Maulana Wahiduddin Khan
20 min left
0:00

← Seerat-e-Rasool
Seerat-e-Rasool

دعوتی واقعات

Urdu · 20 min read

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابتدائی تین سال تک خاموش اندازمیں اسلام کی طرف دعوت دی۔ آپ اپنے جاننے والے افراد سے ملتے اور ان کو شرک کے بجائے توحید اختیار کرنے کی دعوت دیتے۔ یہاں تک کہ سورہ الشعراء میں کھلے طور پر وعوت دینے کا حکم نازل ہوا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

مکہ کے قریب صفا پہاڑی تھی۔ آپ ایک روز اس کے اوپر کھڑے ہوئے اور بلند آواز سے پکارا يَا ‌صَبَاحَاهُ۔ یہ آواز عربوں میں اس وقت پکاری جاتی تھی جب کہ کسی دشمن کے فوری حملہ کا خطرہ ہو۔ چنانچہ اس پکار کو سن کر قریش کے لوگ صفا کے پاس جمع ہو گئے۔

جب لوگ وہاں جمع ہو گئے تو آپ نے کہا کہ اے لوگو، اگر میں تمہیں اس بات کی خبر دوں کہ اس پہاڑ کے پیچھے لشکر کھڑا ہے اور وہ تمہارے اوپر حملہ کرنا چاہتا ہے تو کیا تم میری بات کو مانو گے۔ لوگوں نے کہا کہ ہاں ، ہم نے تمہارے بارے میں اب تک سچ ہی کا تجربہ کیا ہے۔ آپ نے کہا کہ پھر سن لو کہ تم ایک سخت عذاب کے کنارے کھڑے ہوئے ہو اور میں تم کو اس سے ہوشیار کرنے والا ہوں۔

آپ نے کہا کہ جس طرح تم سوتے ہو اسی طرح تم مرو گے ، اور جس طرح تم جاگتے ہو اسی طرح تم دوبارہ حساب و کتاب کے لیے اٹھائے جائو گے۔ اسکے بعد یا تو ہمیشہ کے لیے جنت ہے یا ہمیشہ کے لیے آگ کا عذاب۔ لوگ آپ کی یہ بات سن کر چپ رہے۔ مگر آپ کے چچا ابولہب نے کہا تمہارا برا ہو۔ کیا تم نے یہی کہنے کے لیے ہم کو بلایا تھا۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے واقعات بتاتے ہیں کہ آپ کے سامنے سب سے بڑا مسئلہ یہ تھا کہ لوگ آگ کے عذاب سے بچیں اور اللہ کی رحمتوں کے مستحق قرار پائیں۔ قرآن میں ہے کہ آپ کو خطاب کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا شاید تم اپنے آپ کو اس غم میں ہلاک کر ڈالو گے کہ لوگ ایمان قبول نہیں کرتے (26:3)۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

معاویہ بن حَیدہ القشیری کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ میں نے کہا کہ اے خدا کے رسول میں نے اپنی انگلیوں کے پوروں کی تعداد سے بھی زیادہ بار یہ قسم کھائی تھی کہ میں آپ سے نہیں ملوں گا اور نہ آپ کے دین کو قبول کروں گا۔ اب میں آپ کے پاس آیا ہوں اور میں آپ کو اللہ کی عظیم ہستی کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کہ ہمارے رب نے آپ کو کس چیز کے ساتھ ہمارے پاس بھیجا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ دین اسلام کے ساتھ۔ انہوں نے کہا کہ دین اسلام کیا ہے۔

quoted sourceQuoted from another author or source

آپ نے فرمایا یہ کہ تم کہو میں نے اپنا چہرہ اللہ کے سپرد کر دیا اور میں اس کے لیے یکسو ہو گیا۔ اور تم نماز قائم کرو اور زکوٰۃ اداکرو اورہر مسلمان دوسرے مسلمان کے اوپر حرام ہے۔ مسلمان ایک دوسرے کے بھائی اور مددگار ہیں۔ شرک کے بعد جو شخص اسلام قبول کرے ، اس کے عمل کو اللہ اس وقت تک قبول نہیں کرتا جب تک وہ مشرکین سے علیٰحدہ نہ ہو جائے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

