ مسلمان شہید ہوئے۔ یہ واقع صفر4ھ میں پیش آیا۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.