سوال: تقدیر کیا ہے؟ انسان کا معاملہ تقدیر کے تحت ہے یا تدبیر کے تحت؟ اگر تقدیر کے تحت ہے تو اس کا مطلب ہے کہ انسان مجبور ہے۔ پھر انسان کا امتحان کیوں؟
اور اگر تدبیر کے تحت ہے تو سمجھ میں نہیں آتا، کیونکہ بہت سے معاملات میں انسان اپنے آپ کو بے بس پاتا ہے۔ محمد اسحاق، عمر آباد۔ جواب: یہ معاملہ پیچیدہ اس لیے نظر آتا ہے کہ لوگ اس معاملے میں "سنائی طرز فکر" یعنی ڈائیکاٹمس تھنکنگ کا شکار ہیں۔ یعنی وہ سمجھتے ہیں کہ یا تو سارا معاملہ تقدیر پر مبنی ہے یا سارا معاملہ تدبیر پر، حالانکہ یہ معاملہ ففٹی ففٹی کا ہے۔
یعنی جزئی طور پر تقدیری اور جزئی طور پر تدبیری۔ ایسا اس لیے ہے کہ انسان موجودہ دنیا میں— ایسا اس لیے ہے کہ انسان کو موجودہ دنیا میں آزمائش کے لیے رکھا گیا ہے، اور آزمائش کی مصلحت چاہتی ہے کہ ایسا ہی ہو۔ آدمی جب اپنے آپ کو مجبور محسوس کرے تو وہ عاجزانہ طور پر خدا کو پکارے، اور جب وہ اپنے آپ کو آزاد پائے تو وہ خدا کی اس نعمت پر اس کا شکر ادا کرے۔ قرآن میں خدا کے مطلوب بندوں کی تعریف ان الفاظ میں کی گئی ہے: يَدْعُونَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَطَمَعًا "السَّجْدَ سُلَى"۔
اسی طرح حدیث میں آیا ہے کہ "الْإِيمَانُ بَيْنَ الْخَوْفِ وَالرَّجَاءِ" ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو مطلوب ہے کہ بندے کے اوپر اپنے رب کی نسبت سے دو مختلف قسم کی کیفیات طاری ہوں: کبھی خوف کی کیفیت اور کبھی امید کی کیفیت۔ یہ دو طرفہ کیفیات کسی بندے کے اوپر صرف اسی وقت طاری ہو سکتی ہیں جبکہ وہ اس دنیا میں خوف کی حالت کا تجربہ کرے اور کبھی امید کی حالت کا۔ چونکہ حالات کے بغیر کیفیات پیدا نہیں ہو سکتیں، اس لیے انسان کو بیک وقت جبر اور اختیار کے دو طرفہ نظام کے تحت اس دنیا میں رکھا گیا۔
کتاب: سوال و جواب، جلد اول، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 51۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.