Maulana Wahiduddin Khan
5 min left
0:00

← Raz e Hayat
Raz e Hayat

اعتراف نہیں

Urdu · 5 min read

نئی دہلی کے ایک خاندان کو ٹیلی گرام ملا۔ اس کا مضمون یہ تھا 

Nani expired

یعنی نانی کا انتقال ہو گیا۔ یہ ٹیلی گرام پڑھ کر گھر کے سب لوگ پریشان ہو گئے۔ پورا خاندان فوری طور پر اس مقام کے لیے روانہ ہو گیا جہاں مذکورہ نانی رہتی تھیں اور جہاں سے ٹیلی گرام موصول ہوا تھا۔ یہ لوگ جب گھبرائے ہوئے اور کافی پیسہ خرچ کر کے مذکورہ مقام پر پہنچے تو وہاں نانی صاحبہ زندہ سلامت موجود تھیں۔

معلوم ہوا کہ ٹیلی گرام کا اصل مضمون یہ تھا کہ نانی پہنچ گئیں (Nani reached) مگر وہ موصول کرنے والے کلرک کی غلطی سے نانی انتقال کر گئیں (Nani expired) بن گیا۔ (ٹائمس آف انڈیا، 6دسمبر 1983)

ٹیلی گراف آفس کو اس افسوسناک غلطی کی طرف توجہ دلائی گئی۔ مگر اس کا جو نتیجہ ہوا وہ اخبار کے الفاظ میں یہ تھا 

The P&T department has not yet accepted the charge of inefficiency, regrets only the inconvenience, if any.

The Times of India, 7.12.1985

محکمہ ڈاک وتارنے اپنی غفلت تسلیم نہیں کی۔ اس نے صرف یہ کہا کہ اگر اس کی وجہ سے کوئی زحمت ہو ئی ہو تو اس کو اس کا افسوس ہے۔

اوپر کی مثال صرف محکمہ تار کی مثال نہیں۔ یہی موجودہ زمانہ میں تمام لوگوں کا حال ہے۔ ’’ میں نے غلطی کی ‘‘ صرف چار الفاظ کا ایک جملہ ہے۔ مگر چار الفاظ کا یہ جملہ ادا کرنے والے چار انسان بھی مشکل سے آج کی دنیا میں ملیں گے۔ لوگوں کی ڈکشنری میں صرف یہ الفاظ ہیں کہ ’’تم غلطی پر ہو ‘‘۔ لوگوں کی ڈکشنری ان الفاظ سے خالی ہے کہ ’’ میں غلطی پر ہوں ‘‘۔ آج کا انسان کسی قیمت پر اپنی غلطی کو نہیں مانتا، خواہ اس کی خاطر اسے حقیقت کو ذبح کرنا پڑے۔ خواہ ایک غلطی کو نہ ماننے کی کوشش میں وہ مزید بےشمار غلطیاں کرتا چلا جائے۔

اعتراف

اردو زبان کے ایک استاد کلاس میں غزل پڑھا رہے تھے۔ اس درمیان میں ایک مصرعہ آیا جو کتاب میں اس طرح چھپا ہوا تھا

پنجۂ سل سے کھلیں گے عقدهٔ گیسوئے دوست

استاد نے اس مصرعہ کی تشریح ان الفاظ میں کی— پنجۂ سل کا مطلب ہے سل کا پنجہ۔ كھلیں گے ، یعنی وا ہو جائیں گے۔ عقدہ یعنی گرہ۔ گیسو ئے دوست، یعنی محبوب کے گیسو۔ مصرعہ کا مطلب یہ ہے کہ محبوب کے گیسو پنجۂ سل سے کھل جائیں گے۔

other sourceWords of another person or source

طلبہ حیرانی میں تھے۔ کیوں کہ استاد کی مذکورہ تشریح کے باوجود مصرعہ کا مطلب واضح نہیں ہوا تھا۔ انھوں نے نظم کے الفاظ کو نثر میں دہرا دیا تھا۔ اتنے میں کلاس کا ایک ذہین طالب علم اٹھا۔ اس نے کہا 

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

’’ سر ، میں ایک بات کہنا چاہتا ہوں ‘‘

’’ کہو ‘‘

’’ سر ، یہ شاید طباعت کی غلطی ہے۔ میرے خیال سے یہ پنجۂ سل نہیں بلکہ پنجۂ شل ہے۔ اور شل کے معنی ہیں بے جان۔ کنگھا انسانی پنجہ کے مشابہ ہوتا ہے۔ بے جان ہونے کی وجہ سے شاعر نے اس کو پنجۂ شل کہا۔ شاعر افسوس کر رہا ہے کہ ہماری جاندار انگلیاں تو محبوب کی زلف کو سنوار نہ سکیں۔ اور کنگھا جس کی انگلیاں بے جان ہیں اور وہ گویا پنجۂ شل ہے ، اس کی خوش بختی دیکھو کہ اس نے زلف محبوب کے بل کھول کر اس کو سنوار دیا ‘‘۔