پھر آپ نے فرمایاکہ مجھے کیا ضرورت تھی کہ میں تمہاری کمر پکڑ کر تم کو آگ سے بچائوں۔ مگر بات یہ ہے کہ میرا رب مجھ کو بلانے والا ہے اور وہ مجھ سے پوچھنے والا ہے کہ کیا تم نے میرے بندوں تک پہنچا دیا۔ میں کہوں گا کہ ہاں ، اے میرے رب ، میں نے پہنچا دیا۔ سن لو کہ تم میں سے جو حاضر ہے وہ غائب کو پہنچا دے۔ اس کے بعد معاویہ بن حیدہ نے اسلام قبول کر لیا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ابوبکر بن ابی قحافہ اپنے گھر سے نکلے تاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کریں۔ وہ زمانۂ جاہلیت میں آپ کے دوستوں میں سے تھے۔ انہوں نے کہاکہ اے ابوالقاسم، میں آپ کو برادری کی مجلسوں میں نہیں پاتا۔ لوگ آپ پر یہ الزام لگاتے ہیں کہ آپ نے ہمارے معبودوں کو چھوڑ دیا اور ہمارے بزرگوں کو بیوقوف بنایا اور ہمارے باپ دادا کو گمراہ ٹھہرایا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

آپ نے کہا کہ ہاں، میں اللہ کا پیغمبر ہوں۔ اور میں تم کو بھی ایک اللہ کی طرف اور اس کی اطاعت کی طرف بلاتا ہوں۔ خدا کی قسم ، یہی حق ہے۔ تم کسی کو اللہ کا شریک نہ ٹھہرائو اور صرف اسی کی عبادت کرو۔ اس کے بعد آپ نے قرآن کی چند آیتیں پڑھ کر سنائیں۔ حضرت ابوبکر نے اسی وقت آپ کی نبوت کا اقرار کرکے اسلام قبول کر لیا۔ حضرت ابوبکر کے اسلام قبول کرنے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اتنا خوش ہوئے کہ اس وقت مکہ کی دو پہاڑیوں کے درمیان کوئی بھی آپ سے زیادہ خوش نہ تھا۔

عمرو بن عبسہ کہتے ہیں کہ میں جاہلیت کے زمانہ میں باپ دادا کے دین پرمطمئن نہ تھا۔ میں بتوں کو بے حقیقت سمجھتا تھا۔ کچھ دن بعد میں نے سنا کہ مکہ میں ایک شخص ظاہر ہوا ہے۔ وہ نئی نئی باتیں بیان کرتا ہے۔ میں اپنی اونٹنی پر سوار ہو کر مکہ پہنچا۔ وہاں پہنچ کر معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چھپ کر تبلیغ کرتے ہیں اور قوم کے لوگ آپ کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

تلاش کرتے ہوئے آخرکار میں آپ کے پاس پہنچا۔ میں نے پوچھا کہ آپ کون ہیں۔ آپ نے کہاکہ میں اللہ کا رسول ہوں میں نے پوچھا کہ رسول کس کو کہتے ہیں ۔ آپ نے کہاکہ رسول وہ ہے جو اللہ کی طرف سے اس کا پیغام لائے۔ میں نے کہا کیا واقعتاً اللہ نے آپ کو بھیجا ہے۔ آپ نے کہا کہ ہاں۔ میں نے کہاکہ اللہ نے کیا چیز لے کر آپ کو بھیجا ہے۔ آپ نے کہا یہ کہ اللہ کو ایک مانا جائے اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کیا جائے۔ بتوںکو توڑ دیا جائے اور رشتہ داروںکے ساتھ اچھا سلوک کیا جائے۔

اس کے بعد میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اس کام میں آپ کے ساتھ کون ہے۔ آپ نے کہا کہ ایک آزاد اور ایک غلام (یعنی ابوبکر اور بلال)۔ میں نے کہاکہ میں آپ کی اتباع کرتا ہوں۔ آپ نے کہا کہ اس وقت تم میری اتباع کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ اس وقت تم اپنے گھر واپس چلے جائو۔ جب تم سنو کہ میں غالب ہو گیا ہوں ، اس وقت آ کر تم میرے ساتھ ہوجانا۔ عمرو بن عبسہ کہتے ہیں کہ میں نے اسلام قبول کر لیا اورمیں اپنے گھر واپس آ گیا۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

