← Saum-e- RamazanSaum-e- Ramazan
Roza ki azmat.
Urdu · 5 min
روزے کی عظمت: حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزے کے بارے میں فرمایا: «كُلُّ عَمَلٍ ابْنَ آدَمَ يُضَاعَفُ الْحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا إِلَى سَبْعِمِئَةِ ضِعْفٍ». قال الله تعالى: «إِلَّا الصَّوْمَ فَإِنَّهُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ يَدَعُ شَهْوَتَهُ وَطَعَامَهُ مِنْ أَجْلِي». «لِّلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ: فَرْحَةٌ عِنْدَ فِطْرِهِ وَفَرْحَةٌ عِنْدَ لِقَاءِ رَبِّهِ». «وَلَخَلُوفُ فَمِّ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ، وَالصِّيَامُ جُنَّةٌ».
وإذا كان يوم صوم أحدكم فلا يرفث ولا يسخط، فإن سابه أحد أو قاتله فليقل: إني امرؤ صائم. صحیح مسلم، کتاب الصیام، باب فضل الصیام۔ انسان کے ہر عمل کی نیکی 10 گنا سے 700 گنا تک بڑھائی جاتی ہے۔ اللہ تعالی نے فرمایا کہ مگر روزہ، پس وہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا۔
روزے دار میرے لیے اپنی شہوت کو اور اپنے کھانے کو چھوڑتا ہے۔ روزے دار کے لیے دو خوشیاں ہیں: ایک خوشی اس کے افطار کے وقت، اور ایک خوشی اپنے رب سے ملاقات کے وقت۔ اور روزے دار کے منہ سے نکلنے والی بو، اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے بھی زیادہ بہتر ہے۔ اور روزہ ڈھال ہے۔
جب تم میں سے کسی کے روزے کا دن ہو تو وہ نہ بدگوئی کرے اور نہ جھگڑا کرے۔ اگر کوئی شخص اس کو گالی دے یا اس سے لڑائی کرے تو وہ کہہ دے کہ میں روزے دار ہوں۔ یہ روایت صحیحین میں اور حدیث کی دوسری کتابوں میں آئی ہے۔ اس سلسلے میں پہلا سوال یہ ہے کہ روزہ اللہ کے لیے ہے، اس کا مطلب کیا ہے؟
اس کا جواب قرآن سے معلوم ہوتا ہے۔ قرآن میں روزے کا حکم دیتے ہوئے ارشاد ہوا ہے: "رمضان کا مہینہ جس میں قرآن اتارا گیا، ہدایت ہے لوگوں کے لیے اور کھلی نشانیاں راستے کی، اور حق و باطل کے درمیان فیصلہ کرنے والا"۔ پس تم میں سے جو کوئی اس مہینے کو پائے، وہ اس کے روزے رکھے۔ البقرہ 185۔
اس کے مطابق نزول قرآن کے مہینے میں روزہ رکھنے کا حکم اس لیے دیا گیا کہ لوگ خصوصی تربیت کے ذریعے اپنے آپ کو تیار کریں کہ وہ قرآن کے حامل اور مبلغ بن سکیں۔ قرآن کو تمام لوگوں تک پہنچانا کوئی آسان کام نہیں۔ اس کے لیے ایسے انسان درکار ہیں جو اپنی ذات کے لیے جینے والے نہ ہوں، بلکہ وہ تمام تر اللہ کے لیے جینے والے ہوں۔ جن میں یہ حوصلہ ہو کہ وہ ایک ربانی مشن کے لیے اپنی خواہشات پر روک لگا دیں۔
جو پررونق زندگی کے بجائے خشک زندگی پر راضی ہو جائیں۔ جن کے اندر یہ برداشت ہو کہ وہ لوگوں کی منفی باتوں کا بھی مثبت جواب دے سکیں۔ جو شعوری اعتبار سے اتنا بلند ہوں کہ لوگوں کی مخالفتیں ان کو قرآنی مشن سے ہٹانے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ قرآن کے پیغام ہدایت کو اللہ کے تمام بندوں تک پہنچانا خالص اللہ کا کام ہے۔
اس میں کسی قسم کا کوئی دنیاوی فائدہ نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ نے اس کو صرف اپنا کام قرار دیا اور اس پر خصوصی انعام کا اعلان فرمایا۔ جو لوگ قرآن کا علم حاصل کریں، وہ اپنے اندر داعیانہ کردار پیدا کریں۔ وہ قرآن کے پیغام کو لوگوں کے لیے قابل قبول بنانے میں اپنی ساری کوشش صرف کر ڈالیں۔
جو یکطرفہ طور پر اس ذمہ داری کو قبول کریں کہ انہیں ہر قسم کی ناخوشگواریوں کو برداشت کرنا ہے، تاکہ اللہ کا پیغام لوگوں کے لیے قابل قبول ہو سکے، حتیٰ کہ اس مقصد کے لیے وہ بھوک اور پیاس کی مشقت برداشت کرنے کے لیے راضی ہو جائیں۔ ایسے لوگ اللہ کے خاص بندے ہیں، وہ اس کے مستحق ہیں کہ اللہ ان پر اپنی خصوصی نوازشوں کی بارش کرے۔ روزے دار کا اللہ کے لیے اپنی خواہشوں کو چھوڑنا یہ ہے کہ وہ ذاتی کامیابی کے بجائے اللہ کے دعوتی مشن کو اپنا مقصد بنائے۔ وہ خدا کی کتاب کے نزول کے مہینے میں خصوصی تربیتی کورس کے ذریعے اپنے آپ کو اس کے لیے تیار کرے کہ وہ خدا کے پیغام کو تمام انسانوں تک پہنچائے گا۔
وہ قرآن کی دعوت و تبلیغ کو اپنی زندگی کا مشن بنائے گا، نہ کہ ذاتی مفاد کے حصول کو۔ اس کی زندگی کا مرکز و محور قرآن ہوگا اور صرف قرآن۔ کتاب: صوم رمضان، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 7۔