طالب علم کی اس وضاحت کے بعد کلاس کے تمام طلبہ خوش ہو گئے۔ ان کو محسوس ہوا کہ استاد کی تشریح کے باوجود جو مصرعہ بد ستور نا قابل فہم بنا ہوا تھا اس کو طالب علم کی تشریح نے قابل فہم بنا دیا ہے مگر استاد محترم اپنی ہار ماننے والے نہیں تھے۔ انھوں نے فوراً کہا

درست، درست۔ پنجۂ سل اور پنجۂ شل ایک ہی بات ہے۔

حقیقت کھل جانے کے بعد آدمی اگر اس کا اعتراف نہ کرے تو گویا وہ چاہتا ہے کہ اپنے آپ کو بڑا اور حقیقت کو چھوٹا ثابت کرے۔ مگر چوں کہ امر واقعہ اس کے خلاف ہے۔ اس لیے عملاً صرف یہ ہوتا ہے کہ آدمی خودچھوٹا ہو کر رہ جاتا ہے۔

اعتراف

ایک نوجوان کھلاڑی کو ایک فٹ بال ٹیم میں شامل ہو کر میچ کھیلنا پڑا۔ اتفاق سے اس کی ٹیم ہار گئی۔ ہارنے کے بعد نوجوان نے اپنے باپ کو خط لکھا  ہمارے مخالفوں کو ہماری دفاعی لائن میں ایک زبردست شگاف مل گیا تھا۔ اور وہ شگاف میں ہی تھا۔

یہ اعتراف کسی آدمی کے لیے سب سے بڑی بہادری ہے اور یہی تمام اجتماعی ترقیوں کی جان بھی ہے۔ ہر شکست ’’ دفاعی لائن میں کسی شگاف ‘‘ ہی کی وجہ سے پیش آتی ہے۔ اور اس کا بہترین علاج اس کا اعتراف ہے۔ اعتراف کے ذریعہ اصل مسئلہ بغیر کسی مزید خرابی کے حل ہو جاتا ہے۔ اعتراف کرنے والا یا تو اپنی کمی کا احساس کرتے ہوئے اپنے آپ کو میدان سے ہٹا دیتا ہے۔ اور اس طرح دوسرے بہتر لوگوں کو کام کرنے کا موقع دیتا ہے۔ یا وہ اپنی ہار کو وقتی معاملہ سمجھ کر مزید تیاریوں میں لگ جاتا ہے۔ یہاں تک کہ بالآخر کامیاب ہو جاتا ہے۔

زندگی کی سب سے بڑی حقیقت اعتراف ہے۔ ایمان ایک اعتراف ہے۔ کیونکہ ایمان لا کر آدمی اپنے مقابلہ میں خدا کی بڑائی کا اقرار کرتا ہے۔ لوگوں کے حقوق کی ادائیگی اعتراف ہے۔ کیونکہ ان پر عمل کر کے ایک شخص بین انسانی ذمہ داریوں کا اقرار کرتا ہے۔ تو بہ ایک اعتراف ہے کیونکہ اس کے ذریعہ سے آدمی اس حقیقت کا اقرار کرتا ہے کہ صحیح وہ ہے جو خدا کے نزدیک صحیح ہے اور غلط وہ ہے جو خدا کے نزدیک غلط ہے۔ زندگی کی ہر قسم کی اصلاح کا راز اعتراف میں چھپا ہوا ہے۔ کیونکہ انسان ہمیشہ غلطی کرتا ہے۔ اگر وہ اعتراف نہ کرے تو اس کی غلطیوں کی اصلاح کی دوسری کوئی صورت نہیں۔

اعتراف تمام ترقیوں کا دروازہ ہے۔ مگر بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ آدمی اپنے آپ کو اعتراف کے لیے آمادہ کر سکے۔ جب بھی ایسا کوئی موقع آتاہے تو آدمی اس کو اپنی عزت کا سوال بنا لیتا ہے۔ وہ اپنی غلطی ماننے کے بجائے اس پر پردہ ڈالنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ خرابی بڑھتی چلی جاتی ہے۔ حتیٰ کہ وہ وقت آجاتا ہے کہ جس غلطی کا صرف زبانی اقرار کر لینے سے کام بن رہا تھا اس غلطی کا اسے اپنی بربادی کی قیمت پر اعتراف کرنا پڑتا ہے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content