قرآن میں یہ حکم اترا کہ اپنے قریبی رشتہ داروںکو خبردار کرو (26:214)۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچا زاد بھائی علی ابن ابی طالب سے کہا کہ کچھ کھانا تیار کرو اور بنوہاشم کے لوگوں کو میرے پاس بلائو۔ اس کے مطابق گوشت اور دودھ کا انتظام کیا گیا اور لوگوںکو بلایا گیا۔ تقریباً 40 آدمی جمع ہوئے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

جب لوگ کھا چکے تو آپ نے ان کے سامنے توحید کی دعوت پیش کی اور کہا کہ مجھ کو اللہ نے اس کام کے لیے اپنا پیغمبر بنایا ہے۔ تم لوگ اس کام میں میرا ساتھ دو۔ آپ نے یہ بھی کہا کہ تم میں سے کون میرے قرض کی ادائیگی کی ذمہ داری لیتا ہے اور میرے پیچھے میرے اہل خانہ میں میری نیابت کے لیے تیار ہوتا ہے۔

حضرت علی کہتے ہیں کہ یہ سن کر تمام لوگ چپ ہو گئے۔ کسی نے کوئی جواب نہ دیا۔ آپ نے دوسری بار اور تیسری بار یہی بات کہی۔ مگر حاضرین میں سے کسی شخص نے حمایت کا وعدہ نہ کیا۔ جب میں نے سب کو خاموش دیکھا تو میںکھڑا ہو گیا۔ میں نے کہا کہ اے خدا کے رسول ، اگرچہ میری آنکھیں دکھ رہی ہیں اور میری ٹانگیں پتلی ہیں۔ مگر میں اس راہ میں آپ کا ساتھ دوں گا۔ یہ سن کر آپ نے فرمایا کہ تم اے علی، تم اے علی أَنْتَ يَا عَلِيُّ أَنْتَ يَا عَلِيُّ (مسند البزار، حدیث نمبر456) ۔

quoted sourceQuoted from another author or source

ضماد قبیلہ از دشنوہ سے تعلق رکھتے تھے۔ وہ زیارت کے لیے مکہ آئے۔ ایک مجلس میں ابو جہل اور عتبہ بن ربیعہ اورامیہ بن خلف تھے۔ وہ لوگ باتیں کر رہے تھے۔ ضماد بھی ان کے پاس بیٹھ گئے۔ ابوجہل نے کہا کہ اس شخص (محمد) نے ہماری جماعت میں پھوٹ ڈال دی ہے۔ اس نے ہم سب کو بے وقوف کہا اور ہمارے بزرگوں کو گمراہ بتایا۔ ہمارے معبودوں (بتوں) کو برا کہا۔ امیہ بولاکہ اس آدمی کے مجنوں ہونے میں کوئی شک نہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ضماد کہتے ہیں کہ ان لوگوں کی بات سن کر مجھے خیال ہوا کہ محمد پر شاید آسیب کااثر ہو گیا ہے۔ چوں کہ میں آسیب کا علاج کرنا جانتا تھا، میں محمد کی تلاش میں چل پڑا۔ پہلے دن تلاش کے باوجود میں آپ کونہ پا سکا۔ جب اگلا دن ہواتو میں نے آپ کو مقام ابراہیم میں نماز پڑھتے ہوئے پا لیا۔ جب آپ نماز سے فارغ ہو گئے تو میں آپ کے پاس گیا۔ میں نے کہا کہ اے محمد، میں ان چیزوں کاعلاج کرتاہوں۔ اگر آپ اجازت دیں تو میں آپ کا علاج کروں۔ شاید اللہ آپ کو شفا دے دے۔

