Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Saum-e- Ramazan
Saum-e- Ramazan

Roza aur tazkiya-e-nafs.

Urdu · 2 min

روزہ اور تزکیہ نفس۔ روزہ ایک سچے انسان کے لیے ایک قسم کی یاد دہانی، یعنی ریمائنڈر ہے، اس بات کی یاد دہانی کہ تم خدا کی دنیا میں ہو۔ تم ایک ایسی دنیا میں ہو جس کو خدا نے بنایا ہے۔ اس دنیا کے مالک تم نہیں ہو، بلکہ خدا اس کا مالک ہے۔

یہاں تم اپنی مرضی کے ساتھ نہیں رہ سکتے۔ یہاں تم اپنی مرضی سے نہیں کھا سکتے۔ یہاں تم اپنی مرضی سے نہیں پی سکتے۔ یہاں تم اپنی مرضی سے نہیں بول سکتے۔

یہاں تم کو خدا کی مرضی کے مطابق رہنا ہے، نہ کہ خود اپنی مرضی کے مطابق۔ یہ کوئی سادہ بات نہیں۔ اس قسم کی روزے دارانہ زندگی صرف اس وقت ممکن ہے جبکہ انسان خدا کو معرفت، یعنی ریالائزیشن، کے درجے میں پائے۔ وہ اس حقیقت کو دریافت کرے کہ خدا کی اس دنیا میں بے قید زندگی گزارنے والوں کے لیے کوئی جگہ نہیں۔

خدا کی اس دنیا میں کامیابی کا راز پابند زندگی میں ہے، نہ کہ بے قید زندگی میں۔ رمضان کا مہینہ درحقیقت تزکیہ نفس، یعنی پیوریفیکیشن آف سول، کا مہینہ ہے۔ رمضان کے مہینے کا یہ تقاضا ہے کہ آدمی اپنی زندگی پر پھر سے غور، یعنی ری اسسمنٹ، کرے۔ وہ اپنے معاملات کا اثرِ نو جائزہ لے۔

وہ اپنی دینی اور دعوتی زندگی کی اثرِ نو منصوبہ بندی، یعنی ری پلاننگ، کرے۔ وہ اپنے دل و دماغ کی پھر سے تطہیر کرے۔ وہ اپنے اندر ایک نئی شخصیت کی تعمیر کرے۔ وہ دینی اور روحانی اعتبار سے پورے معنوں میں اپنا اوورہال کرے۔

یہی تزکیہ نفس ہے، اور یہی رمضان کا اصل مقصد ہے۔ جو شخص اس طرح رمضان کے شب و روز گزارے، وہی وہ شخص ہے جس نے رمضان کے مہینے کو پایا۔ اسی شخص کا روزہ حقیقی روزہ ہے جو اس معنی میں اس کے لیے تزکیہ نفس کا ذریعہ بن جائے۔ تزکیہ نفس مومن کے لیے ایک مستقل عمل ہے۔

وہ مومن کی زندگی میں روزانہ جاری رہتا ہے۔ لیکن رمضان کے مہینے میں مزید شدت کے ساتھ تزکیہ نفس کے اس عمل کو انجام دینا ممکن ہو جاتا ہے۔ کتاب "صوم رمضان"، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 25۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.