Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Sawal-o-jawab(Jild Awwal)
Sawal-o-jawab(Jild Awwal)

(Page-56)

Urdu · 3 min

سوال: آپ اکثر الرسالے میں لکھتے ہیں کہ موجودہ زمانے میں اسلامی دعوت کے مواقع کھل گئے ہیں، اور بلا روک ٹوک اسلامی دعوت کا کام کیا جا سکتا ہے، مگر کچھ لوگ ہیں جو اس کے خلاف بتاتے ہیں۔ مثلاً ایک مسلم حلقے کے ایک شاعر نے اپنے حلقے کے فکر کی ترجمانی ایک شعر میں اس طرح کی ہے: "جس نے بھی بات کی ہے نبی کے نظام کی، سنی پڑی ہے طنز اسے خاص و عام کی"۔ آخر یہ دو طرح کی بات کیوں؟ دونوں میں سے کون سی بات صحیح ہے؟

اقحار الرسالہ، دہلی۔ جواب: اس قسم کے اشعار سے کوئی بات ثابت نہیں ہوتی۔ شعر تو ایک لفظی تک بندی ہوتا ہے، اور لفظی تک بندی آپ جس طرح چاہیں کر سکتے ہیں، حتیٰ کہ متضاد انداز میں بھی۔ مثلاً مذکورہ شعر کو لفظ بدل کر اس طرح برعکس طور پر بھی کہا جا سکتا ہے: "جس نے بھی بات کی ہے نبی کے نظام کی، اس کو ملی ہے داد خواص و عوام کی"۔

آپ تاریخ کی روشنی میں دیکھیں تو معاملہ بالکل مختلف نظر آئے گا۔ یہ ایک مسلم تاریخی حقیقت ہے کہ نبی کی بات بیان کرنے والوں میں سے سب سے بڑا گروہ محدثین کا ہے، مگر تاریخ بتاتی ہے کہ صحابہ کرام کے بعد امت میں سب سے زیادہ عزت و احترام جس کو ملا، وہ یہی محدثین کا گروہ ہے۔ حتیٰ کہ آج بھی کسی دارالعلوم کے شیخ الحدیث کو جو مقبولیت حاصل ہوتی ہے، وہ کسی اور کو نہیں ملتی۔ اصل یہ ہے کہ مذکورہ شعر یا اس قسم کے بات کہنے والے دوسرے حضرات ایک مغالطے کا شکار ہیں: وہ نبی کی بات اور نبی کے نام پر اپنی بات کے فرق کو نہیں جانتے۔

نبی کی بات کو کہنا، اصل پیغام کو پہنچانا، ہمیشہ لوگوں کے درمیان پسندیدہ کام رہا ہے۔ موجودہ زمانے میں جو لوگ نظام مصطفیٰ کے نام پر تحریکیں چلاتے ہیں اور ان کو مسائل کا شکار ہونا پڑتا ہے، اس کا تعلق نبی کی بات سے نہیں ہے، بلکہ نبی کے نام پر حکمرانوں کے خلاف ٹکراؤ کی سیاست چلانے سے ہے۔ اور ٹکراؤ کی سیاست ہمیشہ ٹکراؤ پیدا کرتی ہے۔ نظام مصطفیٰ کے خود ساختہ علمبردار لوگ خود اپنی غیر پیغمبرانہ سیاست کی قیمت پا رہے ہیں، اور اس کو خلافِ واقعہ طور پر پیغمبر سے منسوب کرتے ہیں، صرف اس لیے کہ انہوں نے اپنی یہ غیر پیغمبرانہ سیاست پیغمبر کے نام پر چلائی تھی۔

کتاب: سوال و جواب، جلد اول، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 56۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.