other sourceWords of another person or source

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ضماد کی بات کا کوئی جواب نہیں دیا۔ آپ نے کہا کہ تمام تعریف صرف اللہ کے لیے ہے۔ ہم اسی سے مدد چاہتے ہیں۔ اللہ جس کو صحیح راستہ پر لگائے ، کوئی اسے گمراہ کرنے والانہیں ، اور جس کو وہ بے راہ کر دے اس کو کوئی راستہ بتانے والا نہیں۔ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ صرف ایک اللہ عبادت کے لائق ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ، یہ بات آپ نے تین بار فرمائی۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ضماد نے کہا کہ خدا کی قسم، میں نے کاہنوں اورجادوگروں کی باتیں سنی ہیں اور میں شاعروں کے کلام سے بھی واقف ہوں۔ مگر آپنے جوکلمات کہے ، ایسے کلمات میں نے کبھی نہیں سنے۔ اپنا ہاتھ لایئے، میں آپ سے اسلام پر بیعت کرتا ہوں۔ وہ اسی وقت اسلام میں داخل ہو گئے۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

حصین کہتے ہیں کہ قریش کے کچھ لوگ ان کے پاس آئے۔ حصین زیادہ عمر کے آدمی تھے اور قریش ان کی بہت عزت کرتے تھے۔ قریش نے حصین سے کہاکہ آپ اس شخص (محمد) سے بات کیجئے۔ وہ ہمارے معبودوں کو بہت برا بتاتے ہیں۔ وہ لوگ حصین کے ساتھ آپ کے پاس آئے۔ حصین نے کہاکہ یہ کیا باتیں ہیں جو ہم کو آپ کی طرف سے پہنچ رہی ہیں۔ آپ ہمارے معبودوں کو برا کہتے ہیں۔ حالانکہ آپ کے والد تو بہت اچھے آدمی تھے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حصین سے کہا کہ یہ بتائو کہ تم لوگ کتنے معبودوں کی پرستش کرتے ہو۔ حصین نے کہا کہ سات معبودوں کی زمین پر اورایک معبود وہ جو آسمان میں ہے۔ آپ نے کہا کہ جب تمہارے اوپر مصیبت آتی ہے تو کس معبود کو پکارتے ہو۔ حصین نے کہا کہ آسمان والے معبود کو۔ آپ نے دوبارہ کہا کہ جب تمہارے مال میں نقصان ہوتا ہے تو اس وقت کس کو پکارتے ہو۔ حصین نے کہا کہ آسمان والے کو۔

hadithQuotes a hadith

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہاکہ تمہاری فریاد رسی کرنے والا خدا تو ایک ہے اور تم اس کے ساتھ دوسروں کو شریک کرتے ہو۔ حصین کہتے ہیں کہ مجھے محسوس ہوا کہ میں نے ایسے آدمی سے کبھی بات نہیں کی۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ اے حصین ، اسلام قبول کرو، تم نجات پائو گے۔ حصین نے کہا کہ میرے اور بھی گھر والے ہیں ، تو ان کے لیے میں کیا کہوں۔ آپ نے کہاکہ اس طرح دعا کرو کہ اے اللہ ، میں تجھ سے ہدایت کا طالب ہوں، تو میرے معاملہ کو درست کر دے۔ اور مجھے ایسا علم دے جو مجھے نفع پہنچانے والا ہو۔ حصین نے اس دعا کو دہرایا اور رخصت ہونے سے پہلے اسلام قبول کر لیا۔

quoted sourceQuoted from another author or source

ہجرت سے پہلے مدینہ کے قبیلہ خزرج کا ایک وفد مکہ آیا۔ ان کا مقصد یہ تھا کہ قریش سے اپنی حمایت کا عہد لیں۔ اس وفد میں ایاس بن معاذ بھی شامل تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے آنے کی خبر ہوئی تو آپ ان کی قیام گاہ پر جا کر ان سے ملے۔

جب آپ ان کے پاس بیٹھ گئے تو آپ نے ان سے کہاکہ کیا تم چاہتے ہو کہ جس کام کے لیے تم لوگ یہاں آئے ہو ، اس سے زیادہ بھلی بات میں تم کونہ بتا دوں۔ انہوںنے کہا کہ وہ کون سی بات ہے۔ آپ نے کہا کہ میں اللہ کا رسول ہوں۔ اللہ نے مجھ کو اپنے بندوں کی طرف بھیجا ہے کہ میں لوگوں کو اللہ کی طرف بلائوں اوران سے کہوں کہ وہ صرف ایک اللہ کی عبادت کریں اوراس کے ساتھ کسی اور کو شریک نہ کریں۔ اللہ نے میرے اوپر اپنا کلام اتارا ہے۔ اس کے بعد آپ نے قرآن کا ایک حصہ پڑھ کر انہیں سنایا۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

