Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Saum-e- Ramazan
Saum-e- Ramazan

Inaam ki raat.

Urdu · 2 min

انعام کی رات حضرت ابوہریرہ کی ایک طویل روایت حدیث کی کتابوں میں آئی ہے۔ اس روایت کا ایک حصہ یہ ہے: يُغْفَرُ لَهُمْ فِي آخِرِ لَيْلَةٍ مِنْ رَمَضَانٍ، قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَهِيَ لَيْلَةُ الْقَدْرِ؟ قَالَ لَا وَلَكِنَّ الْعَامِلَ إِنَّمَا يُوَفَّى أَجْرُهُ إِذَا قَضَى عَمَلَهُ. مسند احمد جلد 2 صفحہ 292۔

یعنی رمضان کی آخری رات میں روزے دار بندوں اور بندیوں کی مغفرت کر دی جاتی ہے۔ کہا گیا کہ اے اللہ کے رسول، کیا اس رات سے مراد شب قدر ہے؟ آپ نے فرمایا کہ نہیں، بلکہ عمل کرنے والا جب عمل کرتا ہے تو عمل کے پورا ہونے کے بعد اس کو اس کا پورا اجر دے دیا جاتا ہے۔ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ امت محمدی کے وہ افراد جو روزے کی مطلوب اسپرٹ کے ساتھ روزہ رکھیں، مہینے کی آخری رات میں ان کے عمل کا پورا اجر ان کے ریکارڈ میں لکھ دیا جاتا ہے۔

رمضان کے مہینے کی اس آخری رات کو دوسری حدیث میں لیلۃ الجائزہ البیہقی کہا گیا ہے، یعنی انعام کی رات۔ ہر نیک عمل پر اللہ اپنے بندوں کو انعام دیتا ہے۔ رمضان کی عبادت کی اہمیت کی بنا پر اس حدیث میں اس کے انعام کا ذکر خصوصی انداز میں کیا گیا۔ عام طور پر ایسا ہوتا ہے کہ جب رمضان کا مہینہ ختم ہو جاتا ہے تو عید سے پہلے کی رات کو لوگ غفلت میں یا تماشے میں گزارتے ہیں، وہ اس میں شاپنگ کی دھوم مچاتے ہیں۔

یہ حدیث اس قسم کی غفلت کے لیے ایک انتباہ یعنی وارننگ کی حیثیت رکھتی ہے۔ انعام کی اس رات کا بہتر استعمال یہ ہے کہ اس رات کو زیادہ سے زیادہ دعا اور عبادت میں گزارا جائے، اور پورے مہینے کا محاسبہ کیا جائے، اور نئے سال کی دوبارہ منصوبہ بندی کی جائے۔ اس رات کو مصرفانہ شاپنگ جیسی چیزوں میں گزارنا اس بابرکت موقع کا ضیاع بھی ہے اور اس کی ناقدری بھی۔ حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ رمضان کے مہینے کو اس کی مطلوب اسپرٹ کے ساتھ گزاریں، وہ کبھی اس کا تحمل نہیں کر سکتے کہ رمضان کی آخری رات کو وہ غفلت اور تماشے میں گزار دیں۔

ان کے لیے مہینے کی آخری رات دعا اور عبادت کی رات ہوگی، نہ کہ غفلت کی رات۔ کتاب صوم رمضان، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 46۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.