Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Saum-e- Ramazan
Saum-e- Ramazan

Daure zawal ka zahera.

Urdu · 2 min

دورِ زوال کا ظاہرہ: حضرت ابوذر غفاری کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «لَا تَزَالُ أُمَّتِي بِخَيْرٍ مَا عَجَّلُوا الْإِفْطَارَ وَأَخَّرُوا السَّحُورَ» مسند احمد، جلد 5، صفحہ 147۔ یعنی میری امت کے لوگ اس وقت تک خیر پر قائم رہیں گے جب تک کہ وہ افطار میں جلدی کریں گے اور سحری میں تاخیر کریں گے۔ اس حدیث میں "خیر" سے مراد دین کی روح، یعنی اسپرٹ ہے۔ اس حدیث کے مطابق رمضان کے مہینے میں افطار میں تعجیل اور سحری میں تاخیر اس بات کی علامت ہے کہ امت خیر پر ہے، یعنی امت کے اندر دین کی حقیقی روح زندہ ہے۔

اور جب معاملہ اس کے برعکس ہو جائے، یعنی لوگ افطار میں احتیاطی تاخیر کرنے لگیں اور وہ سحری میں احتیاطی تعجیل کرنے لگیں، تو یہ اس بات کی علامت ہوگی کہ امت کے اندر سے خیر نکل گیا۔ یعنی امت دین کی روح، یعنی اسپرٹ پر قائم نہیں ہے، بلکہ وہ صرف دین کی شکل، یعنی فارم پر قائم ہے۔ اور اس قسم کی حالت اللہ کے نزدیک مطلوب حالت نہیں۔ تعجیل یا تاخیر سے مراد تعجیل یا تاخیر نہیں ہے، بلکہ وقت کی ٹھیک ٹھیک پابندی ہے۔

افطار میں دیر کرنے کا مزاج کیوں ہوتا ہے، اور سحری میں جلدی کرنے کا مزاج کب پیدا ہوتا ہے؟ ایسا اس وقت ہوتا ہے جب کہ امت کے افراد میں روحِ دین باقی نہ رہے، وہ محض شکل کی بجا آوری کو دین سمجھنے لگیں۔ احتیاط کا ذہن ہمیشہ ظاہری صورت یا فارم کے بارے میں پیدا ہوتا ہے۔ لوگ ظاہری صورت کے اہتمام کو اہم چیز سمجھنے لگتے ہیں؛ ظاہری پہلو میں کمی ان کے نزدیک دین کو ناقص بناتی ہے۔

اور ظاہری پہلو میں اضافہ کر کے وہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے اپنے دین کو کامل کر لیا۔ مذکورہ حدیث میں اسی زوال یافتہ مزاج کی نشاندہی کی گئی ہے۔ زندہ دینداری آدمی کو اسپرٹ کانشیس بناتی ہے، اور جب زندہ دینداری باقی نہ رہے تو لوگ فارم کانشیس بن جاتے ہیں۔ اس حقیقت کا تعلق صرف روزے سے نہیں ہے، بلکہ تمام دینی اعمال سے ہے۔

کتاب صوم رمضان، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 22۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.