ایاس بن معاذ جواس وقت نوجوان تھے ، انہوں نے آپ کی باتیں سن کر اپنے لوگوں سے کہا کہ اے قوم، خدا کی قسم، یہ چیز اس سے بہتر ہے جس کے لیے تم یہاں آئے ہو۔ یہ سن کروفد کے ایک شخص انس بن رافع نے اپنے ہاتھ میں مٹی لے کر ایاس بن معاذ کے چہرہ کی طرف پھینکی اور کہاکہ ان باتوںکو چھوڑو۔ خدا کی قسم ، ہم تو کسی اور ہی کام کے لیے یہاں آئے ہیں۔ ایاس بن معاذ چپ ہو گئے۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوٹ آئے اور وہ لوگ اپنا کام کرکے مدینہ واپس چلے گئے۔

مدینہ پہنچ کرایاس بن معاذ کا انتقال ہو گیا۔ ان کے قبیلہ کے جو لوگ وفات کے وقت ان کے پاس موجود تھے ، ان میں سے ایک شخص کا بیان ہے کہ آخر وقت میں لا الہٰ الا اللہ ، اللہ اکبر اور سبحان اللہ کے الفاظ ان کی زبان پرجاری تھے۔ان کے قریب جو لوگ تھے وہ اس کو برابر سُن رہے تھے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

عبداللہ بن کعب بن مالک کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نبوت ملنے کے بعد تین سال تک چھپ کر مکہ میں تبلیغ کرتے رہے۔ اس کے بعد تقریباًد س سال تک آپ نے کھلے طور پر لوگوں کو توحید کا پیغام دیا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ابو طالب کی وفات کے بعد آپ حج کے موسم میں عکاظ اور مجنہّ اور ذوالمجاز کے میلوں میں جاتے اور لوگوں کی قیام گاہوں میں ان سے مل کر انہیں اپنا پیغام دیتے۔ اسی کے ساتھ آپ یہ بھی کہتے کہ تم لوگ مجھے اپنی حفاظت میں لے لو تاکہ میں اللہ کا پیغام پہنچانے کا کام کر سکوں۔ جو اس کام میں میری مدد کرے گا، اللہ اس کے بدلے اس کو جنت دے گا۔

مگرکوئی قبیلہ آپ کی مدد اورحفاظت کے لیے تیار نہ ہوا۔ آپ عرب کے ایک ایک قبیلہ کے پاس گئے۔ مگر کسی نے بھی آپ کی حفاظت کی ذمہ داری نہ لی۔ اسی دوران آپ بنو عامر بن صعصعہ کے پاس پہنچے۔ انہوں نے آپ کے ساتھ بہت برا سلوک کیا۔ آپ اس حال میں ان کے پاس سے لوٹے کہ وہ لوگ آپکے اوپر پتھرپھینک رہے تھے۔

آپ قبیلہ بنو محارب بن خصفہ سے ملے۔ اس قبیلہ میں ایک بوڑھا آدمی تھا جس کی عمر سو سال سے زیادہ تھی۔ آپ نے اس کو توحید کی دعوت دی اور کہا کہ تم لوگ مجھے اپنی حفاظت میں لے لو تاکہ میں اللہ کا پیغام پہنچانے کا کام کر سکوں۔ اس بوڑھے آدمی نے جواب دیا کہ تمہاری قوم تمہاری حالت کو زیادہ جانتی ہے۔ خدا کی قسم، جو شخص تم کو لے کر یہاں سے اپنے مقام پر جائے گا ، وہ تمام موسم حج میں جمع ہونے والوں میں سب سے بری چیز لے کر جائے گا۔ اس لیے تم ہم کو معاف رکھو۔

آپ کا چچا ابولہب بھی وہاں موجود تھا۔ آپ کے چلے جانے کے بعد اس نے بوڑھے آدمی سے کہا کہ اگر حج کے موسم میں جمع ہونے والے تمام لوگ تمہاری طرح کا جواب دیں تو یہ شخص (محمد) جس نئے دین کو لے کر اٹھا ہے اس کو وہ چھوڑ دے۔

