Maulana Wahiduddin Khan
1 min left
0:00

← Seerat-e-Rasool
Seerat-e-Rasool

واقعہ رجیع

Urdu · 1 min read

صفر4ھ

قبیلہ عضل اور قارہ کے کچھ لوگ آپ کی خدمت میں آئے اور کہا کہ ہمارے قبیلہ نے اسلام قبول کر لیا ہے۔ ایسے چند لوگ ہمارے ساتھ کر دیجئے جو ہم کو قرآن پڑھائیں اور اسلام کے احکام کی ہم کو تعلیم دیں۔ آپ نے مدینہ کے دس مسلمان ان کے ساتھ کر دیے۔ اور عاصم بن ثابت کو ان پر امیر مقرر فرمایا۔

یہ لوگ جب مقام رجیع پر پہنچے جو مکہ اور عسفان کے مابین واقع ہے تو انہوں نے مسلمانوں کے ساتھ بدعہدی کی، اور بنولحیان کو اشارہ کر دیا۔ بنولحیان دو سو آدمی لے کر جن میں ایک سو تیر انداز تھے ،ان کے تعاقب میں روانہ ہوئے۔ جب قریب پہنچے تو حضرت عاصم مع اپنے ساتھیوں کے ایک ٹیلہ پر چڑھ گئے۔ اس کے بعد دونوں میں مقابلہ ہوا جس میں آٹھ مسلمان شہید ہوئے۔ یہ واقع صفر4ھ میں پیش آیا۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.