← Seerat-e-RasoolSeerat-e-Rasool
مسجد کی تعمیر
Urdu · 4 min read
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کرکے مدینہ پہنچے تو سب سے پہلے آپ قباء میں ٹھہرے۔ قباء ایک آبادی کا نام ہے جو مدینہ سے تین میل کے فاصلہ پر ہے۔ قباء میں سب سے زیادہ ممتاز خاندان عمر بن عوف کا تھا۔ اس کے سردار کا نام کلثوم بن ہدم تھا۔ آپ نے قباء پہنچ کر کلثوم بن ہدم کے گھر پر قیام کیا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
قباء میں پہنچ کر آپ نے جو سب سے پہلا کام کیا وہ یہ تھا کہ یہاں آپ نے ایک مسجد کی بنیاد رکھی۔ آپ خود اپنے ہاتھ سے ایک پتھر اٹھا کر لائے اور وہاں رکھا۔ اس کے بعد دوسرے صحابہ نے پتھر لانا شروع کیا۔ اس طرح مسجد کی تعمیر کا سلسلہ جاری ہوگیا۔ یہی وہ مسجد ہے جس کی بابت قرآن میں کہا گیا ہے کہ جس مسجد کی بنیاد اول دن تقویٰ پررکھی گئی ہے وہ البتہ اس لائق ہے کہ تم اس میں کھڑے ہو۔ اس مسجد میں ایسے لوگ ہیں جو پاک رہنے کو پسند کرتے ہیں۔ اور اللہ بھی پاک رہنے کو پسند کرتا ہے(9:108)۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قباء میں چار دن ٹھہرے۔ مدینہ کے مسلمانوں نے آپ کی آمد کی خبر سنی تو وہ آ کر یہاں آپ سے ملاقات کرنے لگے۔ جمعہ کے روز آپ یہاں سے آگے کے لیے روانہ ہوئے۔ جمعہ کی نماز آپ نے بنو سالم بن عوف کی مسجد میں پڑھی۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
آپ قباء سے چل کر مدینہ میں داخل ہوئے۔ آپ کا اونٹ چلتا رہا، یہاں تک کہ وہ ایک مقام پر بیٹھ گیا۔ اس وقت تک مدینہ میں کوئی باقاعدہ مسجد نہ تھی۔ آپ نے اسی مقام پر مسجد بنانے کا فیصلہ کیا۔ آپ نے پوچھا کہ یہ زمین کس کی ہے۔ بتایا گیا کہ وہ دو یتیم لڑکوں کی ہے جن کا نام سہل اور سہیل ہے۔ اس وقت یہ جگہ مربد کے طور پر استعمال ہوتی تھی۔ یعنی کھجور کو پھیلا کر سکھایا جاتا تھا۔ آپ نے دونوں لڑکوں سے کہا کہ اگر تم اس زمین کو ہمارے ہاتھ فروخت کر دو تو ہم یہاں مسجد تعمیر کریں گے۔
لڑکوں نے کہا کہ ہم یہ جگہ کسی معاوضہ کے بغیر آپ کو دیتے ہیں۔ اللہ سے جو قیمت ملے گی وہ ہمارے لیے کافی ہے۔ مگر آپ نے ان کی اس پیش کش کو قبول نہیں کیا۔ اور قیمت دے کر اس کو ان سے خریدا۔ ایک روایت کے مطابق، حضرت ابوبکر نے دس دینار آپ کی طرف سے ادا کیے۔
quoted sourceQuoted from another author or source
اس وقت یہاں کھجور کے درخت اور مشرکین کی قبریں تھیں۔ آپ نے درختوں کو کٹوایا اور قبروں کو ہموار کرنے کا حکم دیا۔ جب زمین صاف اور ہموار ہوگئی تو مسجد کی بنیادیں کھو دی گئیں۔ سب سے پہلے کچی اینٹیں تیار کی گئیں۔ اس کام میں دوسرے مسلمانوں کے ساتھ آپ خود بھی شریک ہوگئے۔ جب مسجد کی دیوار بننے لگی تو آپ خود بھی اینٹیں اٹھا کر لاتے اور معماروں کی مدد کرتے۔ آپ کو کام کرتے دیکھ کر مسلمانوں نے یہ شعر کہا
لَئِنْ قَعَدْنَا وَالنَّبِيُّ يَعْمَلُ لَذَاكَ مِنَّا الْعَمَلُ الْمُضَلِّلُ
Qur'anQuotes the Qur'an
اگر ہم بیٹھ جائیں جب کہ نبی کام کر رہے ہیں تو ہمارا ایسا کرنا بہت برا کام ہوگا (سیرۃ ابن ہشام، جلد1، صفحہ 148)۔
other sourceWords of another person or source
ایک صحابی کا نام طلق بن علی تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ذمہ یہ کام سپرد کیا کہ میں مٹی میں پلانی ملا کر گارا بنائوں۔ میں پھاوڑا لے کر گارا بنانے کا کام کرنے لگا۔ انہوں نے ایک موقع پر کہاکہ اے خدا کے رسول، کیا میں بھی اینٹ اٹھا کر لانے کا کام کروں۔ آپ نے کہا کہ نہیں۔ تم گارا بنائو، تم اس کام کو خوب جانتے ہو۔
مدینہ کی یہ مسجد جو پیغمبر نے اور آپ کے اصحاب نے بنائی، وہ بالکل سادہ تھی۔ اس میں کچی اینٹوں کی ناہموار دیواریں تھیں۔ کھجور کے تنوں سے اس کے ستون بنائے گئے تھے۔ کھجور کی شاخوں اور پتیوں کی چھت تھی۔ بعد میں چھت کو گارے سے لیپ دیا گیا تھا۔ اندازہ کیا گیا ہے کہ یہ ابتدائی مسجد تقریباً ایک سو گز لمبی اور تقریباً ایک سو گز چوڑی تھی۔ اس میں تین دروازے بنائے گئے تھے۔
روایات میں ہے کہ اس مسجد کو آپ نے دو مرتبہ بنایا۔ پہلی بار اس وقت جب آپ مکہ سے ہجرت کرکے مدینہ آئے۔ اور دوسری بار فتح خیبر کے بعد7ھ میں۔ تعمیرثانی کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ اس وقت وہ بوسیدہ ہوگئی تھی۔ تعمیر ثانی کے وقت مسجد میں توسیع بھی کی گئی۔دوسری تعمیر کے بارے میں ایک واقعہ یہ ہے کہ مسلمان اینٹیں اٹھا اٹھا کر لا رہے تھے۔ اسی کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اینٹیں اٹھا کر لا رہے تھے۔ حضرت ابوہریرہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میرا اور آپ کا سامنا ہوگیا۔ میں نے دیکھا کہ آپ کئی اینٹیں اٹھا کر لا رہے ہیں اور اپنے سینہ سے اینٹوں کو سہارا دیے ہوئے ہیں۔ میں نے سمجھا کہ شاید آپ زیادہ بوجھ کی وجہ سے ایسا کیے ہوئے ہیں۔ میں نے کہا کہ اے خدا کے رسول، ان اینٹوں کو مجھے دے دیجئے۔ آپ نے کہا
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
خُذْ غَيْرَهَا يَا أَبَا هُرَيْرَةَ، فَإِنَّهُ لَا عَيْشَ إِلَّا عَيْشُ الْآخِرَةِ(مسند احمد، حدیث نمبر 8951)۔یعنی، اے ابو ہریرہ، تم دوسری اینٹیں لے لو کیوں کہ زندگی تو بلاشبہ صرف آخرت کی زندگی ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it