عبداللہ بن وابصہ العبسی اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری قیام گاہ پر آئے اور ہم لوگ مسجد خیف کے پاس ٹھہرے ہوئے تھے۔ آپ اونٹنی پر سوار تھے۔ آپ کے پیچھے زید بن حارثہ بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ نے ہم کو توحید کی دعوت دی۔ خدا کی قسم ، ہم نے آپ کو کوئی جواب نہ دیا اور ہم نے یہ کوئی اچھا کام نہیں کیا۔

hadithQuotes a hadith

ہم لوگوں نے آپ کے بارے میں پہلے ہی سن رکھا تھا کہ آپ حج کے موسم میں قبیلوں کے پاس جاتے ہیں اور ان کو اسلام کی دعوت دیتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس کھڑے ہوئے اپنی بات کہتے رہے اور ہم چپ چاپ سنتے رہے۔

other sourceWords of another person or source

ہمار ساتھ میسرہ بن مسروق عبسی تھے۔ انہوں نے قبیلہ کے لوگوں سے کہاکہ خدا کی قسم، اگر ہم اس آدمی کی بات مانیںاوراس کو لے جا کر اپنے قافلہ کے بیچ میں ٹھہرائیں تو یہ بہت اچھی بات ہو گی۔ اور میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اس شخص کی بات یہاں تک غالب ہو گی کہ وہ ہر جگہ پہنچ جائے گی۔ اس کو سن کر قوم نے میسرہ سے کہاکہ ان باتوںکو چھوڑو۔ تم ایسی بات کیوںکہتے ہو جس کو ماننے کے لیے ہم میں سے کوئی شخص تیار نہیں۔

میسرہ کی بات سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان سے کچھ امید ہوئی۔ آپ نے میسرہ سے کہا کہ تم ہی میری بات مان لو۔میسرہ نے کہاکہ آپ کی بات بہت اچھی ہے اور اس میں روشنی ہے لیکن میں کیاکروں۔ اگر میں آپ کی بات مانوںتو میری قوم میری مخالف ہو جائے گی۔ اور آپ جانتے ہیں کہ آدمی اپنی قوم کے ساتھ ہی رہ سکتا ہے۔ اگر اپنی قوم وقت پر ساتھ نہ دے تو دشمنوں سے کیا امید کی جا سکتی ہے۔

نبوت کے ابتدائی دنوںکا واقعہ ہے، آپ کے چچا کے لڑکے علی بن ابی طالب آپ کے گھر آئے۔ آپ اور آپ کی بیوی خدیجہ اس وقت نماز پڑھ رہے تھے۔ جب آپ فارغ ہوئے تو علی نے پوچھا یہ آپ کیا کر رہے تھے۔ آپ نے جواب دیا ، یہ اللہ کا دین ہے جس کو اللہ نے اپنے لیے پسند کیا ہے اور مجھے اس کی تبلیغ کے لیے بھیجا ہے۔ میں تم کو اللہ کی طرف بلاتا ہوں۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ اس نے حکم دیا ہے کہ صرف اس کی عبادت کی جائے۔ نوجوان علی نے کہا ، یہ ایسی بات ہے جس کو آج سے قبل میں نے نہیں سنا۔ میں اس کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کر سکتا جب تک اپنے باپ ابو طالب سے بیان نہ کر لوں۔ یہ نبوت کا ابتدائی زمانہ تھا۔ حضرت محمد ابھی نہیںچاہتے تھے کہ ابو طالب کو اس کی خبر ہو۔ آپ نے کہا ، اے علی! اگر تم اسلام نہیں لاتے تو اس معاملہ کو ابھی پوشیدہ رکھنا ۔ اس واقعہ کے چند دن بعد علی نے اسلام قبول کر لیا۔

حضرت عثمان بن عفان کہتے ہیں کہ میں اپنی خالہ ارویٰ بنت عبدالمطلب کے یہاں ان کی عیادت کے لیے گیا۔ وہاں حضرت محمد بھی موجود تھے۔ میں نے آپ کی طرف بغور دیکھنا شروع کیا۔ آپ کی نبوت کاتذکرہ ان دنوں ہو چلا تھا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

