Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Seerat-e-Rasool
Seerat-e-Rasool

غزوۃ حمراء الاسد

Urdu · 2 min read

شوال 3ھ

احد کی جنگ مدینہ شہر سے تین کلو میٹر باہر احد پہاڑ کے دامن میں ہوئی تھی۔ اس جنگ میں اہل ایمان کو شکست ہوئی۔ شکست کے بعد قریش کا لشکر احد سے مکہ کی طرف روانہ ہو گیا۔ چلتے ہوئے انہوں نے حمراء الاسد کے مقام پر پڑائوں ڈالا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ یہ تھاکہ آپ ہمیشہ اپنے جاسوس بھیجا کرتے تھے تاکہ وہ دشمنوں کی خبر لے آئیں۔ چنانچہ احد کی جنگ کے بعد جب قریش کا لشکر روانہ ہوا تو آپ نے بھی اپنے جاسوس ان کی خبرگیری کے لیے بھیج دیے۔ یہ لوگ چلتے ہوئے حمراء الاسد تک پہنچے۔ وہاں انہیں معلوم ہواکہ لشکر قریش کے سردار ابوسفیان اور دوسرے قریشی سردار یہ کہہ رہے ہیں کہ ہم سے ایک بڑی بھول ہوگئی۔ احد کے مقام پر جب ہم نے مسلمانوں کو شکست دیدی تھی تو ہمیں آگے بڑھ کر مدینہ میں داخل ہو جانا چاہتے تھا تاکہ مسلمانوں کی طاقت کوان کے مرکز میں پوری طرح کچل دیا جائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جاسوسوں کو جب یہ خبر ہوئی تو وہ تیز رفتار سواری کے ذریعے رسول اللہ کے پاس واپس آئے اور آپ کو قریش کے اس نئے ارادے سے باخبر کیا۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فوری طور پر یہ فیصلہ فرمایا کہ ان کے مدینہ آنے سے پہلے ہمیں اقدام کرنا چاہیے۔ اس وقت صحابہ اگرچہ تھکے ہوئے تھے اس کے باوجود وہ فوراً تیار ہوگئے۔ چنانچہ آپ صحابہ کولے کر حمراء الاسد کی طرف روانہ ہوئے۔ خلاف معمول یہ سفر پورے اعلان کے ساتھ کیا گیا۔ اہل ایمان راستہ میں اللہ اکبر کے نعرے لگا رہے تھے۔ غزوۃ حمراء الاسد کا مقصد دراصل لڑائی نہ تھا بلکہ قریش کو مرعوب کرنا تھا تاکہ وہ مدینہ کی طرف اقدام کی ہمت نہ کریں اور مکہ واپس چلے جائیں۔

چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ قریش کو معبد خزاعی کے ذریعہ معلوم ہوا کہ مسلمانوں کا لشکر اللہ اکبر کے نعروں کے ساتھ ان کی طرف آرہا ہے تو انہوں نے سمجھا کہ شاید مسلمانوں کو کوئی فوجی مدد پہنچ گئی ہے اور وہ شکست کا بدلہ لینے کے لیے ہماری طرف بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے آپس میں کہا کہ ہم کو تیزی سے چل کر مکہ پہنچ جانا چاہیے تاکہ اگر مقابلہ ہو تو مکہ میں ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جاسوس برابر آپ کو خبریں پہنچا رہے تھے۔ جب آپ کو معلوم ہوا کہ قریش کا لشکر مکہ کی طرف روانہ ہوگیا ہے تو آپ نے مسلمانوں سے کہاکہ اب واپس مدینہ چلو۔ کیوں کہ ہمارا جو مقصد تھا وہ حاصل ہوگیا۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content