Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Raz e Hayat
Raz e Hayat

بنیاد

Urdu · 2 min read

مکان کی تعمیر کا آغاز بنیاد سے ہوتا ہے۔ ایک انجینئر کو ’’ اسکائی اسکریپر ‘‘ بنانا ہو تب بھی وہ بنیاد ہی سے اس کا آغاز کرے گا۔ بنیاد سے آغاز کرنا دوسرے لفظوں میں اس حقیقت واقعہ کا اعتراف کرنا ہے کہ آدمی کہاں کھڑا ہوا ہے اور وہ کون سا نقطہ ہے جہاں سے وہ اپنے سفر کا آغاز کر سکتا ہے۔

اس دنیا میں ہم اکیلے نہیں ہیں۔ یہاں ایک طرف قدرت (نیچر) ہے جو ہم سے الگ خود اپنے قوانین پر قائم ہے۔ اسی کے ساتھ یہاں دوسرے انسان ہیں۔ ان میں سے ہر انسان کے سامنے اپنا مقصد ہے اور ہر شخص اپنے مقصد کو حاصل کرنا چاہتا ہے۔ ایسی حالت میں ضروری ہے کہ ہم ان حقیقتوں کو جانیں اور ان کی رعایت کرتے ہوئے اپنا مقصد حاصل کرنے کی کوشش کریں۔

زندگی کا سب سے بڑا راز حقیقت واقعہ کا اعتراف ہے۔ اعتراف کرنے والا آدمی اس بات کا ثبوت دیتا ہے کہ وہ جس طرح اپنے ’’ ہے‘‘ کو جانتا ہے اسی طرح وہ اپنے ’’ نہیں ‘‘ سے بھی واقف ہے۔ وہ ایک طرف اگر یہ جانتا ہے کہ کیا چیز اس کے لیے قابل حصول ہے تو اسی کے ساتھ وہ اس سے بھی باخبر ہے کہ کیا چیز اس کے لیے قابل حصول نہیں۔ وہ آغاز اور انجام کے فرق کو جانتا ہے۔ اس کو معلوم ہے کہ اپنا پہلا قدم اسے کہاں سے اٹھانا ہے اور وہ کون سا مقام ہے جہاں وہ آخر کار اپنے آپ کو پہنچانا چاہتا ہے۔

اعتراف بزدلی نہیں، اعتراف سب سے بڑی بہادری ہے۔ اعتراف کر کے آدمی بے عزت نہیں ہوتا،وہ عزت کے سب سے بڑےمقام کو پا لیتا ہے۔ جو شخص اعتراف نہ کرے وہ گویا فرضی خیالات میں جی رہا ہے۔ اس کے بر عکس جو شخص اعتراف کرے وہ اس بات کا ثبوت دیتا ہے کہ اس نے فرضی تخیلات کے طلسم کو توڑ دیا ہے۔ وہ حقائق کی دنیا میں سانس لے رہا ہے۔ وہ چیزوں کو ویسا ہی دیکھ رہا ہے جیسا کہ وہ فی الواقع ہیں۔

چیزوں کو ان کی اصل صورت میں دیکھنا دانش مندی کا آغاز ہے۔ جس آدمی کے اندر یہ صلاحیت ہو وہی کامیابی کے آخری زینہ پر پہنچتا ہے۔ جس آدمی کے اندر یہ صلاحیت نہ ہو وہ یا تو اپنا سفر شروع نہ کر سکے گا اور اگر سفر شروع ہو گیا تب بھی وہ درمیان میں اٹک کر رہ جائے گا۔ وہ کبھی آخری منزل تک نہیں پہنچ سکتا۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.