← Saum-e- RamazanSaum-e- Ramazan
Roza aur eatekaf.
Urdu · 5 min
روزہ اور اعتکاف: رمضان کے مہینے میں عام طور پر آخری عشرے میں مسجد کے اندر اعتکاف کیا جاتا ہے۔ جو لوگ اعتکاف کرتے ہیں وہ ان دنوں میں دوسرے تعلقات کو منقطع کر کے مسجد میں بیٹھ جاتے ہیں۔ ناگزیر انسانی ضرورت کے سوا وہ کسی اور مقصد سے باہر نہیں نکلتے۔ مسجد میں خلوت نشیں ہو کر وہ اپنا زیادہ وقت عبادت اور ذکر اور دعا اور تلاوت قرآن میں گزارتے ہیں۔
اعتکاف کا لفظی مطلب خلوت نشینی یعنی سیکلوژن ہے۔ یہ اعتکاف کس لیے کیا جاتا ہے؟ حدیث میں اعتکاف کرنے والے کے بارے میں آیا ہے کہ هو يعتكف الذنوب مشکات المصابیح رقم 2108، یعنی وہ گناہوں سے اعتکاف کرتا ہے۔ گناہوں سے اعتکاف کرنے کا مطلب کیا ہے؟
اس کی وضاحت کرتے ہوئے محدث ناصر الدین الالباني وفات 1999 نے لکھا ہے کہ يحتبس عن الذنوب مشکات جلد 1 صفحہ 650، یعنی وہ اپنے آپ کو گناہوں سے روک لیتا ہے۔ اعتکاف کا مطلب سادہ طور پر صرف گناہ سے رکنا نہیں ہے، بلکہ روزے کی سپرٹ کو بھرپور طور پر اپنانے کے لیے اپنے آپ کو خلوت نشیں بنا لینا ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ اعتکاف کا مطلب ہے اپنے آپ کو مواقعِ گناہ سے ہٹا کر پوری طرح عملِ خیر میں مشغول کر لینا۔ اس پر غور کرتے ہوئے یہ سمجھ میں آتا ہے کہ اعتکاف کا اصل مقصد اپنے آپ کو ڈسٹریکشن سے بچانا ہے۔
گناہ خود بھی ایک قسم کا ڈسٹریکشن ہے۔ فطرت کی صراطِ مستقیم سے ہٹنا آدمی کو گناہ کی طرف لے جاتا ہے۔ اعتکاف ایک خصوصی تدبیر ہے جس کے ذریعے آدمی چند دنوں کے لیے مجبوری کی حالت پیدا کر کے اپنے آپ کو ڈسٹریکشن سے بچاتا ہے، تاکہ وہ بعد کے دنوں میں اختیارانہ طور پر اپنے آپ کو ہر قسم کے ڈسٹریکشن سے بچا کر صراطِ مستقیم پر قائم رہنے والا انسان بنا سکے۔ ترک و اختیار کا یہ معاملہ پوری زندگی سے تعلق رکھتا ہے۔
اس طریقے کو اختیار کیے بغیر کوئی شخص اپنی زندگی کو اسلامی زندگی نہیں بنا سکتا۔ روزے کے ذریعے آدمی کے اندر یہی سپرٹ پیدا کرنا مقصود ہے۔ اعتکاف بظاہر اپنے آپ کو اللہ کی عبادت کے لیے خاص کرنے کا نام ہے، لیکن اسلام میں عبادت اور رہبانیت یعنی موناسٹیسزم میں فرق کیا گیا ہے۔ اسلام کے مطابق رہبانیت ایک قسم کا غلو ہے، اور غلو اسلام میں جائز نہیں۔
لا غلو في الإسلام ایک صحابی رسول کا حسبِ ذیل واقعہ اس معاملے میں شریعت کی صحیح روح کو بتاتا ہے۔ طبرانی اور بیہقی نے حضرت عبداللہ ابن عباس کا ایک واقعہ نقل کیا ہے۔ روایت کے مطابق حضرت عبداللہ ابن عباس مدینے کی مسجد نبوی میں اعتکاف کی حالت میں تھے۔ ان کے پاس ایک آدمی آیا اور سلام کر کے بیٹھ گیا۔
عبداللہ ابن عباس نے کہا: "تم مجھ کو افسردہ اور غمگین دکھائی دیتے ہو۔ " اس آدمی نے کہا: "اے اللہ کے رسول کے چچا زاد بھائی! میرے اوپر فلاں شخص کا حق ہے، اور اس صاحبِ قبر یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کی قسم، میں اس کی ادائیگی پر قادر نہیں۔ " عبداللہ ابن عباس نے کہا: "کیا میں تمہارے بارے میں اس آدمی سے بات کروں أفلا أكلمه فيك اس شخص نے کہا: "ہاں، اگر آپ پسند فرمائیں۔
" اس کے بعد عبداللہ ابن عباس نے اپنے جوتے پہنے اور مسجد سے باہر نکل کر روانہ ہو گئے۔ اس آدمی نے کہا: "شاید آپ بھول گئے کہ آپ اس وقت حالتِ اعتکاف میں ہیں۔ " عبداللہ ابن عباس نے کہا: "نہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے۔ " اور یہ کہتے ہوئے عبداللہ ابن عباس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے کہ من مشى في حاجة أخيه وبلغ فيها كان خيرا له من اعتكاف عشر سنين الترغیب والترہیب، کتاب الصوم جلد 2 صفحہ 96، یعنی جو شخص اپنے بھائی کی حاجت برآری کے لیے چلا اور اس نے اس کے لیے کوشش کی، تو یہ اس کے لیے دس سال کے اعتکاف سے بہتر ہے۔
حضرت عبداللہ ابن عباس کے اس واقعے سے اسلامی عبادت اور اعتکاف کی روح معلوم ہوتی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بوقتِ ضرورت عبادت کے فارم میں ایڈجسٹمنٹ کیا جائے گا، لیکن عبادت کی روح کو ہر حال میں باقی رکھا جائے گا۔ کتاب صوم رمضان، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 35۔