حضرت محمد مجھ کو اس طرح متوجہ دیکھ کر بولے ’’عثمان کیا بات ہے۔‘‘ میں نے کہا ، مجھے آپ پر بڑا تعجب ہے کہ آپ کا ہم لوگوں میں کیا مرتبہ تھا اور اب آپ پر کیا افترا پردازی ہو رہی ہے۔ حضرت محمد نے اس کےجواب میں قرآن کی چند آیتیں پڑھیں۔ اس کے بعد جانے لگے تو میں بھی آپ کے پیچھے چل پڑا۔ یہاں تک کہ آپ کے پاس حاضر ہو کر اسلام قبول کر لیا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ایک روز حضرت محمد ایک پہاڑی کے اوپر عبادت کر رہے تھے۔ ابوجہل نے دیکھاتو ایک پتھر کھینچ مارا جس سے آپ زخمی ہو گئے اور خون بہنے لگا۔ ایک شخص یہ منظر دیکھ رہا تھا۔ اسنے جا کر آپ کے چچا حمزہ سے کہا ’’اے حمزہ تمہاری غیرت کو کیاہوا۔ لوگ تمہارے بھتیجے کو پتھر مار رہے ہیں اور تم ان کی مدد نہیں کرتے۔‘‘ حمزہ ایک پہلوان آدمی تھے اور ابھی ابھی شکار سے واپس ہوئے تھے۔ان کے ہاتھ میں لوہے کی کمان تھی۔ اس کو لیے ہوئے سیدھے ابوجہل کے گھر گئے اور کمان اس زور سے اس کے سر پرماری کہ خون جاری ہو گیا۔ اس کے بعد حمزہ حضرت محمد کے پاس آئے اور کہا ’’بھتیجے! میں نے تمہارا بدلہ لے لیا۔‘‘ آپ نے فرمایا ’’چچا!! اگر آپ اسلام قبول کر لیتے تو یہ میرے لیے زیادہ خوشی کی بات ہوتی۔ ‘‘ اس کے بعد حمزہ مسلمان ہو گئے۔

حمزہ کے اسلام لانے کے بعد چند اور آدمی بھی مسلمان ہو گئے اور اب مسلمانوں کی تعداد 30 تک پہنچ گئی۔ قریش دارالندوہ (قبائلی پارلیمنٹ) میں جمع ہوئے تاکہ غورکریں کہ اسلام کے پھیلائوکوروکنے کے لیے کیا کیاجائے۔ عمر بن الخطاب نے جوش میں آ کر کہاکہ میں محمدکو قتل کر دیتا ہوں اور مکہ کو ان کے شرسے نجات دلا دیتا ہوں۔ عمر بڑے پختہ ارادہ کے آدمی تھے۔ ان کا قد اتنا لمبا تھاکہ ہجرت کے بعد جب مدینہ میں مسجد بنائی گئی اور عمر اس میں داخل ہوئے تو ان کا سر چھت سے ٹکرا گیا۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

قبیلہ بنی مالک بن کنانہ کے ایک شخص نے بیان کیاکہ میں نے رسول اللہ کو ذوالمجاز کے بازار میں چلتے ہوئے دیکھا۔ آپ کہہ رہے تھے کہ لوگو، لا الٰہ الا اللہ کہو، تم فلاح پائو گے۔ ابو لہب آپ پر مٹی پھینکتا اور کہتاکہ اس سے بچو ، ایسانہ ہو کہ وہ تم کو تمہارے دین سے گمراہ کردے۔ وہ چاہتا ہے کہ تم لوگ اپنے معبودوںکو چھوڑ دو۔ مگر رسول اللہ اس کی باتوں کی طرف کوئی توجہ نہ فرماتے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ابوسفیان اپنی بیوی ہندہ کو گھوڑے پر بٹھا کر اپنی کھیتی کی طرف روانہ ہوئے۔ ان کے لڑکے معاویہ آگے تھے۔ وہ اس وقت نوعمرتھے اور گدھے پر سوار تھے۔ اتنے میں حضرت محمد سامنے آتے ہوئے نظر پڑے۔ ابوسفیان نے کہا ، معاویہ تم اتر جائو تاکہ محمد اس پرسوار ہو جائیں۔ معاویہ کہتے ہیں کہ میں اتر گیااور حضرت محمد میرے گدھے پر سوار ہو کر ہمارے آگے آگے تھوڑی دیر چلے۔ پھر ہم لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر کہا ،اے سفیان بن حرب اور اے ہند بنت عتبہ ، خدا کی قسم یقینا تمہیں مرنا ہے۔ اس کے بعد تم دوبارہ زندہ کئے جائو گے۔ پھر جو نیک ہو گا ، جنت میں داخل ہو گا اورجو برا ہو گا جہنم میں جائے گا۔ ابوسفیان نے کہا کیا آپ کہہ کر فارغ ہو گئے۔ آپ نے کہا ہاں اور گدھے سے اتر گئے اور میں سوار ہو گیا۔ میری ماں ہندہ نے ابوسفیان سے کہا ’’کیا اسی جادوگرکے لیے تم نے میرے بیٹے کو سواری پر سے اتار دیا تھا۔ ‘‘ ابوسفیان نے کہا ، ’’خدا کی قسم وہ جادوگرنہیں ، وہ جھوٹا نہیں۔‘‘

unverifiedAttribution could not be verified automatically

ابوجہل کی ایک خادمہ تھی جس کانام سُمَیَّہ تھا۔ ابو جہل کو معلوم ہوا تو کہا نئے مذہب کو چھوڑ دو۔ سمیہ نے کہا کہ میں محمد کے مذہب کو نہیں چھوڑوں گی۔ابوجہل نے ان کو باندھ دیااور اتنے کوڑے مارے کہ ان کی حالت بگڑ گئی۔ حضرت ابو بکر جواب تک چھ غلاموں کو خرید کر آزاد کر چکے تھے۔ ابوجہل کے پاس پہنچے اور ایک سو دینار کی پیشکش کی۔جب وہ راضی نہ ہواتو کہا کہ ڈیڑھ سو دینار دوں گا۔ ابوجہل اب بھی راضی نہ ہواتو آپ نے کہا کہ تم جو بھی قیمت مانگو میں دینے کے لیے تیار ہوں۔ مگروہ کسی قیمت پر سُمیّہ کوفروخت کرنے پر تیار نہ ہوا۔ سُمیّہ دایہ گیری کا کام بھی کرتی تھیں۔ چنانچہ جن قریشی عورتوںکے یہاں بچوں کی پیدائش کے موقع پر انہوں نے مدد کی تھی ، سب نے ابوجہل سے سفارش کی کہ وہ سُمیّہ کو نہ مارے۔ مگر ابوجہل نے یہ درخواست بھی قبول نہ کی۔ابوجہل نے سُمَیَّہ کو اتنے کوڑے مارے کہ ان کا سارا بدن زخمی ہو گیا۔ حرکت کی تاب نہ رہی مگروہ یہی کہتی رہیں کہ محمد کے دین کونہ چھوڑوں گی۔آخر ابوجہل ایک روز سُمَیَّہ کو خانہ کعبہ کے پاس لے گیا اور سب کے سامنے کہا کہ تو محمد کےدین وک چھوڑتی ہے یا نہیں۔ سمیہ نے انکار کیا۔ ابوجہل نے اپنا نیزہ ان کے سینے پرمارا جو پیٹھ سے پار ہو کر نکل گیا۔ اور اس طرح تاریخِ اسلام میں سُمَیَّہ کو شہیدِ اول کا درجہ حاصل ہوا۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itunverifiedAttribution could not be verified automaticallyoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itquoted sourceQuoted from another author or sourceoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itunverifiedAttribution could not be verified automaticallyoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itquoted sourceQuoted from another author or sourceoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itother sourceWords of another person or sourceoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itunverifiedAttribution could not be verified automaticallyoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside ithadithQuotes a hadithquoted sourceQuoted from another author or sourceunverifiedAttribution could not be verified automaticallyoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside ithadithQuotes a hadithother sourceWords of another person or sourceoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itunverifiedAttribution could not be verified automaticallyoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itunverifiedAttribution could not be verified automatically